اتوار‬‮ ، 22 فروری‬‮ 2026 

بڑھتی ہوئی مہنگائی اور ٹیکسسز میں اضافے پرتاجر برادری کاملک گیر ہڑتال کا فیصلہ برقرار، دھماکہ خیز اعلان کردیا

datetime 9  جولائی  2019 |

راولپنڈی (این این آئی)ملک بھر کے تاجروں کا بڑھتی ہوئی مہنگائی اور ٹیکسسز میں اضافے پر 13 جولائی.کو شٹر ڈاؤن کر نے کا فیصلہ برقرار۔ مرکزی نائب صدر ملک شاہد غفور پراچہ نے کہاکہ حکومت نے تاجروں کے مطالبات پر سنجیدگی کا مظاہرہ نہیں کیا تو ملک بھر میں کاروباری مراکز اور مارکیٹیں بند رہیں گی۔ انہوں نے کہاکہ ہڑتال کا اعلان ایک روز کا ہے مگریہ غیر معینہ مدت تک جاری رہ سکتی ہے۔ انہوں نے کہاکہ 13 جولائی کو ملک بھر کے تمام تجارتی مراکز بند

تجارتی سرگرمیاں معطل رہی گئیں۔ انہوں نے کہاکہ اب تک سمیت دیگر میڈیا چینلز کی بندش سے سچ کی آواز کو دبا یا نہیں جا سکتا۔ انہوں نے کہاکہ حکومت سنجیدگی سے معاملات حل کرنے کے لئے عملی اقدامات کرے۔دریں اثناء سرحد چیمبرآ ف کامرس اینڈ انڈسٹری کے صدر فیض محمد فیضی نے حکومت کی جانب سے حالیہ وفاقی و صوبائی بجٹ میں نئے ٹیکسز اور پر چون کی سطح پر ڈاکومینٹیشن کو مسترد کرتے ہوئے تاجر برادری کی جانب سے ملک گیر ہڑتال کی مکمل حمایت کا اعلان کیا ہے اور کہا ہے کہ حکومت بجٹ میں غیر منصفانہ اقدامات اور تاجر برادری پر لگائے گئے اضافی ٹیکسز واپس لے اور تاجروں کو بے جا ہراساں اور تنگ کرنے کا سلسلہ بند کیا جائے۔ تاجر برادری نے ملک کی معیشت کو سہارا دیا ہوا ہے اور رضا کارانہ طور پر ہر قسم کے ٹیکس ادا کررہے ہیں۔ ملک بالخصوص خیبر پختونخوا کی بزنس کمیونٹی پہلے ہی سے دہشت گردی اور انتہاء پسندی کا شکار رہی ہے جس کی وجہ سے کاروبارمتاثر ہوئے ہیں اور ایسے اقدامات سے مزید بے یقینی جیسے صورتحال پیدا ہوگی۔حکومت کو چاہئے کہ موجودہ ٹیکس گزاروں پر اضافی ٹیکسوں کا بوجھ ڈالنے کی بجائے انہیں نئے ٹیکس گزار تلاش کرنے چاہئیں۔ اگر حکومت نے اپنی پالیسیوں پر نظرثانی نہ کی تو ملک کی معیشت تباہی کے دہانے پر آجائے گی۔ سرحد چیمبر کے صدر فیض محمد فیضی نے

ایک بیان میں تاجروں کے خلاف حکومتی رویے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے 13 جولائی تاجر برادری کی جانب سے ہڑتال کی کال کی مکمل حمایت کی ہے اور اس عزم کو دہرایا کہ تاجر برادری کے حقوق اور مسائل کو ہر فورم پر اجاگر کرنے میں اپنا بھرپور کردار ادا کرتے رہیں گے۔ انہوں نے کہاکہ سرحد چیمبر نے کبھی بھی حکومتی پالیسیوں کی مخالفت نہیں کی لیکن موجودہ بجٹ میں اقدامات تاجر اور بزنس دشمن ہیں جس کے خلاف ہم احتجاج پر مجبور ہیں اور تاجروں کی ہڑتال کی کال کی

حمایت کرتے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ حکومت ہوش کے ناخن لے کیونکہ ایسے ہڑتالوں اور احتجاجوں سے ملکی معیشت کو شدید نقصان پہنچے گا۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ حکومت اپنی پالیسیوں پر نظرثانی کرکے اضافی ٹیکسوں کو فوری طور پر واپس لے۔انہوں نے کہاکہ بجٹ میں تاجر دشمن اقدامات سے تاجر برادری اور حکومت کے درمیان عدم اعتمادی کی فضاء پیدا ہوگی اور معیشت بھی غیر مستحکم ہوگی۔انہوں نے کہاکہ اس وقت تاجر برادری اور عوام مختلف قسم کے اربوں روپے کے ٹیکسز ادا کر رہے ہیں اور ملکی معیشت کو سہارا دیئے ہوئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت پالیسیاں بناتے وقت چیمبرز‘ تاجر برادری اور متعلقہ سٹیک ہولڈرز کو اعتماد میں لے تاکہ اس کے دور رس نتائج برآمد ہوں۔ انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ تاجر برادری کے جائز مطالبات کو تسلیم کیا جائے کیونکہ ہڑتالیں اور احتجاج حکومت اور ملک کے بہتر مفاد میں نہیں ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



چوہے کھانا بند کریں


ہندوستان کا کوئی شہزادہ مہاتما بودھ کے پاس گیا…

رعونت پر بکھری ہوئی خاک

کراچی میں وسیم انصاری نام کا ایک چھوٹا سا سٹیج…

وہ واقعہ جو کتاب میں نہیں

1999ء میں دو وزیراعظم ہانگ کانگ میں ایک ہی ہوٹل…

بخاریؒ کو امام بنانے والے لوگ

نویں صدی کا شہر بخاراتھا اور اس شہر میں ایک سادہ…

شوگر کے مریضوں کے لیے

گرو زاہد سے میرا رابطہ ایک ویڈیو کلپ سے ہوا تھا‘…

بسنت کے معاملے میں

یہ آج سے پندرہ برس پرانی بات ہے‘ میں اپنے بچوں…

بٹرفلائی افیکٹ

وہ دکان کے سامنے پریشان کھڑی تھی‘ اس کے بال الجھے…

آئل اینڈ سپیس وار

مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…