پیر‬‮ ، 17 اگست‬‮ 2026 

نوبیل امن انعام یافتہ پاکستانی طالبہ ملالہ یوسف زئی کو مہینے سے زیادہ گزرنے کے بعد بالاخرمقبوضہ کشمیر کے انسانی حقوق بھی نظرآگئے،بڑا مطالبہ کردیا‎

datetime 14  ستمبر‬‮  2019 |

اسلام آباد (آن لائن)نوبیل امن انعام یافتہ پاکستانی طالبہ ملالہ یوسف زئی نے مقبوضہ کشمیرکی موجودہ صورتحال پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔کشمیرمیں بچوں، جوانوں سمیت ہزاروں افراد کی گرفتاریوں پرشدید تشویش ہے، 40 روز سے بچے اسکول نہیں جاسکے، لڑکیاں گھر سے باہر نکلتے ہوئے ڈرتی ہیں سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر جاری بیان میں ملالہ نے کہا کہ

میری کشمیر میں رہنے اور کام کرنے والے صحافیوں، انسانی حقوق کے کارکنوں اور طلبا سے بات ہوئی، کشمیر میں مواصلاتی نظام کے بلیک آؤٹ کی وجہ سے اس رابطے میں بہت مشکل ہوئی۔ملالہ نے کہا کہ کشمیریوں کا رابطہ دنیا سے منقطع ہے اور وہ اپنی آواز دنیا تک پہنچانے سے قاصر ہیں، کشمیری لڑکیوں نے مجھے بتایا کہ کشمیر کی صورتحال پر کہا جاسکتا ہے کہ وہاں مکمل خاموشی ہے۔ملالہ نے مزید کہا کہ کشمیری لڑکیوں کا کہنا تھا کہ ہمارے پاس کوئی ذریعہ نہیں کہ ہم جان سکیں ہمارے ساتھ کیا ہورہا ہے، انہوں نے بتایا کہ ہم بس اپنے گھروں کے باہر بھارتی فوجیوں کے بوٹوں کی آواز سنتے ہیں جو بہت خوفزدہ کرنے والی بات ہے۔ملالہ نے کہا کہ کشمیرمیں بچوں، جوانوں سمیت ہزاروں افراد کی گرفتاریوں پرشدید تشویش ہے، 40 روز سے بچے اسکول نہیں جاسکے، لڑکیاں گھر سے باہر نکلتے ہوئے ڈرتی ہیں۔انہوں نے اقوام متحدہ اور دیگرعالمی رہنماؤں سے مطالبہ کیا کہ کشمیر میں امن کیلئے کام کریں،عالمی رہنما کشمیریوں کی آواز سنیں اور بچوں کا دوبارہ سے اسکول جانا ممکن بنوائیں۔ ملالہ یوسف زئی نے مقبوضہ کشمیرکی موجودہ صورتحال پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔کشمیرمیں بچوں، جوانوں سمیت ہزاروں افراد کی گرفتاریوں پرشدید تشویش ہے، 40 روز سے بچے اسکول نہیں جاسکے، لڑکیاں گھر سے باہر نکلتے ہوئے ڈرتی ہیں سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر جاری بیان میں ملالہ نے کہا کہ میری کشمیر میں رہنے اور کام کرنے والے صحافیوں، انسانی حقوق کے کارکنوں اور طلبا سے بات ہوئی، کشمیر میں مواصلاتی نظام کے بلیک آؤٹ کی وجہ سے اس رابطے میں بہت مشکل ہوئی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)


جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…