منگل‬‮ ، 25 اگست‬‮ 2026 

ملک میں گیس کی قلت میں بدترین اضافہ، انتہائی تشویشناک پیش گوئی کردی گئی

datetime 27  اپریل‬‮  2019 |

اسلام آباد(آن لائن)پاکستان میں 7 لاکھ نئے صارفین کے آنے کے بعد ملک میں آئندہ برس گیس کی قلت میں 157 فیصد ہوجائے گا جو اس وقت صارفین کو پہنچائی جانے والی گیس کی مقدار کے برابر ہوگا. مذکورہ تخمینہ آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) نے لگایا ہے جس کا کہنا ہے کہ آئندہ مالی سال کے دوران گیس کی قلت 157 فیصد اضافے کے ساتھ 3.7 ارب کیوبک فٹ یومیہ (بی سی ایف ڈی) ہوجائے گی،

تاہم اگر اسی طرح اضافہ چلتا رہا تو 2028 تک یہ قلت 6.6 بی سی ایف ڈی تک جا پہنچے گی.اوگرا نے صنعتوں کی حالت 18-2017 کے عنوان سے جاری اپنی رپورٹ میں کہا کہ موجودہ مالی سال کے دوران طلب اور رسد کے درمیان 1447 ایم ایم سی ایف ڈی تھا جو آئندہ مالی سال تک بڑھ کر 3720 ایم ایم سی ایف ڈی تک پہنچ سکتا ہے. ریگولیٹر کا اپنی رپورٹ میں کہنا ہے کہ ملک میں طلب 6.9 بی سی ایف ڈی کی ہوگی جبکہ اس کی سپلائی 3.2 بی سی ایف ڈی تک رہے گی. رپورٹ کے مطابق 2024 میں طلب 7.7 بی سی ایف ڈی تک ہوگی جبکہ رسد 2.3 بی سی ایف ڈی تک ہوجائے گی جس کی وجہ سے ملک میں اس کی قلت 5.5 بی سی ایف ڈی تک پہنچ جائے گی.تاہم یہ بھی بتایا گیا کہ یہ قلت 1.9 بی سی ایف ڈی درآمد شدہ ایل این جی گیس کی وجہ سے کم ہو کر 3.6 بی سی ایف ڈی ہوجائے گا. اوگرا نے اپنی رپورٹ میں خبردار کیا کہ ملک میں قدرتی گیس کی پیداوار جو اس وقت 3.3 بی سی ایف ڈی پر ہے، وہ 2028 تک کم ہوکر 1.6 بی سی ایف ڈی تک ہوجائے اور اسی سال تک طلب بڑھتے ہوئے 8.3 بی سی ایف ڈی ہوجائے گی جس کی وجہ سے قلت 8.3 بی سی ایف ڈی ہوجائے گی.تاہم ریگولیٹر کی جانب سے تخمینہ لگایا گیا ہے کہ ملک میں ایل این جی گیس کی برآمد، ٹاپی منصوبہ (ترکمانستان، افغانستان، پاکستان، بھارت پائپ لائن منصوبہ) اور پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبے کی تکمیل کے بعد 2028 میں گیس کی قلت مجموعی طور پر کم ہوکر 4.6 بی سی ایف ڈی ہوجائے گی. اوگرا کا اپنی رپورٹ میں کہنا ہے کہ ملک میں پاور سیکٹر سمیت دیگر شعبوں میں بڑے پیمانے پر گیس کی کھپت کی وجہ سے ملک میں گیس کی قلت پیدا ہورہی ہے اور اس کی رسد موجودہ طلب کو پورا نہیں کر پارہی

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)


ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…