وزیر اعظم سیکرٹریٹ میں کام کرنے والے چپڑاسیوں اور درباریوں کا منظم گروہ موجود،ملکر کیا’’کارنامے‘‘انجام دئیے جانے لگے؟سنسنی خیز انکشافات

  اتوار‬‮ 18 اگست‬‮ 2019  |  15:50

اسلام آباد(آن لائن) وزیر اعظم سیکرٹریٹ کے چپڑاسی نے جرائم پیشہ بھائی کو بچانے کے لئے وفاقی پولیس کو یرغمال بنا لیا ۔ ساتھیوں کے ہمراہ آبپارہ کے تاجر سے قیمتی طوطے چھیننے والے چپڑاسی کے بھائی عادل کے ہاتھ کا جعلی فریکچر بنوانے کے لئے وزیر اعظم سیکرٹریٹ کے اعلیٰ عہدیدار سے پولی کلینک کے ڈاکٹروں کو بھی اپنے اثر میں لے لیا ۔ وزیر اعظم سیکرٹریٹ کے چپڑاسی بلال کا بھائی عادل پہلے بھی ساتھیوں کے ہمراہ غنڈہ گردی کی کئی وارادتیں کر چکا ہے ۔ عادل کے ساتھیوں کا ایک گروہ موبائل چوری کرنے کے الزام میں بھی


پکڑا جا چکا ہے ۔ تفصیلات کے مطابق وفاقی دارالحکومت کی ماڈل پولیس کی شہریوں کو غیر جانبداری سے انصاف فراہم کرنے کی قلعی اس وقت کھل گئی جب وزیر اعظم سیکرٹریٹ کے ایک چپڑاسی نے وزیر اعظم سیکرٹریٹ کے ایک اعلیٰ افسر سے سرکاری نمبر سے ٹیلی فون کروا کر پولیس رام کر لیا ۔ وزیر اعظم سیکرٹریٹ میں چپڑاسی کی ذمہ داریاں ادا کرنے والے بلال کا ایک بھائی آبپارہ مارکیٹ میں موبائل فون کا ٹھیا لگانے کے ساتھ ساتھ ساتھیوں سے مل کر تاجروں سے سینہ زوری بھی کرتا ہے ۔تھانہ آبپارہ میں درج مقدمہ نمبر 251 کے مطابق 3 اگست کو ملزم عادل نے اپنے دیگر ساتھیوں امین یوسف ، ذیشان اور عادل کے ساتھ مل کر تاجر صغیر احمد کی شاپ سے 2 قیمتی طوطے زبردستی اٹھا لیے اور مزاحمت پر اپنے ساتھیوں کے ساتھ مل کر صغیر احمد اور اس کے 2 بھائیوں عبدالعزیز اور عبدالحفیظ کو ڈنڈوں اور آہنی مکوں سے مار مار کر لہولہان کر دیا ۔ اطلاع ملنے پر جب پولیس پہنچی تو عادل اور اس کے ساتھی قیمتی طوطے اور صغیر چودھری کی قمیض اور اس میں موجود پرس اور نقدی سمیت لے کر فرار ہو گئے ۔ آبپارہ پولیس نے ابتدائی کارروائی کرتے ہوئے ملزم عادل اور اس کے دوسرے ساتھی امین یوسف کو گرفتار کر لیا لیکن 3 اگست اور 4 اگست کو چھٹی ہونے کے باعث چپڑاسی بلال کچھ نہ کر سکا ۔ البتہ 5 اگست کو اس نے وزیر اعظم سیکرٹریٹ کے اعلٰی عہدیدارسے وفاقی پولیس کے اعلٰی افسران کو فون کروائے تو پولیس کی تفتیش کا رخ اچانک تبدیل ہو گیا ۔ گرفتار ملزم عادل اور امین یوسف کو حوالات سے نکال کر تفتیشی شریف خالد کے کمرے میں بستر اور کھانے فراہم کر دیئے گئے ۔ ملزمان سے قیمتی طوطے اور آہنی راڈ کے علاوہ اسلحہ برآمد کرنے کے بجائے پولیس نے ملزم کو بچانے کے لئے عدالت میں بیان دے دیا کہ ملزم کے خلاف مدعی مقدمہ کی پیروی کرنے میں دلچسپی نہیں رکھتا اس پر صغیر احمد نے عدالت میں احتجاج کیا لیکن پولیس کی ملزمان سے ملی بھگت کے باعث پہلے انہیں جوڈیشل کیا گیا اور پھر دو روز بعد ضمانت پر رہا کر دیا گیا ۔ اس کے علاوہ پولیس نے چپڑاسی بلال کے دباؤ میں آ کر ملزم عادل کا جعلی میڈیکل بنوایا اور ادھر بھی چپڑاسی بلال نے وزیر اعظم سیکرٹریٹ کے وی آئی پی سرکاری نمبر سے کالیں کر کے ہاتھ میں فریکچر کا جعلی میڈیکل بنوایا اور مدعی کے خلاف کراس پرچہ درج کروا دیا ۔ مدعی مقدمہ صغیر احمد نے رابطہ کرنے پر بتایا کہ ہمیں تفتیشی اے ایس آئی شریف خالد نے بتایا کہ وزیر اعظم سیکرٹریٹ کے دباؤ پر ہم تفتیش کا رخ تبدیل کرنے پر مجبور ہوئے ۔ دوسری طرف اس سلسلے میں وزیر اعظم سیکرٹریٹ کے اعلٰی عہدیدار کے پرائیویٹ سیکرٹری احمد حسن سے رابطہ کیا گیا تو انہوں نے تسلیم کیا کہ چپڑاسی بلال نے ایک ویڈیو دکھا کر ہمدردی حاصل کی تھی اور اس حوالے سے اگر مدعی مقدمہ درخواست دے گا تو اس کی تحقیقات کروائی جائے گی۔ واضح رہے کہ معتبر ذرائع نے انکشاف کیا ہے کہ وزیر اعظم سیکرٹری میں کام کرنے والے چپڑاسیوں اور درباریوں کا ایک منظم گروہ موجود ہے جو کہ ملک کے مختلف اضلاع میں موجود پولیس کے اعلٰی افسران کو ٹیلی فون کالیں اور جعلی لیٹر جاری کروا کر تفتیش کے رخ موڑتا ہے اور اس کے علاوہ واپڈا ، او جی ڈی سی ایل اور دیگر محکموں کے اعلیٰ عہدیداروں کے نام بھی ملی بھگت سے لیٹر جاری کروا کر لاکھوں روپے بٹورے جاتے ہیں ۔ مدعی مقدمہ صغیر احمد نے دعویٰ کیا ہے کہ میں بہت جلد چپڑاسیوں کے اس گروہ بارے اہم شواہد میڈیا کے ذریعے وزیر اعظم تک پہنچاؤں گا ۔

موضوعات:

loading...