پیر‬‮ ، 17 اگست‬‮ 2026 

پاکستان میں پہلی بار کرنٹ اکاونٹ خسارہ دو ارب ڈالر ماہانہ تک پہنچ گیا تھا،گورنر اسٹیٹ بینک کااعتراف،بڑی پیش گوئی کردی

datetime 30  اگست‬‮  2019 |

کراچی(آن لائن) گورنر اسٹیٹ بنک رضا باقر نے کہاہے کہ پچھلے کچھ مہینوں سے  زر مبادلہ کے ذخائر میں مسلسل کمی اب رک گئی ہے، اب ذخائر میں آہستہ آہستہ اضافہ ہورہاہے۔ گزارش ہے کہ بھروسہ رکھیں بہتری ہورہی ہے، 2014 سے 2017 کے دروان کرنٹ  اکاؤنٹ  خسارہ تیزی سے بڑھتا رہا،پاکستان میں پہلی بار کرنٹ اکاونٹ خسارہ دو ارب ڈالر ماہانہ تک پہنچ گیا تھا،ادائیگی کا توازن برقرار نہ رہنے کی وجہ سے روپے پر دباو بڑھاتا چلا گیا۔

فیڈریشن  ہاؤس کراچی میں ہونے والی ایک تقریب سے خطاب میں گورنر اسٹیٹ بنک نے کہا کہ عالمی مالیاتی ادارے آئی ایم ایف کا رواں مالی سال کے لئے مہنگائی کی شرح 13 فیصد تک رہنے کا اندازہ ہے۔انہوں نے کہا کہ  2014 سے 2017 کے دروان کرنٹ  اکاؤنٹ  خسارہ تیزی سے بڑھتا رہا،پاکستان میں پہلی بار کرنٹ اکاونٹ خسارہ دو ارب ڈالر ماہانہ تک پہنچ گیا تھا۔رضاباقر نے کہا کہ  ادائیگی کا توازن برقرار نہ رہنے کی وجہ سے روپے پر دباو بڑھاتا چلا گیا،اس کے ساتھ اس دوران ایکسچینج ریٹ کو زبردستی روک کے رکھا گیا۔ اسی وجہ سے ہمارے زرمبادلہ ذخائر کم ہوتے گئے۔گورنر اسٹیٹ بنک نے کہا کہ ایکسچینج ریٹ جیسے جیسے بڑھنا شروع ہوا تو کرنٹ  اکاؤنٹ میں کمی آنا شروع ہوگئیجس کی وجہ سے کرنٹ  اکاؤنٹ خسارہ ایک ارب ڈالر تک گرگیا۔رضاباقر نے کہا  اگر آئی ایم ایف کی رپورٹ کو دیکھتے ہوئے شرح سود دیکھیں تو زیادہ نہیں ہے۔ اسٹیٹ بنک نے بھی شرح سود میں اضافہ بڑھتی مہنگائی کو کنٹرول کرنے کے لیے ہی کیا ہے۔انہوں نے  کہا کہ دوہزار بارہ سے دوہزار انیس تک شرح سود نیچے بھی گئی  اور اوپر بھی گئی، شرح سود میں تیزی سے اتار چڑھاؤ کے باوجود نجی سرمایہ کاری میں کوئی فرق نہیں پڑا تاہم اب دیگر عوامل ہیں جس کی وجہ سے نجی شعبہ سرمایہ کاری نہیں کررہا۔صدر فیڈریشن ہاؤس دارو خان اچکزئی نے اپنے خطاب میں  گورنر اسٹیٹ بنک کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آپ کے آنے کے بعدصنتعکاروں اورتاجروں میں اعتماد بحال ہوا ہے۔

ملک کے بیرونی قرضوں کا حجم مسلسل بڑھ رہا ہے۔داور خان اچکزئی نے کہا کہ پالیسی ریٹ بڑھنے سے معیشیت پر اسکے اثرات آرہے ہیں لیکن ملکی معاشی صورتحال سے ہم بخوبی آگاہ ہیں، سی پیک اور اس جیسے منصوبوں میں مقامی صنعتکاروں کو کتنے مواقع دئیے گئے؟صدرفیڈریشن  ہاؤس نے کہا کہ دنیا کے دیگر ممالک میں شرح سود 5فیصد سے زیادہ نہیں لیکن ہمارے پاس13 فیصد سے زیادہ ہیانہوں نے کہا کہ شرح سود بڑھنے سے بنکوں کے ڈیپازٹ تو بڑھ سکتے ہیں لیکن صنعتوں میں اسکے برے اثرات ہوتے ہیں۔

35سے 40فیصد روپے کی قدر میں کمی کے باوجور ایکسپورٹ نہیں بڑھی، اس وقت برآمدی شعبہ میں بہت مشکلات ہیں۔داور خان نے کہا کہ ایس ایم ای سیکٹرز میں بھی براہ راست کوئی خاطر خواہ فائدہ نہیں ہورہا، ایران،  افغانستان اور دیگر ممالک سے تجارتی تعلقات بڑھانے میں مدد ملیگی۔ اگر چمن میں اسٹیٹ بنک کوئی دفتر قائم کردے تو تجارتی رابطوں میں آسانی ہوگی۔تاجر رہنما پیٹرن ان چیف ایس ایم منیر نے اس موقع پر کہا کہ مجھے وزیراعظم کا فون آیا کہا کہ آئندہ دو ماہ میں حالات بہتر ہوجائینگے۔ ایکسپورٹ ریفنڈز ہمیں نہیں مل رہے،808 ارب کی ایکسپورٹ ہے 400ارب کے ریفنڈ کی ادائیگیاں باقی ہیں۔ایس ایم منیر نیاپنے خطاب میں یہ بھی  کہا کہ  روپے کی بے قدری سے بھی کوئی فائدہ نہیں ہوسکا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)


جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…