جمعرات‬‮ ، 19 فروری‬‮ 2026 

بینکوں سے معلومات لے کے نوٹس بھیجناخطرناک قرار،تاجر برادری خوف وہراس میں مبتلا،انتہائی تشویشناک پیش گوئی کردی گئی

datetime 2  جون‬‮  2019 |

لاہور(این این آئی) لاہور ٹریڈرز رائٹس فورم کے صدر سردار اظہر سلطان نے کہا ہے کہ بینکوں سے معلومات لے کے نوٹس بھیجناخطرناک صورتحال پیدا کرے گا، تاجر برادری پہلے ہی خوف ہراس میں مبتلاہے،مارکیٹں پہلے ہی کاروباری مندی سے دوچار ہیں رہا سہا کاروبار بھی ٹھپ ہو جائے گا۔ یہ بات سردار اظہر سلطان نے گزشتہ روز تاجروں کے ایک اجلاس کے دوران اظہار خیال کرتے ہوئے کہی۔

انہوں نے کہاکہ بینکوں سے ود ہولڈنگ ٹیکس بارے معلومات حاصل کرنے کے حکومت بیان سے تاجر برادری مزید اضطراب میں مبتلاہو گئی ہے،اس قسم کے فیصلوں سے حکومت اور کاروباری طبقے کے مابین دوریاں بڑھیں گی۔ انہوں نے کہاکہ حکومت کو چاہیے کہ وہ بجٹ مالی سال برائے 2019-20 میں کم سے کم ٹیکس لگائے کیونکہ پچھلے چند ماہ سے کاروباری سرگرمیاں انتہائی مندے سے دوچار ہیں جبکہ مارکیٹیں بیٹھی ہوئی ہیں ان حالا ت میں مزید ٹیکس لگانے سے منفی اثرات سامنے آئیں گے۔ انہوں نے کہاکہ پچھلے 11ماہ کے دوران 448 ارب روپے کاریونیو شارٹ فال آیا ہے دراصل یہ شارٹ فال ان ڈائریکٹ یکٹ ٹیکسز کی وجہ سے ہوا ہے حکومت کو چاہیے کہ عوام اور تاجر برادری پر مزید ٹیکس لگانے کی بجائے مقامی انڈسٹری کو مراعات دے خاص کر برآمدی شعبے کو مکمل طور پر ٹیکس چھوٹ دی جائے تاکہ زیادہ سے زیادہ زرمبادلہ ملک کے لئے کمایا جا سکے۔انہوں نے کہاکہ پابندیوں اور ٹیکسز کے بوجھ سے کوئی بھی کاروبار فروغ نہیں پا سکتا اور نہ ہی اس سے کوئی مثبت نتائج حاصل کئے جا سکتے ہیں ٹیکس نیٹ بڑھانا پاکستان کے مفاد میں ہے تاہم ٹیکس نیٹ کو بڑھانے کی آڑ میں تاجروں کو ہراساں نہ کیا جائے۔ انہوں نے کہاکہ حکومت آنے والے بجٹ کیلئے تاجروں کے حقیقی نمائندوں اور تاجر تنظیموں، چیمبرز اور ایسوسی ایشنز کی تجاویز کی روشنی میں بجٹ سازی کرے، کیونکہ غیر ضروری ٹیکسز کی بھر مار کی وجہ سے نئے کاروباری افراڈ ٹیکس نیٹ سے دور بھاگتے ہیں،لہذا حکومت کو چاہیے کہ تاجر اور عوام دوست پالیسیاں سامنے لائے تاکہ حکومت اور کاروباری برادری کے درمیان خوشگوار تعلقات کو فروغ مل سکے۔



کالم



رعونت پر بکھری ہوئی خاک


کراچی میں وسیم انصاری نام کا ایک چھوٹا سا سٹیج…

وہ واقعہ جو کتاب میں نہیں

1999ء میں دو وزیراعظم ہانگ کانگ میں ایک ہی ہوٹل…

بخاریؒ کو امام بنانے والے لوگ

نویں صدی کا شہر بخاراتھا اور اس شہر میں ایک سادہ…

شوگر کے مریضوں کے لیے

گرو زاہد سے میرا رابطہ ایک ویڈیو کلپ سے ہوا تھا‘…

بسنت کے معاملے میں

یہ آج سے پندرہ برس پرانی بات ہے‘ میں اپنے بچوں…

بٹرفلائی افیکٹ

وہ دکان کے سامنے پریشان کھڑی تھی‘ اس کے بال الجھے…

آئل اینڈ سپیس وار

مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…