جمعہ‬‮ ، 28 مارچ‬‮ 2025 

پارٹی پالیسیوں سے اختلاف یا سینٹ میں شکست کا غم؟ اپوزیشن جماعتوں میں پھوٹ پڑ گئی، پیپلزپارٹی کے اہم ترین سینیٹر نے مستعفی ہونے کا اعلان کر دیا

datetime 1  اگست‬‮  2019
ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

اسلام آباد(آن لائن) پیپلز پارٹی کے سینیٹر مصطفیٰ نواز کھوکھر نے چیئرمین سینٹ صادق سنجرانی کے خلاف تحریک عدم اعتماد کی ناکامی پر دلبرداشتہ ہو کر مستعفی ہونے کا اعلان کردیا ہے۔ سیٹ پارٹی کی امانت ہے استعفیٰ پارٹی چیئرمین کو بھجوارہا ہوں۔ جمعرات کے روز میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے پیپلز پارٹی کے سینیٹر مٖصطفٰی نواز کھوکھر نے چیئرمین سینٹ صادق سنجرانی کے خلاف تحریک عدم اعتماد کی ناکامی پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ سینٹ میں جو کچھ ہوا،

اچھا نہیں ہوا میری سیٹ پارٹی کی امانت ہے میں اپنا استعفیٰ پارٹی چیئرمین کو بھجوا رہا ہوں۔ واضح رہے کہ اپوزیشن نے پارٹی پالیسی سے انحراف کرنے والے 14 سینیٹرز کو بے نقاب کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ جن چودہ ارکان نے اپنا ضمیر بیچا ان کی نشاندہی کرینگے،اپنی پارٹی کی پیٹھ پر چھرا گھونپنے والوں کو نہیں چھوڑیں گے،اگلے ہفتے ہونے والی آل پارٹیز کانفرنس میں سینٹ میں ہونے والی ہارس ٹریڈنگ پر بات کریں گے، سلیکٹڈ حکومت نے سینٹ کو بھی سلیکٹڈ کر دیا، خفیہ ووٹنگ میں 14 ووٹ کم پڑے،اخلاقی طور پر چیئرمین سینیٹ کو اب بھی مستعفی ہوجانا چاہیے،سینیٹر شبلی فراز کس چیز کی فتح پر ڈیسک بجا رہے تھے؟ کیا وہ ضمیر فروشی پر ڈیسک بجارہے تھے؟ہم سینٹ میں اصلاحات لائینگے۔ جمعرات کو چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی کیخلاف تحریک عدم اعتماد ناکام ہونے کے بعد اپوزیشن لیڈر شہباز شریف کی زیرصدارت اپوزیشن رہنماؤں ہنگامی اجلاس ہوا جس میں فیصلہ کیا گیا کہ جن 14 سینیٹرز نے دھوکا دیا انہیں بے نقاب کیا جائے گا۔اجلاس کے بعد چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری اور دیگر رہنماؤں کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے پاکستان مسلم لیگ ن کے صدر شہباز شریف نے کہا کہ اجلاس میں پارٹی پالیسی سے انحراف کرنے والے اراکین کے خلاف سخت کارروائی کا فیصلہ کیا گیا ہے۔شہباز شریف نے کہا کہ جن 14 ارکان نے اپنا ضمیر بیچا ان کی نشاندہی کریں گے، ہم اگلے ہفتے آل پارٹیز کانفرنس (اے پی سی) بلائیں گے جس میں زیر بحث آنے والے آپشنز پر غور کریں گے۔

اپوزیشن لیڈر نے کہا کہ ہم نے طے کیا ہے کہ سینیٹ کے ہر اجلاس میں بھرپور شرکت کریں گے، سینیٹ کے اجلاس میں ہونے والی ہارس ٹریڈنگ پر بات کریں گے۔شہباز شریف نے الزام عائد کیا کہ سلیکٹڈ حکومت نے سینٹ کو بھی سلیکٹڈ کر دیا، خفیہ ووٹنگ میں 14 ووٹ کم پڑے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ گزشتہ برس جو دھاندلی زدہ الیکشن ہوئے تھے اس کی تاریخ دہرائی گئی ہے۔اپوزیشن لیڈر نے کہا کہ تمام جماعتوں نے مشاورت کے بعد فیصلہ کیا ہے کہ جن 14 ارکان نے ضمیر فروشی کی ہم ان کی نشاندہی کرکے عوام کے سامنے انہیں بے نقاب کریں گے۔

