جمعرات‬‮ ، 27 اگست‬‮ 2026 

حکومت کا لاوارث بچوں کی کفالت اپنے ذمے لینے کا فیصلہ، زبردست اقدام کی منظوری دے دی گئی

datetime 2  جون‬‮  2019 |

اسلام آباد (نیوز ڈیسک)معاون خصوصی برائے اطلاعات فردوس عاشق اعوان نے کہاہے کہ وزیر اعظم کادل غریب کے ساتھ دھڑکتاہے،معاشرے کے پسے ہوئے طبقات کے فلاح وزیر اعظم کا ویژن ہے۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے فردوس عاشق اعوان نے کہا کہ وزیر اعظم عمران خان کا دل غریب کے ساتھ دھڑکتا ہے، معاشرے کے پسے ہوئے طبقات کی فلاح وزیر اعظم کا ویژن ہے۔

اتوار کو ایس او ایس ویلج میں افطار ڈنر سے خطاب کرتے ہوئے فردوس عاشق اعوان نے کہا کہ ہم قانون سازی کے ذریعہ لاوارث بچوں کی کفالت اپنے ذمہ لے رہے ہیں،فردوس عاشق اعوان نے کہا کہ وزیراعظم عمران خان کے دکھی انسانیت سے رشتہ کو مضبوط کرنے کے لییمیں ایس او ایس ویلج میں بچوں کو عیدی دینے آئی ہوں، فردوس عاشق اعوان نے کہا کہ ایس او ایس ویلج کے بچے اعلیٰ تعلیم حاصل کرکے ملک و قوم کی خدمت کریں گے، انہوں نے کہا کہ موجود حکومت پہلی بار معاشرتی مساوات کا رجحان لیکر آئی ہے جن علاقوں کو نظرانداز کیا گیا،اس پر خصوصی توجہ دے رہے ہیں۔انہوں کا کہنا تھا کہ دو افراد نے ساہیوال میں بچوں کی اموات پر سیاست کی، بچے ساہیوال کے ہوں یا تھر کے بچوں پر سیاست نہیں ہونی چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ سابق حکمران پنجاب کے ہسپتالوں میں سہولیات نہیں دے سکے۔دوسری جانب وزیر اعظم کی معاون خصوصی برائے اطلاعات و نشریات ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان نے کہاہے کہ عمران خان کشمیر اور فلسطین کے وکیل بن کر ابھرے ہیں۔ایک بیان میں فردوس عاشق اعوان نے کہا کہ وزیر اعظم عمران خان نے او آئی سی سربراہ اجلاس سے تاریخی خطاب کیا۔انہوں نے امت مسلمہ کے جذبات کی صحیح معنوں میں عکاسی کی اور اسلام کا حقیقی تشخص اجاگر کر نے کیلئے نئی راہ عمل متعین کی۔انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم مقبوضہ کشمیر اور فلسطین کے وکیل بن کر ابھرے۔انہوں نے دو ٹوک موقف اپنایا کہ کشمیریوں کی منصفانہ جدو جہد کو دہشتگردی کا نام نہیں دیا جاسکتا دو ریاستی حل کے سوا مسئلہ فلسطین کا کوئی حق نہیں۔انہوں نے کہاکہ عمران خان کا سائنس اور ٹیکنالوجی کے شعبے پر خصوصی توجہ دینے پر زور اسلامی دنیا کو اس شعبے میں ان کی میراث یاد دلاتا ہے۔ انہوں نے کہاکہ عظیم مسلمان سائنسدان جدید علوم کے بانی، موجد اور بنیادی اساتذہ میں شامل ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



سنت یہ بھی ہے


ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…