ہفتہ‬‮ ، 22 اگست‬‮ 2026 

ہمارے حکمراں ممبئی کے سٹے بازار کے چہیتے گردانے جاتے ہیں،وزیر اعظم کا کھلاڑیوں کو ریلو کٹا کہنا شرمناک ہے،جسٹس وجیہہ الدین نے سنگین الزامات عائد کردیئے

datetime 17  جون‬‮  2019 |

کراچی(این این آئی)کس ملک کا وزیر اعظم یا سربراہ اپنے کھلاڑیوں کیلئے ریلو کٹے جیسا لفظ استعمال کرتا ہے۔ عمران خان کو کرکٹ میچ پر تبصرہ کرنے کے بجائے اپنی حکومت کی کارکردگی پر توجہ دینی چاہئے۔ ان خیالات کا اظہار عام لوگ اتحاد کے چیئرمین جسٹس(ر)وجیہہ الدین نے پاک بھارت میچ پر تبصرہ کرتے ہوئے کیا۔

انہوں نے کہا کہ عمران خان نے ریلو کٹا قرار دیکر قومی کرکٹرز کو بے توقیر کیا۔ سمجھ نہیں آتا کہ کیا وہ اتنے فارغ ہیں کہ ٹوئٹر پر کپتان کو ٹپس دیتے رہیں۔ وجیہہ الدین نے خراب کھیل پر ٹیم پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ گرین شرٹس نے ایک بار پھر قوم کو شرم سے پانی پانی کردیا۔ ورلڈ کپ سے پہلے احسان مانی کا پی سی بی چیئرمین تعینات ہونا اور پھر درجن بھر متواتر شکستوں کا برپا ہونا، عامر اور وہاب ریاض جیسے کامیاب بالرز کا ابتدائی اسکواڈ میں شامل نہ ہونا، بلے بازوں کا جان بوجھ کر وکٹیں گنوانا، پچھلے سے پچھلے ورلڈ کپ کی یاد دلاتا ہے، جب اس وقت کے وزیراعظم یوسف رضا گیلانی سیمی فائنل دیکھنے بھارت تشریف لے گئے اور ورلڈ کپ بھارت کو تشتری میں رکھ کر پیش کردیا۔ دراصل کرکٹ میں ہارنا ہمارے حکمرانوں کیلئے شاید ایک سہل کاروبار بن گیا ہے۔ وہ ممبئی کے سٹے بازار کے چہیتے گردانے جاتے ہیں۔ جسٹس(ر)وجیہہ نے سوال کیا کہ احسان مانی موجودہ وزیراعظم کے نامزد کردہ ہیں، لہذا سابق کپتان و موجودہ وزیراعظم کرکٹ کی شرمناک کارکردگی کے کس حد تک ذمہ دار ہیں، کوئی بتائے گا؟۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)


مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…