بدھ‬‮ ، 19 اگست‬‮ 2026 

آل افغان کانفرنس،طالبان نے بڑی یقین دہانی کرادی،افغانستان میں اسلامی قانونی نظام نافذ ہوگا، مشترکہ اعلامیہ جاری

datetime 9  جولائی  2019 |

دوحہ (این این آئی) قطر کے دارالحکومت دوحہ میں طالبان اور افغانستان کے نمائندوں کے درمیان منعقد کی گئی 2 روزہ آل افغان کانفرنس میں قیام امن اور 18 سال سے جاری جنگ کے خاتمے کے منصوبے پر اتفاق ہوگیا۔غیر ملکی میڈیا کے مطابق امریکی نمائندہ برائے افغان امن عمل زلمے خلیل زاد نے کہا کہ وہ یکم ستمبر تک افغانستان میں قیام امن کے حتمی معاہدے کیلئے پْرامید ہیں جس کے بعد امریکہ اور نیٹو کی افواج کو انخلاء کی اجازت دی جائے گی۔کانفرنس کے مشترکہ اعلامئے میں کہا گیا کہ

جنگ کے خاتمے کے بعد افغانستان میں اسلامی قانونی نظام نافذ ہوگا، اسلامی اقدار کے تحت خواتین کے حقوق کی حفاظت کی جائیگی اور تمام قومیتوں کیلئے مساوات کو یقینی بنایا جائے گا۔آل افغان کانفرنس میں طالبان، افغان حکومت کے نمائندوں، خواتین اور دیگر نامور شخصیات نے شرکت کی، جس کا مقصد افغان معاشرے میں اتفاق رائے قائم کرنا تھا۔تاہم اس حوالے سے آئندہ مذاکرات کیلئے کوئی تاریخ نہیں بتائی گئی کہ اسلامی نظام کیسا ہوگا، آئینی اصلاحات کیسے لائی جائیں گی اور طالبان سے وابستہ مقامی جنگجوؤں کا کیا ہوگا۔فریقین کو اسلامی اقدار کے تحت خواتین کے حقوق کی تعریف اور ایک نگران انتظامیہ کے قیام اور انتخابات کے انعقاد کا وقت سے متعلق بھی بات چیت کرنی ہوگی۔طالبان نے سرکاری اداروں اور عوامی مقامات جیسا کہ ہسپتالوں اور سکولوں اور ہائیڈرو الیکٹرک ڈیمز پر حملہ نہ کرنے پر بھی اتفاق کیا۔اعلامئے میں کہا گیا کہ ضعیف، معذور اور بیمار قیدیوں کو غیر مشروط طور پر رہا کیا جائے گا لیکن اس حوالے سے یہ نہیں بتایا کہ قیدیوں میں جنگ کے دوران گرفتار کئے گئے افراد بھی شامل ہیں یا نہیں۔جرمنی اور قطر کی جانب سے منعقد کی گئی آل افغان کانفرنس میں شرکاء نے افغان حکومت کے باقاعدہ نمائندوں کی بجائے عام افغانیوں کے طور پر طالبان کے ساتھ شرکت کی تھی۔امریکہ اور طالبان کے درمیان ہونیوالے مذاکرات تصدیق شدہ انسداد دہشت گردی کی ضمانت ہیں جس کے بعد امریکہ اور نیٹو کی افواج کا انخلا ہوگا، بین الافغان مذاکرات کو آگے بڑھانے کے طریقے اور ایک حتمی جنگ بندی سے متعلق معاہدے پر توجہ مرکوز کیے جانے کا امکان ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)


ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…