جمعرات‬‮ ، 15 جنوری‬‮ 2026 

نوبیل امن انعام یافتہ پاکستانی طالبہ ملالہ یوسف زئی کو مہینے سے زیادہ گزرنے کے بعد بالاخرمقبوضہ کشمیر کے انسانی حقوق بھی نظرآگئے،بڑا مطالبہ کردیا‎

datetime 14  ستمبر‬‮  2019 |

اسلام آباد (آن لائن)نوبیل امن انعام یافتہ پاکستانی طالبہ ملالہ یوسف زئی نے مقبوضہ کشمیرکی موجودہ صورتحال پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔کشمیرمیں بچوں، جوانوں سمیت ہزاروں افراد کی گرفتاریوں پرشدید تشویش ہے، 40 روز سے بچے اسکول نہیں جاسکے، لڑکیاں گھر سے باہر نکلتے ہوئے ڈرتی ہیں سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر جاری بیان میں ملالہ نے کہا کہ

میری کشمیر میں رہنے اور کام کرنے والے صحافیوں، انسانی حقوق کے کارکنوں اور طلبا سے بات ہوئی، کشمیر میں مواصلاتی نظام کے بلیک آؤٹ کی وجہ سے اس رابطے میں بہت مشکل ہوئی۔ملالہ نے کہا کہ کشمیریوں کا رابطہ دنیا سے منقطع ہے اور وہ اپنی آواز دنیا تک پہنچانے سے قاصر ہیں، کشمیری لڑکیوں نے مجھے بتایا کہ کشمیر کی صورتحال پر کہا جاسکتا ہے کہ وہاں مکمل خاموشی ہے۔ملالہ نے مزید کہا کہ کشمیری لڑکیوں کا کہنا تھا کہ ہمارے پاس کوئی ذریعہ نہیں کہ ہم جان سکیں ہمارے ساتھ کیا ہورہا ہے، انہوں نے بتایا کہ ہم بس اپنے گھروں کے باہر بھارتی فوجیوں کے بوٹوں کی آواز سنتے ہیں جو بہت خوفزدہ کرنے والی بات ہے۔ملالہ نے کہا کہ کشمیرمیں بچوں، جوانوں سمیت ہزاروں افراد کی گرفتاریوں پرشدید تشویش ہے، 40 روز سے بچے اسکول نہیں جاسکے، لڑکیاں گھر سے باہر نکلتے ہوئے ڈرتی ہیں۔انہوں نے اقوام متحدہ اور دیگرعالمی رہنماؤں سے مطالبہ کیا کہ کشمیر میں امن کیلئے کام کریں،عالمی رہنما کشمیریوں کی آواز سنیں اور بچوں کا دوبارہ سے اسکول جانا ممکن بنوائیں۔ ملالہ یوسف زئی نے مقبوضہ کشمیرکی موجودہ صورتحال پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔کشمیرمیں بچوں، جوانوں سمیت ہزاروں افراد کی گرفتاریوں پرشدید تشویش ہے، 40 روز سے بچے اسکول نہیں جاسکے، لڑکیاں گھر سے باہر نکلتے ہوئے ڈرتی ہیں سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر جاری بیان میں ملالہ نے کہا کہ میری کشمیر میں رہنے اور کام کرنے والے صحافیوں، انسانی حقوق کے کارکنوں اور طلبا سے بات ہوئی، کشمیر میں مواصلاتی نظام کے بلیک آؤٹ کی وجہ سے اس رابطے میں بہت مشکل ہوئی۔

موضوعات:

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



ونڈر بوائے


یہ بنیادی طور پر تین پاشائوں کی کہانی ہے‘ طلعت…

سہیل آفریدی کا آخری جلسہ

وہ جنرل کے سامنے بیٹھا‘ تھوڑی دیر دائیں بائیں…

ذورین نظامانی غلط نہیں کہہ رہا

والد صاحب نے مجھے پکڑ لیا‘ ان کے ہاتھ میں جوتا…

پرسی پولس

شیراز ریجن کا اصل کمال پرسی پولس (Persepolis) ہے‘ یہ…

سائرس یا ذوالقرنین

میرے سامنے پتھروں کی مستطیل عمارت تھی‘ فرش کے…

ایک دن ذوالقرنین کے مقبرے پر

میدان کی پچھلی جانب پہاڑ تھے‘ ان پر تازہ برف…

کام یابی کے دو فارمولے

کمرہ صحافیوں سے بھرا ہوا تھا‘ دنیا جہاں کا میڈیا…

وزیراعظم بھینسیں بھی رکھ لیں

جمشید رتن ٹاٹا بھارت کے سب سے بڑے کاروباری گروپ…

جہانگیری کی جعلی ڈگری

میرے پاس چند دن قبل ایک نوجوان آیا‘ وہ الیکٹریکل…

تاحیات

قیدی کی حالت خراب تھی‘ کپڑے گندے‘ بدبودار اور…

جو نہیں آتا اس کی قدر

’’آپ فائز کو نہیں لے کر آئے‘ میں نے کہا تھا آپ…