پیر‬‮ ، 17 اگست‬‮ 2026 

پارٹیزن سیفٹی کمیشن میں کرپٹ ممبران کی نامزدگی،سندھ حکومت کا ڈرامہ بے نقاب ہوگیا،سزایافتہ افرادکی شمولیت سوالیہ نشان بن گئی

datetime 12  ستمبر‬‮  2019 |

کراچی (این این آئی) سندھ حکومت کی جانب سے پولیس اصطلاحات میں سیاسی مداخلت۔پیپلز پارٹی کے کرپٹ ترین افراد کو کمیشن میں نامزد کرکے پارٹیزن سیفٹی کمیشن ڈرامہ بے نقاب کردیا پارٹیزن سیفٹی کمیشن میں عدالتوں سے سزا یافتہ سابق وزیر شرجیل انعام میمن۔کٹھ پتلی ایم پی اے عماد پتافی اور شمیم ممتاز قوم ممبرز نامزد کر دیا

پارٹیزن سیفٹی کمیشن میں غیرجانبدار اور آزاد ممبران کی جگہ سیاسی ممبران شامل کرکے نئے منظور شدہ آرڈینینس کی دھجیاں بکھیر دیں المیہ یہ ہے کہ سندھ ہائیکورٹ میں سول سوسائٹی کی جانب سے درخواست گزار کرامت علی اور ناظم حاجی نے بھی چپ سادھ لی کمیشن کے ارکان کی رکنیت قبول کرکے حکومت کی صفوں میں شامل ہو گئے واضح رہے کہ وکلا جھمٹ مل اور قربان ملانوں کی پیپلز پارٹی سے وابستگی کے سبب سیاسی حلقوں میں کمیشن کی غیر جانبداری پر شکوک و شبہات پائے جاتے ہیں سابق نائب صدرایف پی سی سی آئی فیصل جمال اور سابق ڈی جی ٹڈاپ میر ناصر عباس کا کہنا ہے کہ کمیشن میں سیاسی ممبران کی شمولیت سے کیا سندھ کی عوام کو ایک پیشہ ور اور غیرجانبدار سیفٹی کمیشن کے اصل فوائد حاصل ہو سکیں گے انہوں نے کہاکہ کمیشن نے کام کرنے سے قبل ہی اپنی ساکھ کھودی ہے یہاں یہ امر بھی مسلم ہے کہ کیا مزید سول سوسائٹی ممبران اس کمیشن کے خلاف آواز اٹھا سکیں گیساببق نائب صدر ایف پی سی سی آئی فیصل جمال اور سابق ڈی جی ٹڈاپ میر ناصر عباس نیتشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ سیفٹی کمیشن میں سیاسی مداخلت آج ایک سوالیہ نشان بن چکی ہے۔ سندھ حکومت کی جانب سے پولیس اصطلاحات میں سیاسی مداخلت۔پیپلز پارٹی کے کرپٹ ترین افراد کو کمیشن میں نامزد کرکے پارٹیزن سیفٹی کمیشن ڈرامہ بے نقاب کردیا پارٹیزن سیفٹی کمیشن میں عدالتوں سے سزا یافتہ سابق وزیر شرجیل انعام میمن۔کٹھ پتلی ایم پی اے عماد پتافی اور شمیم ممتاز قوم ممبرز نامزد کر دیا پارٹیزن سیفٹی کمیشن میں غیرجانبدار اور آزاد ممبران کی جگہ سیاسی ممبران شامل کرکے نئے منظور شدہ آرڈینینس کی دھجیاں بکھیر دیں

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)


جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…