جمعرات‬‮ ، 03 اپریل‬‮ 2025 

بیواؤں اوریتیموں کی کفالت ریاست کی بنیادی ذمہ داری ہے،وزیراعلیٰ عثمان بزدار نے صوبہ بھر میں بیوہ خواتین کی گزراوقات کیلئے ماہانہ وظیفہ مقررکرنے کااعلان کر دیا

datetime 8  جولائی  2019
ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

لاہور (پ ر) وزیراعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدارنے کہا ہے کہ پسماندہ اورمحروم طبقات کا معاشی تحفظ یقینی بنائیں گے۔پی ٹی آئی حکومت کی پالیسی کا محور انسانی وسائل کی ترقی ہے۔وزیراعلیٰ نے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ وزیراعظم عمران خان کی ہدایت پر معاشرے کے نظرانداز کردہ طبقے کے معاشی اورسماجی تحفظ کیلئے ”پنجاب احساس“ پروگرام کے آغاز کا فیصلہ کیاگیااوراس پروگرام کیلئے رواں مالی سال کے بجٹ میں 17۔ارب روپے سے زائد کی خطیر رقم مختص کی گئی۔

وزیراعلیٰ عثمان بزدار نے کہا کہ صوبہ بھر میں 65سال سے زائد العمر شہریوں کو ماہانہ الاؤنس دیا جائے گا،اس کیلئے ”باہمت بزرگ پروگرام“ میں تین ارب روپے کا ابتدائی فنڈقائم کیاگیا ہے۔وزیراعلیٰ نے کہا کہ معذور افراد اوران کے خاندان کی مالی مشکلات میں کمی کو یقینی بنانا ریاست کی اولین ترجیحات میں شامل ہے۔سپیشل افراد کیلئے مخصوص”ہم قدم“پروگرام کے تحت پنجاب کے 2لاکھ معذور افراد کیلئے ماہانہ مالی امداد کا پروگرام شروع کیا جارہا ہے۔عثمان بزدار نے کہا کہ بیواؤں اوریتیم بچوں کی کفالت ریاست کی بنیادی ذمہ داری ہے اوریہی ریاست مدینہ کے ماڈل کی انفرادیت ہے کہ معاشرے کے کسی بھی طبقے کو بے یارومدد گار نہیں چھوڑا جاتا۔حکومت بیوہ خواتین کی گزر اوقات کیلئے ماہانہ وظیفہ مقرر کرے گی،اسی طرح خواتین کو معاشی ترقی کے مساوی مواقع فراہم کرنے کیلئے پاکستان تحریک انصاف کے منشور کے مطابق پانچ سالہ منصوبہ شروع کیا جارہا ہے۔جس کے تحت رواں مالی سال کے بجٹ میں 8۔ارب روپے مختص کیے جارہے ہیں۔وزیراعلیٰ نے بتایا کہ تیزاب گردی کے شکار افراد کو نارمل زندگی کی جانب واپس لانا پورے سماج کی ذمہ داری ہے۔حکومت تیزاب گردی کے شکارافراد کی بحالی کیلئے 10کروڑ روپے کے فنڈز فراہم کررہی ہے۔دریں اثناء وزیراعلیٰ نے بیان میں کہا کہ ملک وقوم کی لوٹی ہوئی دولت کی واپسی ہر پاکستانی کی خواہش ہے۔قوم کے وسائل کو بے دردی سے لوٹنے والوں نے ملک کے بچے بچے کو مقروض کردیا۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ ماضی میں غلط اقتصادی پالیسوں کی وجہ سے ملک وقوم کو بہت نقصان پہنچایاگیا۔اب اگرمعیشت کی تباہی کی بات کریں تو مخالفین تلملا اٹھتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ادارے خود مختار ہیں اور احتساب بلاامتیاز ہورہا ہے،یہی وقت کی ضرورت ہے۔ وزیراعلیٰ عثمان بزدار سے وزیراعلیٰ آفس میں مختلف علاقوں کے عوامی نمائندوں،صوبائی سیکرٹریز اورمتعلقہ حکام نے ملاقات کی۔

موضوعات:



کالم



چانس


آپ مورگن فری مین کی کہانی بھی سنیے‘ یہ ہالی ووڈ…

جنرل عاصم منیر کی ہارڈ سٹیٹ

میں جوں ہی سڑک کی دوسری سائیڈ پر پہنچا‘ مجھے…

فنگر پرنٹس کی کہانی۔۔ محسن نقوی کے لیے

میرے والد انتقال سے قبل اپنے گائوں میں 17 کنال…

نارمل معاشرے کا متلاشی پاکستان

’’اوئے پنڈی وال‘ کدھر جل سیں‘‘ میں نے گھبرا…

آپ کی امداد کے مستحق دو مزید ادارے

یہ2006ء کی انگلینڈ کی ایک سرد شام تھی‘پارک میںایک…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے (دوسرا حصہ)

بلوچستان کے موجودہ حالات سمجھنے کے لیے ہمیں 1971ء…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے؟ (پہلا حصہ)

قیام پاکستان کے وقت بلوچستان پانچ آزاد ریاستوں…

اچھی زندگی

’’چلیں آپ بیڈ پر لیٹ جائیں‘ انجیکشن کا وقت ہو…

سنبھلنے کے علاوہ

’’میں خانہ کعبہ کے سامنے کھڑا تھا اور وہ مجھے…

ہم سیاحت کیسے بڑھا سکتے ہیں؟

میرے پاس چند دن قبل ازبکستان کے سفیر اپنے سٹاف…

تیسری عالمی جنگ تیار(دوسرا حصہ)

ولادی میر زیلنسکی کی بدتمیزی کی دوسری وجہ اس…