منگل‬‮ ، 24 فروری‬‮ 2026 

نیب کے زیر حراست دو وعدہ معاف گواہوں نے شہباز شریف،حمزہ اور سلمان شہباز کے لئے منی لانڈرنگ کا اعتراف کرلیا،سنسنی خیز انکشافات

datetime 10  اگست‬‮  2019 |

لاہور(این این آئی)قومی احتساب بیورو (نیب)کے زیر حراست دو وعدہ معاف گواہوں نے پاکستان مسلم لیگ (ن) کے صدر شہباز شریف اور ان کے دونوں بیٹوں حمزہ شہباز اور سلمان شہباز کے لیے منی لانڈرنگ کا اعتراف کرلیا۔نیب سے جاری بیان کے مطابق ملزمان آفتاب محمود اور شاہد رفیق کو ضلع کچہری کے جوڈیشل مجسٹریٹ ذوالفقار باری کے روبرو پیش کیا گیا

جہاں انہوں نے شہباز شریف فیملی کے خلاف اپنے بیانات قلمبند کرائے۔ وعدہ معاف گواہوں نے جوڈیشل مجسٹریٹلاہور کے سامنے اپنے بیانات ریکارڈ کرائے۔انہوں نے اعتراف کیا کہ شہباز شریف اور ان کے بیٹوں کی ایما  پر پاکستان میں 24 لاکھ ڈالر سے زائد رقم ٹی ٹی کے ذریعے ٹرانسفر کی گئی۔آفتاب محمود نے اقرار کیا کہ اس نے برطانیہ میں عثمان انٹرنیشنل نامی کمپنی سے رقوم شریف فیملی کو منتقل کیں۔زیر حراست ملزم کا کہنا تھا کہ جعلی شناخت کے ذریعے حمزہ شہباز، سلمان شہباز، نصرت شہباز اور رابعہ عمران علی کے بینک اکاؤنٹس میں ٹی ٹی کے ذریعے رقوم منتقل کی گئیں۔علاوہ ازیں آفتاب محمود نے اعتراف کیا کہ وہ اپنے کزن شاہد رفیق کے ساتھ مل کر ٹی ٹیز کی مد میں رقم موصول کرتا تھا۔اعترافی بیان میں آفتاب محمود نے بتایا کہ برطانیہ کی دیگر کمپنیوں سے بھی شریف فیملیز کو بھاری رقوم منتقل کیں تاہم حمزہ شہباز اور سلمان شہباز کو بارگلے اور ایچ ایس بی سی بینک سے بھی رقوم منتقل کی گئیں۔دوسرے وعدہ معاف گواہ شاہد رفیق نے اپنے اعترافی بیان میں کہا کہ  میں سلمان شہباز کے آفس سے رقوم لے کر بیرون ملک منتقل کرتا تھا۔شاہد رفیق نے اقرار کیا کہ وہ اپنے کزن آفتاب محمود کے ساتھ مل کر جعلی شناخت کے ذریعے رقوم کی منتقلی کرتا تھا۔انہوں نے بتایا کہ میرے پاس میسرز زارکو ایکسچینج اور ٹرپل اے کی فرنچائز تھیں جس سے رقوم منتقل کی جاتیں تھیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



نواز شریف کی سیاست میں انٹری


لارنس گارڈن کے کرکٹ گرائونڈ میں میچ چل رہا تھا‘…

چوہے کھانا بند کریں

ہندوستان کا کوئی شہزادہ مہاتما بودھ کے پاس گیا…

رعونت پر بکھری ہوئی خاک

کراچی میں وسیم انصاری نام کا ایک چھوٹا سا سٹیج…

وہ واقعہ جو کتاب میں نہیں

1999ء میں دو وزیراعظم ہانگ کانگ میں ایک ہی ہوٹل…

بخاریؒ کو امام بنانے والے لوگ

نویں صدی کا شہر بخاراتھا اور اس شہر میں ایک سادہ…

شوگر کے مریضوں کے لیے

گرو زاہد سے میرا رابطہ ایک ویڈیو کلپ سے ہوا تھا‘…

بسنت کے معاملے میں

یہ آج سے پندرہ برس پرانی بات ہے‘ میں اپنے بچوں…

بٹرفلائی افیکٹ

وہ دکان کے سامنے پریشان کھڑی تھی‘ اس کے بال الجھے…

آئل اینڈ سپیس وار

مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…