منگل‬‮ ، 18 اگست‬‮ 2026 

نیب پر کام کا دبائو ہے تو پھر ادھر ادھر پنگا کیوں لیتا ہے؟ سندھ ہائی کورٹ قومی احتساب بیورو پر شدید برہم

datetime 22  اگست‬‮  2019 |

کراچی(این این آئی) سندھ ہائیکورٹ نے محکمہ فوڈ لاڑکانہ، سکھر اور حیدرآباد کے منصوبوں میں کرپشن میں ملوث ملزمان کیخلاف 5 ہفتوں میں ریفرنس دائر کرکے رپورٹ پیش کرنے کا حکم دیدیا۔سندھ ہائیکورٹ نے محکمہ فوڈ لاڑکانہ، سکھر اور حیدر آباد کے منصوبوں میں کرپشن سے متعلق کیس کی سماعت کی۔2016 سے انکوائری زیر التوا ہونے پر چیف جسٹس نیب

حکام پر برہم ہوگئے۔ ایڈیشنل پراسیکیوٹر جنرل نیب نے موقف دیا کہ انکوائری مکمل ہوچکی ہے، معاملہ منظوری کے لیے ہیڈکوارٹر بھیج دیا۔چیف جسٹس سندھ ہائیکورٹ جسٹس احمد علی شیخ نے ریمارکس دیے کہ رپورٹ پیش کریں کہ ریفرنس دائر کرنے کی منظوری ملتی ہے یا نہیں، اگر نیب قوانین پر عملدرآمد نہیں کرتا تو اپنے ایس او پی ختم کردے۔ایڈیشنل پراسیکیوٹر جنرل نیب نے کہا کہ نیب میں کام کا دبائو زیادہ ہے اس لیے تاخیر ہوگئی ہے۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ تو پھر نیب ادھر ادھر پنگا کیوں لیتا ہے؟۔ایڈیشنل پراسیکیوٹر جنرل نیب نے درخواست کی کہ 4 ہفتوں کی مہلت دیں، ریفرنس دائر کردیں گے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ نیب نے جس کو چھوڑنا ہوتا ہے اس کو ایک دن میں چھوڑ دیتا ہے، جس کو رگڑا دینا ہو تو برسوں لگ جاتے ہیں، 2016 سے کیس التوا کا شکار ہے اور نیب والے کچھ کرتے ہی نہیں۔عدالت نے ملزم سلیم جہانگیر اور یار محمد کی ضمانت میں 25 ستمبر تک توسیع کرتے ہوئے نیب کو ملزمان کیخلاف 5 ہفتوں میں ریفرنس دائر کرکے رپورٹ پیش کرنے کا حکم دیدیا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)


ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…