اتوار‬‮ ، 22 فروری‬‮ 2026 

ویڈیو ریلیز کے بعد عدالت سے رجوع نہ کرنا ایسے ہی ہے جیسے اب نواز شریف ن لیگ کی ہی قید میں ہوں، اعتراز احسن کے انٹرویو میں حیران کن دعوے

datetime 10  جولائی  2019 |

اسلام آباد (آن لائن) پیپلزپارٹی کے سینئر رہنماء اور ممتاز قانون دان چوہدری اعتراز احسن نے کہا ہے کہ میاں نواز شریف کیس کے حوالے سے ویڈیو ریلیز کرنے کے بعد مسلم لیگ (ن) کا عدالت سے رجوع نہ کرنا ایسے ہی ہے کہ جیسے اب میاں نواز شریف مسلم لیگ (ن) کی ہی قید میں ہوں۔ مسلم لیگ (ن) کو فوری طور پر یہ ویڈیو عدالت میں پیش کرکے میاں نواز شریف کیلئے آسانی پیدا کرنی چاہیے محض ویڈیو ریلیز کرنے سے میاں نواز شریف رہا نہیں ہوں گے بلکہ عدالت میں

اس ویڈیو کو سچا ثابت کرکے میاں نواز شریف کو رہا کروالینا چاہیے۔ جس دن یہ ویڈیو عدالت میں سچ ثابت ہوگئی اس دن حکومت کیلئے یہ بہت بڑا دھماکہ ہوگا۔ گزشتہ روز ایک انٹرویو میں انہوں نے کہا کہ اگر یہ ویڈیو سچ ثابت نہ ہوئی تو پھر کئی لوگ پکڑ میں آجائیں گے۔ پریس کانفرنس کرنے والے کئی لوگ مشکل میں پھنس جائیں گے اور اگر ویڈیو لے کر کوئی بھی عدالت نہ گیا تو پھر میاں نواز شریف جیل میں ہی رہیں گے۔ میاں نواز شریف کی رہائی جیلر کو ویڈیو دکھا کر نہیں ہوسکتی بلکہ ایک عدالتی حکم ہی انہیں آزاد کر سکتا ہے کیونکہ وہ ایک عدالتی حکم پر ہی جیل گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مسلم لیگ (ن) ایک بڑی جماعت ہے اور اس کے سنجیدہ لیڈروں نے مریم بی بی کے آس پاس بیٹھ کر جو پریس کانفرنس کی ہے وہ وزن رکھتی ہے یہ امید کی جارہی تھی کہ اگلا قدم مسلم لیگ (ن) کا یہ ہوگا کہ خواجہ حارث قیادت کے ساتھ بیٹھ کر اعلان کرتے کہ ہم ویڈیو لے کر عدالت جا رہے ہیں لیکن مریم بی بی اور دوسرے لوگ اس میں مسلسل تاخیر کررہے ہیں۔ چوہدری اعتزاز احسن نے کہا کہ اصل ویڈیو کا فرانزک لازمی ہونا چاہیے اور جب معاملہ عدالت میں جائے گا تو اس کے تمام پہلوؤں پر جرح ہوگی۔ چونکہ ہائی کورٹ کے پاس از خود نوٹس لینے کا اختیار نہیں ہے اس لئے مسلم لیگ (ن) کو مدعی بن کر خود عدالت سے رجوع کرنا ہوگا اور پھر مسلم لیگ (ن) نے اس ویڈیو کو سچ ثابت کردیا تو

پھر حکومت کیلئے مشکلات پیدا ہوجائیں گی اور میاں نواز شریف جیل سے باہر آجائیں گے۔ اور اگر یہ ویڈیو ٹمپرڈ ثابت ہوگئی تو مریم بی بی سمیت کئی لوگ مشکل میں آجائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ محترمہ بے نظیر بھٹو اور آصف علی زرداری کو دی گئی سزا کی جو آڈیو ٹیپس سامنے آئی تھیں ان کی تردید نہ تو جسٹس (ر) ملک قیوم نے کی تھی اور نہ ہی جسٹس راشد عزیز نے کی تھی اور نہ ہی شہباز شریف اور میاں نواز شریف نے آج تک کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ مسلم لیگ (ن) اگر اس ویڈیو کو درست سمجھتی ہے تو عدالت جانے میں تاخیر نہ کرے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



چوہے کھانا بند کریں


ہندوستان کا کوئی شہزادہ مہاتما بودھ کے پاس گیا…

رعونت پر بکھری ہوئی خاک

کراچی میں وسیم انصاری نام کا ایک چھوٹا سا سٹیج…

وہ واقعہ جو کتاب میں نہیں

1999ء میں دو وزیراعظم ہانگ کانگ میں ایک ہی ہوٹل…

بخاریؒ کو امام بنانے والے لوگ

نویں صدی کا شہر بخاراتھا اور اس شہر میں ایک سادہ…

شوگر کے مریضوں کے لیے

گرو زاہد سے میرا رابطہ ایک ویڈیو کلپ سے ہوا تھا‘…

بسنت کے معاملے میں

یہ آج سے پندرہ برس پرانی بات ہے‘ میں اپنے بچوں…

بٹرفلائی افیکٹ

وہ دکان کے سامنے پریشان کھڑی تھی‘ اس کے بال الجھے…

آئل اینڈ سپیس وار

مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…