منگل‬‮ ، 10 فروری‬‮ 2026 

پاکستان میں پہلی بار کرنٹ اکاونٹ خسارہ دو ارب ڈالر ماہانہ تک پہنچ گیا تھا،گورنر اسٹیٹ بینک کااعتراف،بڑی پیش گوئی کردی

datetime 30  اگست‬‮  2019 |

کراچی(آن لائن) گورنر اسٹیٹ بنک رضا باقر نے کہاہے کہ پچھلے کچھ مہینوں سے  زر مبادلہ کے ذخائر میں مسلسل کمی اب رک گئی ہے، اب ذخائر میں آہستہ آہستہ اضافہ ہورہاہے۔ گزارش ہے کہ بھروسہ رکھیں بہتری ہورہی ہے، 2014 سے 2017 کے دروان کرنٹ  اکاؤنٹ  خسارہ تیزی سے بڑھتا رہا،پاکستان میں پہلی بار کرنٹ اکاونٹ خسارہ دو ارب ڈالر ماہانہ تک پہنچ گیا تھا،ادائیگی کا توازن برقرار نہ رہنے کی وجہ سے روپے پر دباو بڑھاتا چلا گیا۔

فیڈریشن  ہاؤس کراچی میں ہونے والی ایک تقریب سے خطاب میں گورنر اسٹیٹ بنک نے کہا کہ عالمی مالیاتی ادارے آئی ایم ایف کا رواں مالی سال کے لئے مہنگائی کی شرح 13 فیصد تک رہنے کا اندازہ ہے۔انہوں نے کہا کہ  2014 سے 2017 کے دروان کرنٹ  اکاؤنٹ  خسارہ تیزی سے بڑھتا رہا،پاکستان میں پہلی بار کرنٹ اکاونٹ خسارہ دو ارب ڈالر ماہانہ تک پہنچ گیا تھا۔رضاباقر نے کہا کہ  ادائیگی کا توازن برقرار نہ رہنے کی وجہ سے روپے پر دباو بڑھاتا چلا گیا،اس کے ساتھ اس دوران ایکسچینج ریٹ کو زبردستی روک کے رکھا گیا۔ اسی وجہ سے ہمارے زرمبادلہ ذخائر کم ہوتے گئے۔گورنر اسٹیٹ بنک نے کہا کہ ایکسچینج ریٹ جیسے جیسے بڑھنا شروع ہوا تو کرنٹ  اکاؤنٹ میں کمی آنا شروع ہوگئیجس کی وجہ سے کرنٹ  اکاؤنٹ خسارہ ایک ارب ڈالر تک گرگیا۔رضاباقر نے کہا  اگر آئی ایم ایف کی رپورٹ کو دیکھتے ہوئے شرح سود دیکھیں تو زیادہ نہیں ہے۔ اسٹیٹ بنک نے بھی شرح سود میں اضافہ بڑھتی مہنگائی کو کنٹرول کرنے کے لیے ہی کیا ہے۔انہوں نے  کہا کہ دوہزار بارہ سے دوہزار انیس تک شرح سود نیچے بھی گئی  اور اوپر بھی گئی، شرح سود میں تیزی سے اتار چڑھاؤ کے باوجود نجی سرمایہ کاری میں کوئی فرق نہیں پڑا تاہم اب دیگر عوامل ہیں جس کی وجہ سے نجی شعبہ سرمایہ کاری نہیں کررہا۔صدر فیڈریشن ہاؤس دارو خان اچکزئی نے اپنے خطاب میں  گورنر اسٹیٹ بنک کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آپ کے آنے کے بعدصنتعکاروں اورتاجروں میں اعتماد بحال ہوا ہے۔

ملک کے بیرونی قرضوں کا حجم مسلسل بڑھ رہا ہے۔داور خان اچکزئی نے کہا کہ پالیسی ریٹ بڑھنے سے معیشیت پر اسکے اثرات آرہے ہیں لیکن ملکی معاشی صورتحال سے ہم بخوبی آگاہ ہیں، سی پیک اور اس جیسے منصوبوں میں مقامی صنعتکاروں کو کتنے مواقع دئیے گئے؟صدرفیڈریشن  ہاؤس نے کہا کہ دنیا کے دیگر ممالک میں شرح سود 5فیصد سے زیادہ نہیں لیکن ہمارے پاس13 فیصد سے زیادہ ہیانہوں نے کہا کہ شرح سود بڑھنے سے بنکوں کے ڈیپازٹ تو بڑھ سکتے ہیں لیکن صنعتوں میں اسکے برے اثرات ہوتے ہیں۔

35سے 40فیصد روپے کی قدر میں کمی کے باوجور ایکسپورٹ نہیں بڑھی، اس وقت برآمدی شعبہ میں بہت مشکلات ہیں۔داور خان نے کہا کہ ایس ایم ای سیکٹرز میں بھی براہ راست کوئی خاطر خواہ فائدہ نہیں ہورہا، ایران،  افغانستان اور دیگر ممالک سے تجارتی تعلقات بڑھانے میں مدد ملیگی۔ اگر چمن میں اسٹیٹ بنک کوئی دفتر قائم کردے تو تجارتی رابطوں میں آسانی ہوگی۔تاجر رہنما پیٹرن ان چیف ایس ایم منیر نے اس موقع پر کہا کہ مجھے وزیراعظم کا فون آیا کہا کہ آئندہ دو ماہ میں حالات بہتر ہوجائینگے۔ ایکسپورٹ ریفنڈز ہمیں نہیں مل رہے،808 ارب کی ایکسپورٹ ہے 400ارب کے ریفنڈ کی ادائیگیاں باقی ہیں۔ایس ایم منیر نیاپنے خطاب میں یہ بھی  کہا کہ  روپے کی بے قدری سے بھی کوئی فائدہ نہیں ہوسکا۔



کالم



بسنت کے معاملے میں


یہ آج سے پندرہ برس پرانی بات ہے‘ میں اپنے بچوں…

بٹرفلائی افیکٹ

وہ دکان کے سامنے پریشان کھڑی تھی‘ اس کے بال الجھے…

آئل اینڈ سپیس وار

مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…

تہران میں کیا دیکھا (سوم)

مجھے امام خمینی کے تین مرلے کے گھر کے بعد شاہ…

تہران میں کیا دیکھا(دوم)

مجھے2024ء میں تہران میں امام خمینی کا گھر اور ایران…

تہران میں کیا دیکھا

ہمارا گروپ 25 دسمبر 2025ء کو تہران پہنچا‘ اسلام…

چھوٹی چھوٹی نیکیاں اور بڑے معجزے

اسلام آباد کا بائیس سالہ طالب علم طلحہ ظہور…