جمعرات‬‮ ، 27 اگست‬‮ 2026 

اندھیر نگری چوپٹ راج جنگلات کی ایک لاکھ 80 ہزار134ایکڑ زمین پر بااثر افراد کے قبضے کا انکشاف

datetime 13  جون‬‮  2019 |

اسلام آباد (این این آئی)سندھ میں اندھیر نگری چوپٹ راج،جنگلات کی ایک لاکھ 80 ہزار134ایکڑ زمین پر بااثر افراد کے قبضے کا انکشاف ہوا ۔ زمینوں پر قبضے کی مفصل رپورٹ سپریم کورٹ میں جمع کر ادی گئی ،چیف فاریسٹ کنزرویٹو آفیسر نے رپورٹ تیار کی۔

رپورٹ میں کہاگیاکہ سندھ میں 8لاکھ 86 ہزار 840 ایکڑ زمین محکمہ جنگلات کے پاس ہے،چھ فاریسٹ سرکل کی 7 لاکھ 6 ہزار703 ایکڑ اراضی محکمہ جنگلات کے پاس ہے ۔رپورٹ کے مطابق خیرپور فاریسٹ سرکل میں 35 ہزار 761ایکڑ زمین پرقبضہ ہے،خیرپور سرکل میں 1 لاکھ 55 ہزار 890ایکڑ جنگلات کی زمین ہے۔رپورٹ کے مطابق لاڑکانہ سرکل میں 17 ہزار 1 سو81 ایکڑ زمین پر قبضہ ہے،لاڑکانہ سرکل میں 80 ہزار 573 ایکڑ جنگلات کی زمین ہے۔رپورٹ کے مطابق سکھر فاریسٹ سرکل میں 51 ہزار925 ایکڑ زمین پر قبضہ ہے۔رپورٹ کے مطابق سکھر فاریسٹ سرکل میں 1 لاکھ 52 ہزار 258ایکڑ جنگلات کی زمین ہے،ٹھٹھہ فاریسٹ سرکل میں 23ہزار557 ایکڑ زمین قبضے میں ہے۔رپورٹ کے مطابق ٹھٹھہ سرکل میں 1 لاکھ91 ہزار 9 سو 98 ایکڑ زمین محکمہ جنگلات کی زمین ہے،بے نظیر آباد(نوابشاہ) فاریسٹ سرکل میں 36 ہزار 3سو 12 ایکڑ زمین پر قبضہ ہے۔رپورٹ کے مطابق بے نظیر آباد (نوابشاہ) میں 94 ہزار 3 سو 61 ایکڑ زمین محکمہ جنگلات کی ہے،حیدرآباد فاریسٹ سرکل میں 15ہزار 397 ایکڑ زمین پر قبضہ ہے۔رپورٹ کے مطابق حیدرآباد میں 2 لاکھ 11 ہزار759 ایکڑ زمین محکمہ جنگلات کی ہے۔رپورٹ کے مطابق سپریم کورٹ کے 20 مارچ کے حکم کے بعد 2 لاکھ 2 ہزار368 ایکڑ زمین واگزارکرائی۔چیف کنزرویٹو آفیسر نے رپورٹ میں سندھ حکومت کی عدالتی حکم کی خلاف ورزی کا حوالہ دیا۔بیس فروری کوعدالت نے چیف کنزرویٹوآفیسر کوسہولیات فراہم کرنے کا حکم دیا تھا۔ رپورٹ میں کہاگیاکہ سندھ حکومت نے عدالتی حکم عدولی کرکے فنڈز اور سہولیات فراہم نہیں کیں۔ رپورٹ میں انکشاف کیا کہ زمینوں کے بورڈ آف ریونیو سے مل کر جعلی الاٹمنٹ کے کاغذات بنائے گئے۔ رپورٹ کے مطابق زمینوں کو رینجرز اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں سے مل کر خالی کرایا جاسکتا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



سنت یہ بھی ہے


ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…