بدھ‬‮ ، 19 اگست‬‮ 2026 

سخت نتائج بھگتنے کی باتوں کے باوجود نئی ٹیکس ایمنسٹی سکیم میں ماضی کے مقابلے ناکام ہوگئی،مجموعی طورپر کتنا ٹیکس جمع کیاجاسکا؟ حیرت انگیز انکشافات

datetime 8  جولائی  2019 |

کراچی(این این آئی)مشیر خزانہ کی جانب سے حالیہ ٹیکس ایمنسٹی اسکیم کو کامیاب قرار دینے کے باوجود درحقیت حکومت ایمنسٹی اسکیم سے توقعات کے مطابق اہداف حاصل نہیں کرپائی۔تفصیلات کے مطابق اس ٹیکس ایمنسٹی اسکیم کے نتیجے میں حکومتی دعوے کے مطابق ایک لاکھ سے زائد افراد ٹیکس نیٹ کا حصہ بنے،ایک لاکھ37ہزار افراد نے اس اسکیم سے فائدہ اٹھایا جبکہ 3 ہزار ارب روپے سے زائد کے اثاثہ جات ظاہر کرنے کے بعد 70ارب روپے حکومتی خزانے میں جمع ہوئے،

تاہم اس حوالے سے بعض ذرائع کا کہنا ہے کہ حکومت کو توقعات تھیں کہ اس ایمنسٹی اسکیم کے نتیجے میں 100ارب روپے سے زائد کی ٹیکس وصولی ہوگی،تاہم حکومت کی تمام تر کوششوں،اسکیم کی تاریخ میں توسیع اور وزیر اعظم و ایف بی آر حکام کی جانب سے بار بار ایمنسٹی اسکیم سے استفادہ نہ کرنے والوں کو سخت نتائج بھگتنے کی باتوں کے باوجود 70ارب روپے سے زائد کا ٹیکس جمع نہ کیا جاسکا۔بتایا جاتا ہے کہ مسلم لیگ ن کے وزیر اعظم شاہد خاقان کے دور میں متعارف کرائی جانے والی ایمنسٹی اسکیم میں 121 ارب روپے کی ٹیکس وصولی ہوئی تھی، اس وقت تحریک انصاف نے اسکیم کی شدید مخالفت کی تھی،موجودہ اسکیم میں اہداف سے کم70ارب کی ٹیکس وصولی ایف بی آر کے نظام پر کاروباری افراد کے عدم اعتماد کا ثبوت ہے۔واضح رہے کہ کاروباری طبقہ ملک میں کاروباری آسانیوں اور ٹیکس ادائیگی کے طریقہ کار سے پہلے ہی خائف ہے،ٹیکس نیٹ میں شامل افراد کا کہنا ہے کہ حکومت آمدن میں اضافے کیلئے سرمایہ کاری کے حصول اور بر آمدات کے فروغ پر توجہ دینے کے بجائے ہمیشہ سے آسان راستے منتخب کرتی آئی ہے جس میں مرکزی بینک سے قرضے حاصل کرنے کے ساتھ ساتھ ٹیکس دینے والے افراد پر مزید بوجھ ڈالنا شامل ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)


ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…