بدھ‬‮ ، 23 ستمبر‬‮ 2026 

بھارت کی طرف سے آبی دہشت گردی، پاکستان میں سیلابی بہاؤ کی سطح تیزی سے بلند، خطرے کی گھنٹی بج گئی

datetime 20  اگست‬‮  2019 |

حیدرآباد(این این آئی)بھارت کی طرف سے آبی دہشت گردی کرتے ہوئے پیشگی اطلاع دیئے بغیر دریائے ستلج میں اچانک 2 لاکھ کیوسک پانی چھوڑدینے اور لداخ ڈیم کے تین اسپل وے کھول دینے سے پاکستان میں سیلابی بہاؤ کی سطح تیزی سے بلند ہو رہی ہے، شدید بارشوں کے بعد دریائے سندھ میں درمیانے درجے کے سیلاب کی جو صورتحال پیدا ہوئی تھی وہ کم ہو رہی تھی لیکن اب دوبارہ بہاؤ میں تیزی آنا شروع ہو گئی ہے، پیر کو گڈو بیراج اپ اسٹریم پر بہاؤ 409179 کیوسک تھا

جو منگل کو422653 کیوسک ہو گیا، اسی طرح سکھر بیراج پر پیر اپ اسٹریم پر جو بہاؤ 353287 تھا وہ منگل کو 360125 ہو گیا اور مزید بڑھ رہا تھا، کوٹری بیراج پر پیر کو اپ اسٹریم پر بہاؤ 193517 کیوسک اور ڈاؤن اسٹریم پر 163737 کیوسک تھا، منگل کو اپ اسٹریم پر 185015 اور ڈاؤن اسٹریم پر 1520 60 تھا، منگل کو کوٹری بیراج کی نہروں کو 32955 کیوسک پانی دیا جا رئا تھا، پیر کونہروں کا یہ بہاؤ29780 کیوسک تھا،تاہم آئندہ چند روز میں اگلے مرحلے میں درمیانے درجے کے سیلابی بہاؤ کا امکان ہے، لطیف آباد نمبر 10,4حسین آباد، کوٹری ریلوے پل سحرش نگر،قاسم آباد میں دریا کے پشتوں اور حفاظتی بندوں پر قبضوں اور تجاوزات کی بھرمار ہے بلڈر مافیا نے بھی محکمہ آبپاشی سمیت متعلقہ اداروں سے سودے بازی کر کے کے دریا کے کچے کے علاقے کی زمینوں پر قبضے کر کے مہنگی رہائشی اسکیمیں شروع کر رکھی ہیں اور کروڑوں روپے کی ملی بھگت کر کے عوام سے لوٹے جا رہے ہیں، واٹر کمیشن نے کئی بار ان غیرقانونی اسکیموں پر پابندیاں لگائیں مگر اس کے احکامات کو ردی کی ٹوکری میں ڈال دیا گیا،دریا کے پاٹ کے اندر کی تجاوزات بھی ختم کرنے کے لئے کوئی قدم نہیں اٹھایا گیا،کئی مقامات پر دریا کے کمزور پشتوں کو مضبوط کرنے کے لئے بھی کوئی کام دیکھنے میں نہیں آیا، البتہ لطیف آباد نمبر 10اور قاسم آباد کے ساتھ دریا کے پشتوں پر ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لئے کافی پتھر جمع کئے گئے ہیں، لیکن نگرانی بھی کا بھی مناسب انتظام دیکھنے میں نہیں ا ٓرہا۔ادھر نمائندے کے مطابق دریائے سندہ پرانا ہالا کے مقام پر پانی کے بہاؤ میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے اور پرانا ہالا بچاؤبند پر کٹاؤ کا سلسلہ جاری ہے، کچے کا مصنوعی بند ٹوٹنے سے

زرعی زمینیں زیر آب آنے سے کاشتکاروں کو نقصان ہونے، پرانا ہالا کے پشتے کمزور ہونے کی امت کی رپورٹ پر چیف سیکریٹری سندھ نے نونس لے لیا ہے اور کمشنر سے رپورٹ طلب کر لی ہے، کمشنر حیدرآباد سے رپورٹ طلب، محکمہ آبپاشی کے حکام بھی الرٹ ہو گئے ہیں کچے کے علاقے میں آباد خاندان محفوظ مقامات پہ منتقل ہوگئے ہیں پرانا ہالا بچاؤ بند جو کمزور ہے اس پر توجہ نہیں دی جا رہی لیکن بھانوٹ بچاؤ بند کے جس کو مضبوط بنانے کے لئے گزشتہ برسوں میں کروروں روپے

خرچ کئے جا چکے ہیں وہاں اب بھی پتھر اتارے جا رہے ہیں تا کہ محکمہ آبپاشی کے حکام با اثر افراد کو خوش کر سکیں، چیف سیکریٹری سندھ سید ممتاز شاہ نے امت کی خبر کا نوٹس لیتے ہوئے کمشنر حیدرآباد سے رپورٹ طلب کرلی ہے، پرانا ہالا بچاؤ بند کے کمزور پشتوں اور ٹی اسپر کی مضبوطی کے لئے قومی اسمبلی کے رکن مخدوم جمیل الزماں اور صوبائی وزیر ریوینیو مخدوم محبوب الزماں نے بھی کوشش کرنے کی یقین دھانی کرائی کرا چکے ہیں، ڈپٹی کمشنر غلام حیدر چانڈیو کا موقف ہے کہ بچاؤبند پر صورتحال پر مکمل کنٹرول ہے اور بھانوٹ بچاؤ بند کو مضبوط کرنے کا کام بھی محکمہ آبپاشی کی طرف سے جاری ہے، کمشنرحیدرآباد عباس بلوچ نے بتایا کہ وہ پرانا ہالا بچاؤ بند کا دورہ کریں گے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…