بدھ‬‮ ، 09 ستمبر‬‮ 2026 

نتائج تسلیم کرنے سے انکار،جمعیت علماء اسلام نے قبائلی اضلاع میں انتخابات کو دھاندلی زدہ قرار دیدیا،دھماکہ خیز اعلان

datetime 21  جولائی  2019 |

بنوں (آ ن لائن)جمعیت علماء اسلام  فاٹا کے امیر ممبر قومی اسمبلی مفتی عبدالشکور نے ملک رحمت اللہ خان اور ملک میر گل خان کے ہمراہ  قبائلی اضلاع میں انتخابات کو دھاندلی زدہ اور الیکشن کمیشن آف پاکستان کے انتظامات پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے بنوں پریس کلب میں ہنگامی پریس کانفرنس سے خطاب کے دوران کہا کہ دنیا جانتی ہے کہ قبائلی اضلاع جمعیت کا گڑھ تھا اور ہیں ہم دعویٰ سے کہتے ہیں کہ  حالیہ انتخابات میں ہمارے اُمیدوار ہارے نہیں بلکہ ان کو طاقت اور دھاندلی کے ذریعے ہرایا گیا ہے

ہم اس جعلی مینڈیٹ کو تسلیم نہیں کرتے اور ہم حکومت کہ متنبہ کرتے ہیں کہ وہ شمالی وزیرستان اور جنوبی وزیرستان میں اوچھے ہرہتھکنڈوں سے باز آجائیں بصورت دیگر ان کے نتائیج خطر ناک بر امدہو ں گے اُنہوں نے کہا کہ شمالی وزیرستان کے علاقہ شیواہ میں ہمارے اُمیدوارکے ایجنٹوں کو سیکورٹی اداروں کی موجودگی میں باہر نکالا گیا اور پی ٹی آئی کے امیدوار نے خود بیلٹ پر مہر لگائے اور دن دہاڑے ہمارے مینڈیٹ پر اداروں کی موجودگی میں ڈاکہ ڈالا گیا ہم ایسی جعلی مینڈیٹ کو کسی صورت بھی ماننے کے لئے تیار نہیں ہم الیکشن کمیشن اف پاکستان اور سپریم کورٹ سمیت تمام اداروں سے مطالبہ کرتے ہیں کہ اس کی انکوائری کی جائے اور ہمیں ہمارا مینڈیٹ واپس دیا جائے  انہون نے مزید کہا کہ حکومت نے حلقہ پی کے115کے عوام کے ضمیر خریدنے اور ان کو طاقت کے ذریعے دبانے کی پھر پور کوشش کی لیکن حلقہ کے غیور عوام ان کے دباؤ میں نہیں آئے جس پر ہم حلقہ کے عوام کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں شمالی وزیرستان اور جنوبی وزیرستان کے حالات کو مد نظر رکھتے ہوئے انتظامات کرنے کی ضروری تھی لیکن الیکشن کمیشن آف پاکستان نے ضم شدہ اضلاع میں ہونے والے اس اہم موقع کو سنجیدگی سے نہیں لیا اور الیکشن کمیشن کے انتظامات سے ہم کسی صورت بھی مطمین نہیں انہوں نے رائے دہندگان کے لئے جو ماحول بنایا تھا وہ انتہائی نا مناسب تھا اور اس کی وجہ سے ہمارے ہزاروں ووٹ ضائع ہوئے اس کے علاوہ ایک ایف ار کے ووٹ دوسرے ایف آر کی فہرست میں ڈالے گئے

جو ضائع ہوئے ہمارے ساتھ جو کچھ ہو ا  ہمارے مینڈیٹ کو جس طریقے سے چوری کیا گیا یہ سب الیکشن کمیشن  اور سیکورٹی کے ناقص انتظامات کی وجہ سے ہوا انہوں نے کہا کہ ہم اس حوالے سے تمام قانونی راستے بھی اختیار کریں گے اور اگر الیکشن کمیشن آف پاکستان نے ہمارے مطالبات پر غور نہیں کیا تو اپنے قائد کی ہدایات کی روشنی میں فاٹا کے عوام سے مشاورت کے بعد اس کے خلاف احتجاجی تحریک چلائیں گے اور اخر دم تک چین سے نہیں بیٹھیں گیا کیونکہ ہم کسی کو جمعیت کو دیوار سے لگانے نہیں دیں گے اس موقع پر انہوں نے ایف ار کے عوام کا شکریہ ادا کیا کہ انہوں نے کسی قسم کا دباؤ قبول نہیں کیا اور نہ کسی کو ان کا ضمیر خریدنے دیا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)


لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…