اس موقع پر چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ سینیٹ میں جمہوریت پر کھلے عام حملہ کیا گیا، جب تحریک پیش کی گئی تو 64 سینیٹرز نے کھڑے ہوکر حمایت کی لیکن خفیہ رائے شماری میں تعداد کم ہوگئی۔انہوں نے کہا کہ بعض اراکین کے انحراف کے باوجود 50 سینیٹرز نے چیئرمین سینیٹ کیخلاف ووٹ دیا لہٰذا اخلاقی طور پر چیئرمین سینیٹ کو اب بھی مستعفی ہوجانا چاہیے۔چیئرمین پیپلز پارٹی نے کہا کہ یہ سینیٹ پر حملہ ہے جس کا حساب لیا جائیگا، ہم اپنی جماعت میں بھی دیکھیں گے کہ وہ کون تھا جو دباؤ میں آیا، کون تھا جس نے اپنا ضمیر بیچا،

14 سینیٹرز نے اپنی پارٹی کی پیٹھ پر چھرا گھونپا ہے ہم انہیں نہیں چھوڑیں گے۔بلاول نے حکومت کو خبردار کیا کہ حکومت یہ نہ سمجھے کہ متحدہ اپوزیشن اس کا پیچھا چھوڑ دیگی، یہ سلسلہ جاری رہے گا، اے پی سی بلائی جارہی ہے، ہم یہ لڑائی سینیٹ میں لڑیں گے، سینیٹ میں اصلاحات لے کر آئیں گے، سینیٹ میں صاف و شفاف الیکشن کرانے کیلئے اصلاحات لے کر آئیں گے، رولز کو دیکھیں گے اور اس چیئرمین سینیٹ کا مقابلہ کریں گے۔بلاول نے استفسار کیا کہ سینیٹر شبلی فراز کس چیز کی فتح پر ڈیسک بجا رہے تھے؟ کیا وہ ضمیر فروشی پر ڈیسک بجارہے تھے؟

چیئرمین پیپلز پارٹی نے کہا کہ متحدہ اپوزیشن متحد ہے، سڑکوں اور پارلیمنٹ میں جدوجہد جاری رہے گی، آج جیت جاتے تو بھی جیت تھی لیکن ہار میں بھی ہماری جیت ہے کیوں کہ ہم نے ہار کر کٹھ پتلی سینیٹرز کو بے نقاب کردیا ہے۔اس موقع پر جمعیت علمائے اسلام کے مولانا اسد محمود نے کہا کہ سینٹ میں بد ترین ہارس ٹریڈنگ کی گئی۔انہوں نے کہ اکہ اپوزیشن کی تحریک پر 64 ووٹ پڑے، دباؤ کے تحت سینیٹرز نے فیصلہ بدلا، بتائیں طاقت کا استعمال ہوا یا پیسہ لگا؟انہوں نے کہا کہ 25 جولائی 2018 کو جو دباؤ تھا وہی دباؤ اب بھی ہے لیکن ہم نے نہ اس دباؤ کو مانا اور نہ اب مانیں گے۔

موضوعات:

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



فنگر پرنٹس کی کہانی۔۔ محسن نقوی کے لیے


میرے والد انتقال سے قبل اپنے گائوں میں 17 کنال…

نارمل معاشرے کا متلاشی پاکستان

’’اوئے پنڈی وال‘ کدھر جل سیں‘‘ میں نے گھبرا…

آپ کی امداد کے مستحق دو مزید ادارے

یہ2006ء کی انگلینڈ کی ایک سرد شام تھی‘پارک میںایک…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے (دوسرا حصہ)

بلوچستان کے موجودہ حالات سمجھنے کے لیے ہمیں 1971ء…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے؟ (پہلا حصہ)

قیام پاکستان کے وقت بلوچستان پانچ آزاد ریاستوں…

اچھی زندگی

’’چلیں آپ بیڈ پر لیٹ جائیں‘ انجیکشن کا وقت ہو…

سنبھلنے کے علاوہ

’’میں خانہ کعبہ کے سامنے کھڑا تھا اور وہ مجھے…

ہم سیاحت کیسے بڑھا سکتے ہیں؟

میرے پاس چند دن قبل ازبکستان کے سفیر اپنے سٹاف…

تیسری عالمی جنگ تیار(دوسرا حصہ)

ولادی میر زیلنسکی کی بدتمیزی کی دوسری وجہ اس…

تیسری عالمی جنگ تیار

سرونٹ آف دی پیپل کا پہلا سیزن 2015ء میں یوکرائن…

آپ کی تھوڑی سی مہربانی

اسٹیوجابز کے نام سے آپ واقف ہیں ‘ دنیا میں جہاں…