منگل‬‮ ، 24 فروری‬‮ 2026 

پوری قوم کو مودی کے اقدامات کیخلاف متحد ہونے کی ضرورت تھی لیکن کون ہے جو قوم کی قیادت کر رہا ہے؟اعتزاز احسن نے بڑے سوال اُٹھادیئے

datetime 17  اگست‬‮  2019 |

لاہور (این این آئی) پیپلزپارٹی کے مرکزی رہنما و سینیٹر اعتزاز احسن نے کہا ہے کہ ہمارے ساتھ کوئی امتیازی سلوک نہ کیا جائے بلکہ انصاف دیا جائے،عدالتوں کو نیب اور حکومت کے دبا ؤسے آزاد رکھا جائے،جلد ہی بلاول بھٹو پنجاب بھر کا دورہ کر کے صوبے میں پارٹی کو منظم کرینگے،آج ہم اپنی قیادت کے ساتھ ساتھ کشمیر کی بہن بیٹیوں کے ساتھ بھی کھڑے ہیں،سلامتی کونسل کا شکریہ ادا کرتے ہیں،

پوری قوم کو مودی کے اقدامات کیخلاف متحد ہونے کی ضرورت تھی لیکن کون ہے جو قوم کی قیادت کر رہا ہے۔ان خیالات کااظہارانہوں نے ریلی سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اعتزاز احسن نے کہاکہ پاکستان پیپلزپارٹی کے کارکن فریال تالپور کے ساتھ ہونے والے سلوک کیخلاف یہاں جمع ہوئے ہیں،ہم پختہ عزم کے ساتھ کشمیری بہن بیٹیوں کے ساتھ کھڑے ہیں،کشمیر میں کرفیو نافذ ہے اور اشیائے ضروریہ و ادویات ناپید ہو چکی ہیں،ہماری پہلی سوچ کشمیری بیٹیوں کے ساتھ ہے جو بھوکی پیاسی اپنے گھروں میں قید ہیں۔انہوں نے کہاکہ ہم کوئی این آر او، رعایت یا استثنیٰ نہیں مانگ رہے بلکہ قانون کے مطابق سہولت مانگ رہے ہیں۔کشمیری جس قدر مظلوم ہیں، اور مودی سرکار کی جانب سے ان پر جتنا ظلم ہو رہا ہے اس کی مثال فلسطین کے علاوہ شاید کہیں نظر نہیں آتی۔انہوں نے کہاکہ فریال تالپور کے ساتھ جو ہوا، پیپلزپارٹی کا کارکن اسے برداشت نہیں کر سکتا۔فریال تالپور کو رات 12 بجے ایمبولینس میں ہسپتال منتقل کیا گیا۔ماضی میں شام 6 بجے کے بعد جیل کے دروازے نہیں کھلتے تھے لیکن فریال تالپور کو رات 12 بجے منتقل کیا گیا۔شاید حکومت پیپلزپارٹی پر کوئی دبا ؤڈالنا چاہتی ہے کہ ہم ان کو کوئی درخواست کرینگے اور حکومت کہے گی کہ ہم صرف انصاف مانگ رہے ہیں جو عدالت دے سکتی ہے۔ہمارے ساتھ کوئی امتیازی سلوک نہ کیا جائے بلکہ انصاف دیا جائے۔عدالتوں کو نیب اور حکومت کے دبا ؤسے آزاد رکھا جائے۔

نواز شریف کی ٹرائل کے دوران کوئی گرفتاری نہیں ہوتی، انہیں بیرون ملک جانے سے بھی نہیں روکا جاتا۔شہباز شریف کا بھی یہی معاملہ ہے۔پاکستان پیپلزپارٹی کے ساتھ امتیازی سلوک کیوں رکھا جا رہا ہے۔انہوں نے کہاکہ پیپلزپارٹی غریب کی جماعت ہے، میری نظر میں ہماری جماعت کو منظم ہونے کی ضرورت ہے۔ہمیں 1988 کے وقت کو واپس لانا ہے جب ہم نے پنجاب میں بڑی تعداد میں سیٹیں جیتی تھیں۔جلد ہی بلاول بھٹو پنجاب بھر کا دورہ

کرکے صوبے میں پارٹی کو منظم کرینگے۔ہم اپنے قائدین کے لئے قانون سے بالاتر یا امتیازی سلوک نہیں مانگ رہے۔آج ہمیں اپنی قیادت کے ساتھ ساتھ کشمیر کی بہن بیٹیوں کے ساتھ بھی کھڑے ہیں۔انہوں نے کہاکہ ہم سلامتی کونسل کا شکریہ ادا کرتے ہیں۔ہماری پارٹی کی سیاست اس خطے کی سیاست کرتی ہے، اس خطے میں امن ہو گا تو ہی ترقی ہو گی۔فریال تالپور کے ساتھ جو ہوا، ہم اس کی مذمت کرتے ہیں۔پوری قوم کو مودی کے اقدامات کیخلاف متحد ہونے کی ضرورت تھی لیکن کون ہے جو قوم کی قیادت کر رہا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



نواز شریف کی سیاست میں انٹری


لارنس گارڈن کے کرکٹ گرائونڈ میں میچ چل رہا تھا‘…

چوہے کھانا بند کریں

ہندوستان کا کوئی شہزادہ مہاتما بودھ کے پاس گیا…

رعونت پر بکھری ہوئی خاک

کراچی میں وسیم انصاری نام کا ایک چھوٹا سا سٹیج…

وہ واقعہ جو کتاب میں نہیں

1999ء میں دو وزیراعظم ہانگ کانگ میں ایک ہی ہوٹل…

بخاریؒ کو امام بنانے والے لوگ

نویں صدی کا شہر بخاراتھا اور اس شہر میں ایک سادہ…

شوگر کے مریضوں کے لیے

گرو زاہد سے میرا رابطہ ایک ویڈیو کلپ سے ہوا تھا‘…

بسنت کے معاملے میں

یہ آج سے پندرہ برس پرانی بات ہے‘ میں اپنے بچوں…

بٹرفلائی افیکٹ

وہ دکان کے سامنے پریشان کھڑی تھی‘ اس کے بال الجھے…

آئل اینڈ سپیس وار

مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…