شہبازشریف کی شعبدہ بازی،نوید اکرام ایرا کے پیسے سے زمین کیسے خرید رہا تھا؟پاور آف اٹارنی علی عمران کے نام کی تھی،حیرت انگیز انکشافات

  جمعرات‬‮ 18 جولائی‬‮ 2019  |  21:17

اسلام آباد (آن لائن ) وفاقی معاون خصوصی برائے احتساب شہزاد اکبر نے کہا ہے کہ شہباز شریف نے شعبدہ بازی کی،اصل حقائق چھپائے، ایرا فنڈز سے3ادائیگیاں ہوئیں،پہلی ادائیگی6 ستمبر2012ء کو2 کروڑ، دوسری ادائیگی مارچ 2013ء کو13 ملین، اورتیسری ادائیگی جولائی2011ء میں 27 ملین کی گئیں،ہم ان3 ادائیگیوں کا پوچھ رہے ہیں۔انہوں نیج یہاں سابق وزیراعلیٰ پنجاب میاں شہبازشریف کی پریس کانفرنس پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ شہباز شریف نے آج شعبدہ بازی کی۔ شہبازشریف نے اصل حقائق چرانے کی کوشش کی۔ علی عمران اینڈ کو کے3 ادائیگیوں کے چیکس دکھائے گئے۔ 6 ستمبر 2012ء کو2 کروڑ روپے کی پہلی


ادائیگی کی گئی۔ دوسری ادائیگی 13 ملین کی مارچ 2013ء میں کی گئی۔ تیسری ادائیگی 27 ملین کی جولائی2011ء میں کی گئی۔ انہوں نے کہا کہ تینوں ادائیگیوں کی رقم ملا کر 6 کروڑ روپے بنتی ہے۔ ہم صرف 3 ادائیگیوں کا پوچھ رہے ہیں جوایرا سے کی گئیں۔ انہوں نے کہا کہ چیک سے ادائیگی نوید اکرام نے کی۔ پاور آف اٹارنی علی عمران کے نام کی تھی۔ نوید اکرام نے عدالت میں علی عمران کا کردار بتایا۔ نوید اکرام کے معاملے میں شہبازشریف کا انصاف سمجھ نہیں آیا۔ نوید اکرام غریب تھا تو چھترول کرا دی۔لیکن علی عمران کا کیا کیا؟ انہوں نے کہا کہ شہبازشریف کی پریس کانفرنس کی اصل وجہ ہے پورے ٹبر کی چوری پکڑی گئی۔ 13کروڑ روپے ادائیگی سے زمین خریدی گئی۔ نوید اکرام ایرا کے پیسے سے زمین کیسے خرید رہا تھا؟ وفاقی معاون خصوصی برائے اطلاعات ونشریات ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان نے اپوزیشن لیڈر شہبازشریف کی پریس کانفرنس پر ردعمل میں کہا کہ یہ آج یہ دھڑی اور دھیلے کی بات کررہے۔لیکن ان کی دھڑی سے مطلب کھرب اور دھیلے سے مطلب ارب ہے۔ شاہد خاقان عباسی خود کہتے رہے ہیں جس نے گرفتارکرنا ہے کرلے۔ شاہد خاقان عباسی نے کوئی ضمانت قبل ازگرفتاری نہیں کرائی تھی۔ شاہد خاقان عباسی کی توخواہش تھی کہ انہیں گرفتارکیا جائے۔ فردوس عاشق اعوان نے کہا کہ قانون کی عملداری جب رنگ پکڑتی ہے تو ان کے چہرے زرد ہوجاتے ہیں۔ جوشخص نیب کا ملزم ہو وہ ضمانت کراتا ہے یا قانونی چارہ جوئی کرتا ہے۔انہوں نے کہا کہ بیگناہی کے ثبوت دینے کا فورم عدالتیں ہیں وہاں بیگناہی کے ثبوت دینے چاہیے۔ شہباز شریف میڈیا کے بجائے اپنی صفائی عدالتوں میں دیں۔ ن لیگ حکومت کو نیب کے عمل میں گھسیٹ رہی ہے۔ حکومت کا وزیربلدیات نیب کے ہاتھوں گرفتارہوئے او قانونی پراسس کے بعد رہا ہوئے۔ وزیر جنگلات بھی گرفتار ہوا اور اس وقت نیب کی حراست میں ہیں۔ ن لیگ کے دور میں کوئی ایک مثال بتا دیں جس میں وزیر گرفتار ہوا ہو۔ ادارے آزاد ہیں اور شفاف انداز میں کام کررہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ شاہد خاقان عباسی نے قبل ازگرفتاری ضمانت نہیں کروائی۔ نیب کے بلاوے اور گرفتاری میں فرق ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم کا اتنا جرم ہے کہ انہوں نے قانون کی حکمرانی کو یقینی بنایا۔

loading...