جمعرات‬‮ ، 27 اگست‬‮ 2026 

یکم جولائی سے حکومت قرض نہیں لے گی ، اسٹیٹ بینک نے اعلامیہ جاری کر دیا

datetime 14  جون‬‮  2019 |

کراچی(این این آئی) مشیر خزانہ عبدالحفیظ شیخ نے کہا ہے کہ یہ بجٹ کئی لوگوں سے مشاورت کے بعد مرتب کیا گیا ہے اور اس میں مزید بہتری کی جاسکتی ہے،پاکستان میں تیسرا جمہوری دور چل رہا ہے، پاکستان میں معاشی ترقی کا دور چار سال سے زائد نہیں رہا، ہمیں اندرونی اور بیرونی سطح پر مسائل ہیں، ہمیں دوست ممالک سے رقم لے کربیرونی ادائیگیاں کرنا پڑیں،ٹیکس دینے والوں پر ٹیکسوں کا بوجھ نہیں بڑھا سکتے۔

جمعہ کو معیشت اور بجٹ پر مذاکرے سے خطاب کرتے ہوئے حفیظ شیخ نے کہا کہ پاکستان میں تیسرا جمہوری دور چل رہا ہے، پاکستان میں معاشی ترقی کا دور چار سال سے زائد نہیں رہا، ہم نے 70 سال میں دنیا سے کاروباری مراسم استوار نہیں رکھے، ہمیں اندرونی اور بیرونی سطح پر مسائل ہیں، ہمیں دوست ملکوں سے رقم لے کربیرونی ادائیگیاں کرنا پڑیں۔انہوں نے کہا کہ آئی ایم ایف جانے کا مقصد 6 ارب کم شرح سود پر قرض لینا تھا، آئی ایم ایف جا کر ہم دنیا کو پیغام دے رہے ہیں کہ ہم اپنے وسائل میں رہنا چاہتے ہیں۔مشیر خزانہ نے کہا بجٹ میں مزید بہتری کی جاسکتی ہے، یہ بجٹ کئی لوگوں سے مشاورت کے بعد مرتب کیا گیا ہے، بجٹ میں درآمدات کم کرکے برآمدات بڑھانے پر توجہ دی گئی ہے اور برآمدات بڑھانے کے لیے سبسڈی دی گئی ہے، خسارہ کم کرنے کے لیے 5500 ارب کا ہدف طے کیا ہے۔حفیظ شیخ نے کہا کہ سب کوٹیکس دینا ہے، اگر اس سے کوئی ناراض ہوتا ہے تو ہو، ہم نے بجٹ میں نان فائلر کا تصور ختم کردیا ہے، ہمیں ٹیکس نیٹ کو وسعت دینا ہے، ٹیکس دینے والوں پر ٹیکسوں کا بوجھ نہیں بڑھا سکتے، کس نے قرض لیا وہ ماضی کی بات ہے، واجبات ادا کرکے ریاست کو اپنی بین الاقوامی ذمہ داریاں پورا کرنی ہیں، حکومت میں رہتے ہوئے برداشت کی عادت ڈالنی چاہیے، حکومت کی کوشش ہونی چاہیے کہ مشکل وقت کا دورانیہ کم سے کم رکھا جائے۔اس موقع پر گورنر اسٹیٹ بینک رضا باقر کا کہناتھا کہ میرے لیے اعزاز ہے کہ مجھے ملک کی خدمت کا موقع ملا ہے۔انہوں نے کہا کہ مانیٹری پالیسی کا مقصد مہنگائی کو کم کرنا ہے، مہنگائی اسٹیٹ بینک کے نوٹ چھاپنے سے ہوتی ہے جب کہ شرح سود مہنگائی کے سدباب کرنے کا آلہ ہے جسے اسٹیٹ بینک استعمال کرتا ہے۔گورنر اسٹیٹ بینک کا کہنا تھا کہ وزیرخزانہ نے بتایا ہے کہ یکم جولائی سے حکومت اسٹیٹ بینک سے قرض نہیں لے گی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



سنت یہ بھی ہے


ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…