پیر‬‮ ، 12 جنوری‬‮ 2026 

آزادی مارچ،آخر ی وقت میں مولانا فضل الرحمان کیساتھ ن لیگ کیاسلوک کرے گی؟ بڑا دعویٰ کر دیا گیا

datetime 17  ستمبر‬‮  2019 |

اسلام آباد( این این آئی) پاکستان تحریک انصاف کے سینئر مرکزی رہنماو سابق وفاقی وزیر ہمایوں اختر خان نے کہا ہے کہ مولانا فضل الرحمان قوم کو بتائیں آزادی مارچ کس کیلئے کر رہے ہیں ، پیپلز پارٹی پہلے ہی شمولیت نہ کرنے کا واضح اعلان کر چکی ہے اور آخر ی وقت میں مسلم لیگ (ن) بھی اس میں شریک نہیں ہو گی ،سابقہ حکمرانوں نے ملک میں جو خرابیاں پیدا کی ہیں

انہیں ایک سال میں ٹھیک نہیں کیا جا سکتا ، نئے قرضے سابقہ قرضوں اور ان پر سود کی ادائیگی کی مد میں ادا ہو رہے ہیں ۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے اپنے دفتر میں ملاقات کیلئے آنے والے وفود سے گفتگو کرتے ہوئے کیا ۔ ہمایوں اختر خان نے کہا کہ اقتصادی ٹیم کو وزیر اعظم عمران خان کا اعتماد حاصل ہے انشا اللہ ہم اس ملک کو مسائل کی دلدل سے باہر نکالیں گے ۔ معیشت کے استحکام کیلئے دنیا میں جو سٹینڈرڈ موجود ہیں موجودہ حکومت اس کے مطابق عمل پیرا ہے اور ہماری معیشت میں استحکام آرہا ہے ۔ ملک میں بڑی انڈسٹری کیلئے مشینری امپورٹ ہونا شروع ہو گئی ہے ، تجارتی خسارے میں کمی آئی ہے جبکہ ہماری برآمدات میں بھی اضافہ ہوا ہے اور یہ مثبت اشاریے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ مسلم لیگ (ن) کی حکومت نے اپنے دور میں انتہائی مہنگے کمرشل قرضے لئے جومعیشت کے سر پر اژدھا بن کر کھڑے ہیں ۔ حکومت ایسے اقدامات اٹھا رہی ہے کہ قرضوں کا حجم کم ہو اور انشا اللہ پانچ سال بعد جب ہماری حکومت مدت پوری کرے گی تو ماضی کے برعکس قرضوں کا بوجھ بڑھنے کی بجائے اس میں کمی ہو گی ۔ انہوں نے کہا کہ اگر مولانا فضل الرحمان کشمیر کیلئے آزادی مارچ کر رہے ہیں تو ہم بھی اس میں شریک ہونے کیلئے تیار ہیں ۔ قوم کو بتائیں وہ آزادی مارچ کس کیلئے کر رہے ہیں ۔ پیپلز پارٹی ان کے آزادی مارچ میں شرکت سے لاتعلقی کر چکی ہے جبکہ و قت آنے پر مسلم لیگ (ن) بھی ان کا ساتھ نہیں دے گی ۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے کامیاب سفارتکاری کے ذریعے کشمیر کے مسئلے کو پوری دنیا میں اجاگر کیا ہے اور انشا اللہ بھارت کو اس محاذ پر پسپائی کا سامنا کرنا پڑے گا۔

موضوعات:

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



سہیل آفریدی کا آخری جلسہ


وہ جنرل کے سامنے بیٹھا‘ تھوڑی دیر دائیں بائیں…

ذورین نظامانی غلط نہیں کہہ رہا

والد صاحب نے مجھے پکڑ لیا‘ ان کے ہاتھ میں جوتا…

پرسی پولس

شیراز ریجن کا اصل کمال پرسی پولس (Persepolis) ہے‘ یہ…

سائرس یا ذوالقرنین

میرے سامنے پتھروں کی مستطیل عمارت تھی‘ فرش کے…

ایک دن ذوالقرنین کے مقبرے پر

میدان کی پچھلی جانب پہاڑ تھے‘ ان پر تازہ برف…

کام یابی کے دو فارمولے

کمرہ صحافیوں سے بھرا ہوا تھا‘ دنیا جہاں کا میڈیا…

وزیراعظم بھینسیں بھی رکھ لیں

جمشید رتن ٹاٹا بھارت کے سب سے بڑے کاروباری گروپ…

جہانگیری کی جعلی ڈگری

میرے پاس چند دن قبل ایک نوجوان آیا‘ وہ الیکٹریکل…

تاحیات

قیدی کی حالت خراب تھی‘ کپڑے گندے‘ بدبودار اور…

جو نہیں آتا اس کی قدر

’’آپ فائز کو نہیں لے کر آئے‘ میں نے کہا تھا آپ…

ویل ڈن شہباز شریف

بارہ دسمبر جمعہ کے دن ترکمانستان کے دارالحکومت…