پیر‬‮ ، 17 اگست‬‮ 2026 

ڈی جی آئی ایس پی آر کا بیان  ہمارے حوصلے بلند کرنے کیلئے کافی ہے  خدا کرے ان کا بیان جنرل یحییٰ  جیسا نہ ہو،مولانافضل الرحمان نے معنی خیز دعویٰ کردیا

datetime 5  ستمبر‬‮  2019 |

اسلام آباد(آن لائن) جمعیت علمائے اسلام(ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے چارٹر آف ڈیمانڈ پیش کرتے ہوئے بتایا کہ 18 ستمبر کو مرکزی مجلس عاملہ کا اجلاس ہوگا جس میں اسلام  آباد کی جانب آزادی  مارچ کیلئے تاریخ کا اعلان کیا جائے گا۔پریس کانفرنس کے دوران چارٹر  آف ڈیمانڈ کے سوال پر ان کا کہنا تھا کہ، مذہبی، جمہوری، مہنگائی، بے روزگاری اور کاروباری مسائل ہمارے مطالبات ہیں۔

ان کا کہنا تھا کیپٹن صفدر نے میاں نوازشریف کا پیغام پہنچایا کہ اکتوبر میں جس تاریخ کا بھی اعلان کیا جائے گا ن لیگ شانہ بشانہ ہوگی۔ایک سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ حکمران جعلی بھی ہیں اور نااہل بھی۔ان کا کہنا تھا کہ میری گرفتاری سے آزادی مارچ پر کوئی فرق نہیں پڑے گا، دوسرا اور تیسرا قائد بھی موجود رہے گا کون ڈیل کر رہا ہے اور کون نہیں یہ چند دن میں واضح ہو جائے گا۔مولانافضل الرحمان نے کہا کہ ڈی جی آئی ایس پی  آر نے کشمیر کے لیے جن جذبات کا اظہار کیا وہ ہمارے حوصلے بلند کرنے کیلیے کافی ہے۔ان کا کہنا تھا کہ جنرل یحیٰ خان نے بھی یہی باتیں کی تھی لیکن اگلے دن جنرل نیازی نے ہتھیار ڈال دیے تھے اور خدا کرے ان کا بیان اس طرح نہ ہو۔مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ اسرائیل کو تسلیم کرنے والا بیان بھی حوصلہ افزا تھا اور خدا پاکستان کو اس پالیسی پر ثابت قدم رکھے۔ان کا کہنا تھا کہ ڈی جی آئی ایس پی  آر معیشت کی ذمہ داری اپنے سر نہ لیں یہ ان کی ملازمت نہیں، حکومت اس وقت حالت نزاع میں اور اس حالت میں کوئی بیان قبول نہیں ہوتا۔جے یو  آئی کے سربراہ نے کہا کہ کچھ بڑے لوگوں کے قرضے ایک  آرڈیننس سے معاف کرنا ایک مضحکہ خیز بیان تھا اور اب واپس لینے والے  آرڈیننس کی کوئی حیثیت نہیں ہے۔ مولانا فضل الرحمان نے چارٹر آف ڈیمانڈ پیش کرتے ہوئے بتایا کہ 18 ستمبر کو مرکزی مجلس عاملہ کا اجلاس ہوگا جس میں اسلام  آباد کی جانب آزادی  مارچ کیلئے تاریخ کا اعلان کیا جائے گا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)


جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…