منگل‬‮ ، 18 اگست‬‮ 2026 

نیب کے زیر حراست دو وعدہ معاف گواہوں نے شہباز شریف،حمزہ اور سلمان شہباز کے لئے منی لانڈرنگ کا اعتراف کرلیا،سنسنی خیز انکشافات

datetime 10  اگست‬‮  2019 |

لاہور(این این آئی)قومی احتساب بیورو (نیب)کے زیر حراست دو وعدہ معاف گواہوں نے پاکستان مسلم لیگ (ن) کے صدر شہباز شریف اور ان کے دونوں بیٹوں حمزہ شہباز اور سلمان شہباز کے لیے منی لانڈرنگ کا اعتراف کرلیا۔نیب سے جاری بیان کے مطابق ملزمان آفتاب محمود اور شاہد رفیق کو ضلع کچہری کے جوڈیشل مجسٹریٹ ذوالفقار باری کے روبرو پیش کیا گیا

جہاں انہوں نے شہباز شریف فیملی کے خلاف اپنے بیانات قلمبند کرائے۔ وعدہ معاف گواہوں نے جوڈیشل مجسٹریٹلاہور کے سامنے اپنے بیانات ریکارڈ کرائے۔انہوں نے اعتراف کیا کہ شہباز شریف اور ان کے بیٹوں کی ایما  پر پاکستان میں 24 لاکھ ڈالر سے زائد رقم ٹی ٹی کے ذریعے ٹرانسفر کی گئی۔آفتاب محمود نے اقرار کیا کہ اس نے برطانیہ میں عثمان انٹرنیشنل نامی کمپنی سے رقوم شریف فیملی کو منتقل کیں۔زیر حراست ملزم کا کہنا تھا کہ جعلی شناخت کے ذریعے حمزہ شہباز، سلمان شہباز، نصرت شہباز اور رابعہ عمران علی کے بینک اکاؤنٹس میں ٹی ٹی کے ذریعے رقوم منتقل کی گئیں۔علاوہ ازیں آفتاب محمود نے اعتراف کیا کہ وہ اپنے کزن شاہد رفیق کے ساتھ مل کر ٹی ٹیز کی مد میں رقم موصول کرتا تھا۔اعترافی بیان میں آفتاب محمود نے بتایا کہ برطانیہ کی دیگر کمپنیوں سے بھی شریف فیملیز کو بھاری رقوم منتقل کیں تاہم حمزہ شہباز اور سلمان شہباز کو بارگلے اور ایچ ایس بی سی بینک سے بھی رقوم منتقل کی گئیں۔دوسرے وعدہ معاف گواہ شاہد رفیق نے اپنے اعترافی بیان میں کہا کہ  میں سلمان شہباز کے آفس سے رقوم لے کر بیرون ملک منتقل کرتا تھا۔شاہد رفیق نے اقرار کیا کہ وہ اپنے کزن آفتاب محمود کے ساتھ مل کر جعلی شناخت کے ذریعے رقوم کی منتقلی کرتا تھا۔انہوں نے بتایا کہ میرے پاس میسرز زارکو ایکسچینج اور ٹرپل اے کی فرنچائز تھیں جس سے رقوم منتقل کی جاتیں تھیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)


ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…