اتوار‬‮ ، 04 اکتوبر‬‮ 2026 

سخت نتائج بھگتنے کی باتوں کے باوجود نئی ٹیکس ایمنسٹی سکیم میں ماضی کے مقابلے ناکام ہوگئی،مجموعی طورپر کتنا ٹیکس جمع کیاجاسکا؟ حیرت انگیز انکشافات

datetime 8  جولائی  2019 |

کراچی(این این آئی)مشیر خزانہ کی جانب سے حالیہ ٹیکس ایمنسٹی اسکیم کو کامیاب قرار دینے کے باوجود درحقیت حکومت ایمنسٹی اسکیم سے توقعات کے مطابق اہداف حاصل نہیں کرپائی۔تفصیلات کے مطابق اس ٹیکس ایمنسٹی اسکیم کے نتیجے میں حکومتی دعوے کے مطابق ایک لاکھ سے زائد افراد ٹیکس نیٹ کا حصہ بنے،ایک لاکھ37ہزار افراد نے اس اسکیم سے فائدہ اٹھایا جبکہ 3 ہزار ارب روپے سے زائد کے اثاثہ جات ظاہر کرنے کے بعد 70ارب روپے حکومتی خزانے میں جمع ہوئے،

تاہم اس حوالے سے بعض ذرائع کا کہنا ہے کہ حکومت کو توقعات تھیں کہ اس ایمنسٹی اسکیم کے نتیجے میں 100ارب روپے سے زائد کی ٹیکس وصولی ہوگی،تاہم حکومت کی تمام تر کوششوں،اسکیم کی تاریخ میں توسیع اور وزیر اعظم و ایف بی آر حکام کی جانب سے بار بار ایمنسٹی اسکیم سے استفادہ نہ کرنے والوں کو سخت نتائج بھگتنے کی باتوں کے باوجود 70ارب روپے سے زائد کا ٹیکس جمع نہ کیا جاسکا۔بتایا جاتا ہے کہ مسلم لیگ ن کے وزیر اعظم شاہد خاقان کے دور میں متعارف کرائی جانے والی ایمنسٹی اسکیم میں 121 ارب روپے کی ٹیکس وصولی ہوئی تھی، اس وقت تحریک انصاف نے اسکیم کی شدید مخالفت کی تھی،موجودہ اسکیم میں اہداف سے کم70ارب کی ٹیکس وصولی ایف بی آر کے نظام پر کاروباری افراد کے عدم اعتماد کا ثبوت ہے۔واضح رہے کہ کاروباری طبقہ ملک میں کاروباری آسانیوں اور ٹیکس ادائیگی کے طریقہ کار سے پہلے ہی خائف ہے،ٹیکس نیٹ میں شامل افراد کا کہنا ہے کہ حکومت آمدن میں اضافے کیلئے سرمایہ کاری کے حصول اور بر آمدات کے فروغ پر توجہ دینے کے بجائے ہمیشہ سے آسان راستے منتخب کرتی آئی ہے جس میں مرکزی بینک سے قرضے حاصل کرنے کے ساتھ ساتھ ٹیکس دینے والے افراد پر مزید بوجھ ڈالنا شامل ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(آٹھواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…