بدھ‬‮ ، 20 مئی‬‮‬‮ 2026 

نوبیل امن انعام یافتہ پاکستانی طالبہ ملالہ یوسف زئی کو مہینے سے زیادہ گزرنے کے بعد بالاخرمقبوضہ کشمیر کے انسانی حقوق بھی نظرآگئے،بڑا مطالبہ کردیا‎

datetime 14  ستمبر‬‮  2019 |

اسلام آباد (آن لائن)نوبیل امن انعام یافتہ پاکستانی طالبہ ملالہ یوسف زئی نے مقبوضہ کشمیرکی موجودہ صورتحال پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔کشمیرمیں بچوں، جوانوں سمیت ہزاروں افراد کی گرفتاریوں پرشدید تشویش ہے، 40 روز سے بچے اسکول نہیں جاسکے، لڑکیاں گھر سے باہر نکلتے ہوئے ڈرتی ہیں سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر جاری بیان میں ملالہ نے کہا کہ

میری کشمیر میں رہنے اور کام کرنے والے صحافیوں، انسانی حقوق کے کارکنوں اور طلبا سے بات ہوئی، کشمیر میں مواصلاتی نظام کے بلیک آؤٹ کی وجہ سے اس رابطے میں بہت مشکل ہوئی۔ملالہ نے کہا کہ کشمیریوں کا رابطہ دنیا سے منقطع ہے اور وہ اپنی آواز دنیا تک پہنچانے سے قاصر ہیں، کشمیری لڑکیوں نے مجھے بتایا کہ کشمیر کی صورتحال پر کہا جاسکتا ہے کہ وہاں مکمل خاموشی ہے۔ملالہ نے مزید کہا کہ کشمیری لڑکیوں کا کہنا تھا کہ ہمارے پاس کوئی ذریعہ نہیں کہ ہم جان سکیں ہمارے ساتھ کیا ہورہا ہے، انہوں نے بتایا کہ ہم بس اپنے گھروں کے باہر بھارتی فوجیوں کے بوٹوں کی آواز سنتے ہیں جو بہت خوفزدہ کرنے والی بات ہے۔ملالہ نے کہا کہ کشمیرمیں بچوں، جوانوں سمیت ہزاروں افراد کی گرفتاریوں پرشدید تشویش ہے، 40 روز سے بچے اسکول نہیں جاسکے، لڑکیاں گھر سے باہر نکلتے ہوئے ڈرتی ہیں۔انہوں نے اقوام متحدہ اور دیگرعالمی رہنماؤں سے مطالبہ کیا کہ کشمیر میں امن کیلئے کام کریں،عالمی رہنما کشمیریوں کی آواز سنیں اور بچوں کا دوبارہ سے اسکول جانا ممکن بنوائیں۔ ملالہ یوسف زئی نے مقبوضہ کشمیرکی موجودہ صورتحال پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔کشمیرمیں بچوں، جوانوں سمیت ہزاروں افراد کی گرفتاریوں پرشدید تشویش ہے، 40 روز سے بچے اسکول نہیں جاسکے، لڑکیاں گھر سے باہر نکلتے ہوئے ڈرتی ہیں سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر جاری بیان میں ملالہ نے کہا کہ میری کشمیر میں رہنے اور کام کرنے والے صحافیوں، انسانی حقوق کے کارکنوں اور طلبا سے بات ہوئی، کشمیر میں مواصلاتی نظام کے بلیک آؤٹ کی وجہ سے اس رابطے میں بہت مشکل ہوئی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



تھینک گاڈ


برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…

آپریشن بنیان المرصوص(دوسرا حصہ)

ظہیر احمد بابر کا کیریئر بظاہر ائیر کموڈور پر…

آپریشن بنیان المرصوص

میری درخواست ہے آپ تھوڑی دیر کے لیے اپریل 2025ء…

مذاکرات کی اندرونی کہانی

پاکستان میں ایران کے سفیر رضا امیری مقدم ہیں‘…

گریٹ گیم (آخری حصہ)

میں اس سوال کی طرف آئوں گا لیکن اس سے قبل ایک حقیقت…