جمعرات‬‮ ، 27 اگست‬‮ 2026 

آآئندہ مالی سال کیلئے پنجاب کا 23 سو ارب 57 کروڑ کا بجٹ پیش کردیا گیا، عوام کو خوشخبری سنادی گئی

datetime 14  جون‬‮  2019 |

لاہور( آن لائن ) پنجاب حکومت نے آئندہ مالی سال20۔2019ء کا بجٹ پیش کردیا ہے، بجٹ کا کل حجم23 سو ارب 57 کروڑ رکھا گیا ہے،صوبائی وزیرخزانہ ہاشم جواں بخت نے پنجاب اسمبلی میں بجٹ پیش کیا، بجٹ میں 350ارب غیرترقیاتی اور 1717ارب ترقیاتی منصوبوں کیلئے مختص کیا گیا ہے۔ صوبائی وزیرخزانہ ہاشم جواں بخت نے اپنی بجٹ تقریر میں کہا کہ گزشتہ10سالوں کے سنگین معاشی بحران کا

خاتمہ8 ماہ میں کیسے ممکن تھا؟ پنجاب کا بجٹ روشن مستقبل کا عہد نامہ ثابت ہوگا۔انہوں نے کہا کہ تحریک انصاف کے بجٹ کی بنیاد3ترجیحات پر رکھی گئی ہے۔ جس میں کم وسلیہ اورمحروم طبقات کا تحفظ پہلی ترجیح ہے۔ جبکہ انسانی وسائل کی ترقی دوسری اور یکساں علاقائی ترقی تیسری ترجیح ہے۔ انہوں نے کہا کہ پنجاب کا بجٹ تحریک انصاف کی پالیسیوں کا آئینہ دار ہے۔بدترین معاشی حالات کے باوجود اقتصادی بہتری کیلئے اقدامات کررہے ہیں۔اپوزیشن کی خواہش ہے کہ ملک لوٹنے والوں کے چہرے بینقاب نہ کریں۔ ملک کا ہرپیدا ہونیوالا بچہ تقریباً ڈیڑھ لاکھ روپے کا مقروض ہے۔بتایا جائے کہ 6 ہزار کے قرضے 30 ہزار ارب روپے تک کیسے پہنچے؟ ہاشم جواں بخت نے کہا کہ بجٹ میں ریونیوکی مد میں1990 ارب روپے کی وصولیوں کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔ اسی طرح محصولات کی مد میں 388 ارب 80 کروڑروپے ملنے کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔آئندہ مالی سال کیلئے جاری اخراجات کا کل تخمینہ 1298 ارب 80 کروڑ روپے لگایا گیا ہے۔ جبکہ بجٹ کا کل حجم 23 سو ارب 57 کروڑ رکھا گیا ہے۔ بجٹ میں 350ارب غیرترقیاتی اور 1717 ارب ترقیاتی منصوبوں کیلئے مختص کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ 10سال میں چند بڑے شہرنام نہاد ترقیاتی سرگرمیوں کا مرکز رہے۔ جنوبی پنجاب کے عوام کوترقیاتی حقوق فراہم کرنے کے صرف دعوے کیے گئے۔ حقیقت میں جنوبی پنجاب کوکم ازکم 256 ارب روپے سے محروم کیا گیا۔ میگا پراجیکٹس کا آغازمنصوبہ بندی اور وسائل کی فراہمی کے بغیرکیوں کیا گیا؟

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



سنت یہ بھی ہے


ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…