بدھ‬‮ ، 19 اگست‬‮ 2026 

درندے نے دس سالہ بچے کو زیادتی کے بعد سر میں پتھر مار مار کر بے دردی سے قتل کر دیا، ماں کی بیٹے کی لاش کے قریب بیٹھ کر رو رو کر وزیراعظم عمران خان سے فریاد

datetime 15  جولائی  2019 |

لاہور (مانیٹرنگ ڈیسک) باٹا پور کے علاقے میں دس سالہ بچہ درندگی کا نشانہ بن گیا، بچے کے ساتھ مبینہ زیادتی کے بعد اس کے سر میں پتھر مار مار کر قتل کر دیا گیا، پولیس نے والد امجد علی کی مدعیت میں نامعلوم افراد کے خلاف مقدمہ درج کر لیا ہے، لاہور میں بچوں کے ساتھ زیادتی کے واقعات تھم نہ سکے،

باٹا پور کے رہائشی امجد کا دس سالہ بیٹا گھر سے بکریاں چرانے کے لیے گیا جسے کسی درندہ صفت شخص نے زیادتی کا نشانہ بنا ڈالا،  نہ صرف زیادتی کا نشانہ بنایا بلکہ اس کے سر پر پتھر مار مار کر بے دردگی سے قتل کر دیا، دس سالہ سبحان چوتھی کلاس کا طالب علم تھا اور فارغ اوقات میں گھر کا پہیہ چلانے کے لیے والد کا ہاتھ بٹاتا تھا، بچے کے والد نے بتایا کہ اس کے دو ہی بچے تھے ایک بیٹا اور ایک بیٹی، اس نے روتے ہوئے کہا کہ آج میں لُٹ گیا ہوں، دس سالہ سبحان کی والدہ نے وزیراعظم عمران خان اور پولیس حکام سے بیٹے کے قاتل کو عبرتناک انجام تک پہنچانے کی اپیل کر دی ہے، بچے کی والدہ فرح بی بی نے رو رو کر بتایا کہ میرے بچے کے ساتھ زیادتی کرکے، اس کا گلہ دبایا گیا اور پھر پتھر مار کر اسے مارا گیا ہے، مجھے عمران خان اور حکومت سے انصاف چاہیے، اگر اللہ نے اس کو یہ کرسی تو مجھے بس انصاف دلا دے اور مجھے کچھ نہیں چاہیے، دوسری جانب بچے کی لاش کو تحویل میں لے کر پولیس نے پوسٹ مارٹم کے لیے ہسپتال منتقل کر دیا، ایس پی کینٹ صفدر رضا کاظمی کا کہنا ہے کہ بچے کی لاش گھر کے قریب کھیتوں سے ملی، انہوں نے کہا کہ پولیس فرانزک پنجاب کی خدمات حاصل کر رہی ہے بہت جلد قاتل تک پہنچ جائیں گے، ایس پی کینٹ نے کہا کہ جلد ملزمان کو گرفتار کرکے تمام حقائق آپ کے سامنے رکھے جائیں گے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)


ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…