منگل‬‮ ، 24 فروری‬‮ 2026 

مسلم لیگ (ن)  کے رہنما احسن اقبال کوبہت پسند کرتاہوں،وزیراعظم عمران خان سے اب کس موضوع پر بات تک نہیں کرتا؟ اسد عمر کے حیرت انگیز انکشافات

datetime 16  اگست‬‮  2019 |

لاہور(این این آئی)پاکستان تحریک انصاف کے مرکزی رہنما و سابق وزیر خزانہ اسد عمرنے کہا ہے کہ عمران خان نے ٹھان لی ہے کہ وہ ایک بہترین وزیراعظم بنیں گے اور وہ ان پانچ سالوں میں بن کر بھی دکھائیں گے۔نجی ٹی وی کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے مختلف لوگوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ آپ تو وزیر خزانہ بن رہے ہیں میں جواب میں انہیں یہی کہتا تھا کہ میں وزیر خالی خزانہ ہوں کیونکہ اس وقت ملک کا خزانہ بالکل خالی ہو چکا تھ

ا۔انہوں نے کہا کہ ملک مشکل وقت سے گزر رہا ہے اور وزیراعظم سخت فیصلے لے رہے ہیں تاکہ جلد از جلد حالات کو بہتر بنایا جا سکے اور ان غیر مقبول فیصلوں کی وجہ سے ان کی سیاسی ساکھ بھی متاثر ہو رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ کسی نے ورلڈ بینک کے لئے کام کیا ہے یا آئی ایم ایف میں کام کیا ہو۔نجکاری کے حوالے سے سوال پر ان کا کہنا تھا کہ کچھ اداروں میں ایسا کرنا ضروری ہے اور کچھ میں ضرورت نہیں۔اس وقت آمدنی کا جو ہدف رکھا گیا ہے وہ بہت بڑا چیلنج ہے، چیئرمین فیڈرل بورڈ آف ریونیو شبر زیدی کی جتنی بھی حمایت کی جائے وہ کم ہے۔اسد عمر نے کہا کہ پی ٹی آئی کے چاہنے والوں میں بھی تبدیلی آئی ہے، اگر ہوائی اڈے جاؤں تو وہاں پر کھڑے گارڈز، مارکیٹ میں کھڑے عام لوگ مجھے آ کر کہتے ہیں کہ مشکل وقت ضرور ہے مگر گھبرانا نہیں ہے۔لوگوں کی امیدوں کا بہت دبا ؤہوتا ہے، رات کو سونے سے قبل یہ ضرور سوچتا ہوں کہ کیا ہم ان کی امیدوں پر پورا اتر سکیں گے۔انہوں نے کہا کہ میں اس وقت اسلام آباد کے ماسٹر پلان کے علاوہ دس کروڑ گیلن پانی کی اسکیم، نوجوان مراکز اور کرکٹ اسٹیڈیم پر کام کر رہا ہوں تاکہ پی ایس ایل کے میچز بھی یہاں ہو سکیں۔ان کا کہنا تھا کہ عمران خان کا حسِ مزاح بہترین ہے، جب سے کابینہ چھوڑی ہے تب میں وزیراعظم سے معیشت پر بات نہیں کرتا۔انہوں نے کہا کہ ورلڈکپ کے حوالے سے ہماری بہت بات چیت ہوتی تھی،

بھارت کے خلاف میچ میں جو ٹیم کھلائی گئی انہیں بالکل پسند نہیں آئی وہ مجھ پر غصہ کر رہے تھے کہ یہ کیسی ٹیم کھلا دی ہے۔سابق وزیر خزانہ نے کہا کہ عمران خان پرامید تو بہت ہوتے ہیں مگر وہ کسی کام کو مکمل طور پر ختم کرنے کے لئے بہت جان مارتے ہیں۔پارٹی میں رہنماؤں کے اختلافات سے متعلق سوال پر ان کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی ایک جمہوری پارٹی ہے، اصل سوال یہ ہے کہ دونوں رہنما ملک اور پارٹی کے لئے کیا کردار ادا کر رہے ہیں، جہانگیر ترین ہوں یا شاہ محمود دونوں پارٹی اور ملک کی خاطر ایک صفحے پر ہوتے ہیں۔

مسلم لیگ (ن)  کے رہنما احسن اقبال کے ساتھ اچھے تعلقات ہیں انہیں میں بہت پسند کرتا ہوں،سیاسی طورپر تو ہم ایک دوسرے کو نہیں بخشتے مگر ذاتی طور پر ہمارا اچھا تعلق ہے۔ایک سالہ کارکردگی کے حوالے سے سوال پر ان کا کہنا تھا کہ حکومت کا پہلا سال تھوڑا سخت ہوتا ہے چیزوں کے بارے میں زیادہ سمجھ نہیں ہوتی،اس میں کوئی شک نہیں کہ بہتری کی گنجائش تھی مگر اس کے باوجود یہ سال اچھا رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ حکومت کی شروعاتی دنوں میں جو فواد چوہدری نے میڈیا کے حوالے سے اقدام کیا وہ اصولی طور پر باکل ٹھیک تھا مگرسخت تھا جن کے ذریعے پیغام پہنچایا جانا تھا انہیں ہی ناراض کر دیا گیا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



نواز شریف کی سیاست میں انٹری


لارنس گارڈن کے کرکٹ گرائونڈ میں میچ چل رہا تھا‘…

چوہے کھانا بند کریں

ہندوستان کا کوئی شہزادہ مہاتما بودھ کے پاس گیا…

رعونت پر بکھری ہوئی خاک

کراچی میں وسیم انصاری نام کا ایک چھوٹا سا سٹیج…

وہ واقعہ جو کتاب میں نہیں

1999ء میں دو وزیراعظم ہانگ کانگ میں ایک ہی ہوٹل…

بخاریؒ کو امام بنانے والے لوگ

نویں صدی کا شہر بخاراتھا اور اس شہر میں ایک سادہ…

شوگر کے مریضوں کے لیے

گرو زاہد سے میرا رابطہ ایک ویڈیو کلپ سے ہوا تھا‘…

بسنت کے معاملے میں

یہ آج سے پندرہ برس پرانی بات ہے‘ میں اپنے بچوں…

بٹرفلائی افیکٹ

وہ دکان کے سامنے پریشان کھڑی تھی‘ اس کے بال الجھے…

آئل اینڈ سپیس وار

مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…