پیر‬‮ ، 05 اکتوبر‬‮ 2026 

مقبوضہ کشمیر میں بھارتی اقدام کے بعد شملہ معاہدہ بھی ختم؟ پاکستان کو کیا فائدہ حاصل ہو گا؟ معروف تجزیہ کار نے بڑا دعویٰ کردیا

datetime 16  اگست‬‮  2019 |

اسلام آباد (نیوز ڈیسک) سلامتی کونسل اگرقراردادپر کوئی فیصلہ کردیتی ہے توبڑی فتح ہوگی،اگر فیصلہ نہ بھی دیا توبھی پاکستان کا پلڑا بھاری ہے، یہ بات معروف سینئر صحافی اوریا مقبول جان نے ایک نجی ٹی وی چینل کے پروگرام میں کہی، انہوں نے کہا کہ 20 جنوری 1948ء کی جو 39 نمبر قرارداد تھی وہ جواہر لال نہرو خود اقوام متحدہ میں لے کرگئے تھے کیونکہ کشمیر ان کے ہاتھ سے نکل جانا تھا،

اوریا مقبول جان نے کہا کہ نہرو اقوام متحدہ گئے کہ کشمیریوں کا مسئلہ ان کی خواہش کے مطابق حل کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ ستر سال سے لے کر اب تک پہلی بار ایسا ہوا ہے کہ کشمیر کے مسئلے پر سلامتی کونسل میں بات کی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ جنرل اسمبلی کے اجلاس سے سلامتی کونسل کا اجلاس بہتر ہوتا ہے کیونکہ اس کے اندر ایجنڈے پر اس وقت تک کوئی چیز نہیں آ سکتی جب تک پانچ مستقل ممبر امریکہ، روس، چین، برطانیہ اور فرانس کسی بھی قرارداد کو ایجنڈے پر رکھنے کی اجازت نہ دیں، سینئر صحافی نے کہا کہ اب یہ مسئلہ ایجنڈے پر آ گیا ہے تو اس کی خفیہ میٹنگ ہوگی، جس میں یہ ممالک طے کریں گے کہ ہم نے اس مسئلے کو کیسے لے کرچلنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بھارت یا پاکستان سلامتی کونسل کے ممبر نہیں ہیں، اس لئے کسی قسم کی مہم جوئی کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا، سینئر صحافی نے کہا کہ سلامتی کونسل کے جرمنی، کویت، انڈونیشیا، بیلجیم غیر مستقل ملک ہیں ان کا ووٹ ہوتا ہے، انہوں نے کہا کہ قرارداد کے حق میں آٹھ ووٹ چاہئیں، سلامتی کونسل اگر یہ سمجھتی ہے کہ جنرل اسمبلی کے اجلاس میں مسئلہ رکھا جائے تو پھر جنرل اسمبلی میں مسئلہ اٹھایا جا سکتا ہے جہاں اس پر بحث ہو گی۔ سینئر صحافی نے کہا کہ سلامتی کونسل اگرقرارداد پر کوئی فیصلہ کردیتی ہے توبڑی فتح ہوگی اور انڈیا کے لئے مسئلہ ہوگا، انہوں نے کہا کہ اگر انڈیا کے لئے کوئی مسئلہ نہ بھی ہو، 1973ء کے بعد جب شملہ معاہدہ ہوا تو اس کے بعد یہ پاکستان اور انڈیا کا مسئلہ نہیں رہا، شملہ معاہدے کے بعد ہم کسی فورم پر مسئلہ نہیں لے جا سکتے، بھارت کے اس اقدام سے شملہ معاہدہ بھی ختم ہو گیا ہے، سینئر صحافی اوریا مقبول نے کہا کہ اب ہم جب چاہیں اقوام متحدہ کا دروازہ کھٹکھٹا سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جارحانہ ڈپلومیسی کا آغاز ہو چکا ہے اور پوری دنیا کے مسلمانوں نے عمران خان کی وجہ سے انڈین ایمبیسی کے سامنے احتجاج کیا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(آٹھواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…