منگل‬‮ ، 18 اگست‬‮ 2026 

مقبوضہ کشمیر میں بھارتی اقدام کے بعد شملہ معاہدہ بھی ختم؟ پاکستان کو کیا فائدہ حاصل ہو گا؟ معروف تجزیہ کار نے بڑا دعویٰ کردیا

datetime 16  اگست‬‮  2019 |

اسلام آباد (نیوز ڈیسک) سلامتی کونسل اگرقراردادپر کوئی فیصلہ کردیتی ہے توبڑی فتح ہوگی،اگر فیصلہ نہ بھی دیا توبھی پاکستان کا پلڑا بھاری ہے، یہ بات معروف سینئر صحافی اوریا مقبول جان نے ایک نجی ٹی وی چینل کے پروگرام میں کہی، انہوں نے کہا کہ 20 جنوری 1948ء کی جو 39 نمبر قرارداد تھی وہ جواہر لال نہرو خود اقوام متحدہ میں لے کرگئے تھے کیونکہ کشمیر ان کے ہاتھ سے نکل جانا تھا،

اوریا مقبول جان نے کہا کہ نہرو اقوام متحدہ گئے کہ کشمیریوں کا مسئلہ ان کی خواہش کے مطابق حل کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ ستر سال سے لے کر اب تک پہلی بار ایسا ہوا ہے کہ کشمیر کے مسئلے پر سلامتی کونسل میں بات کی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ جنرل اسمبلی کے اجلاس سے سلامتی کونسل کا اجلاس بہتر ہوتا ہے کیونکہ اس کے اندر ایجنڈے پر اس وقت تک کوئی چیز نہیں آ سکتی جب تک پانچ مستقل ممبر امریکہ، روس، چین، برطانیہ اور فرانس کسی بھی قرارداد کو ایجنڈے پر رکھنے کی اجازت نہ دیں، سینئر صحافی نے کہا کہ اب یہ مسئلہ ایجنڈے پر آ گیا ہے تو اس کی خفیہ میٹنگ ہوگی، جس میں یہ ممالک طے کریں گے کہ ہم نے اس مسئلے کو کیسے لے کرچلنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بھارت یا پاکستان سلامتی کونسل کے ممبر نہیں ہیں، اس لئے کسی قسم کی مہم جوئی کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا، سینئر صحافی نے کہا کہ سلامتی کونسل کے جرمنی، کویت، انڈونیشیا، بیلجیم غیر مستقل ملک ہیں ان کا ووٹ ہوتا ہے، انہوں نے کہا کہ قرارداد کے حق میں آٹھ ووٹ چاہئیں، سلامتی کونسل اگر یہ سمجھتی ہے کہ جنرل اسمبلی کے اجلاس میں مسئلہ رکھا جائے تو پھر جنرل اسمبلی میں مسئلہ اٹھایا جا سکتا ہے جہاں اس پر بحث ہو گی۔ سینئر صحافی نے کہا کہ سلامتی کونسل اگرقرارداد پر کوئی فیصلہ کردیتی ہے توبڑی فتح ہوگی اور انڈیا کے لئے مسئلہ ہوگا، انہوں نے کہا کہ اگر انڈیا کے لئے کوئی مسئلہ نہ بھی ہو، 1973ء کے بعد جب شملہ معاہدہ ہوا تو اس کے بعد یہ پاکستان اور انڈیا کا مسئلہ نہیں رہا، شملہ معاہدے کے بعد ہم کسی فورم پر مسئلہ نہیں لے جا سکتے، بھارت کے اس اقدام سے شملہ معاہدہ بھی ختم ہو گیا ہے، سینئر صحافی اوریا مقبول نے کہا کہ اب ہم جب چاہیں اقوام متحدہ کا دروازہ کھٹکھٹا سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جارحانہ ڈپلومیسی کا آغاز ہو چکا ہے اور پوری دنیا کے مسلمانوں نے عمران خان کی وجہ سے انڈین ایمبیسی کے سامنے احتجاج کیا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)


ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…