بلین ٹری منصوبے میںبڑی کرپشن، منصوبے نے کرپشن کے سارے ریکارڈ توڑ دیئے ، حیرت انگیز انکشافات سامنے آگئے

  جمعہ‬‮ 26 اپریل‬‮ 2019  |  16:20

پشاور/بنوں (اے این این) صوبہ خیبر پختون خوا میں تحریک انصاف کی حکومت کی جانب سے ایک ارب درخت لگانے کا دعویٰ نہ صرف ڈھونگ نکلا بلکہ اس منصوبے میں بڑے پیمانے پر مبینہ کرپشن کا انکشاف ہوا ہے۔بلین ٹریز سونامی منصوبے میں بڑے پیمانے پر کرپشن اور گھپلوں کے انکشاف پر پارلیمنٹ کی انکوائری کمیٹی نے بنوں کا دورہ کیا اور گھپلوں کی نشاندہی کی۔ خیبر پختون خوا اسمبلی کی پارلیمانی کمیٹی کے اپوزیشن ارکان نے بنوں میں بلین ٹری منصوبے کی 4 سائٹس کے دورے کے بعد دعوی کیا ہے کہ حکومت نے ایک ارب 20 کروڑ پودے لگانے


کا دعوی کیا تھا جبکہ مجموعی طور پر 10 کروڑ پودے بھی نہیں لگے۔ کمیٹی کے رکن اکرم درانی نے انکشاف کیا کہ ایک ارب 20کروڑسے زائد درخت لگا نے کا دعوی کرنے والے دس کروڑ درخت بھی نہیں لگاسکے۔ بلین ٹری سونامی منصوبے میں کرپشن کی تحقیقات کیلیے 18 رکنی پارلیمانی کمیٹی تشکیل دی گئی ہے۔منصوبے میں کرپشن اور گھپلوں کے انکشاف پر پارلیمانی کمیٹی نے بنوں کا دورہ کیا جس میں ارکان اسمبلی اکرم خان درانی، خوشدل ایڈووکیٹ، شگفتہ ملک، سرداریوسف اور لطف الرحمان سمیت دیگر ارکان نے سائٹ کا جائزہ لیا۔اپوزیشن رہنما اور کمیٹی کے رکن اکرم درانی نے انکشاف کیا ہے کہ ایک ارب سے زائد درخت لگانیکا دعوی کرنے والے دس کروڑ درخت بھی نہیں لگاسکے۔اکرم درانی کا کہنا تھا کہ 400 کنال کی زمین پر سرکاری ریکارڈ میں مزدور کو ساڑھے 15 ہزار کے بجائے 5 ہزار روپے مل رہے ہیں، 2 ہزار پودے لگاکر 2 لاکھ ظاہر کیے گئے، مزدور کو چیک کی بجائے کیش پے منٹ کی جاتی ہے، محکمہ جنگلات کے اہلکاروں نے نالی چک کے مقام پر 10 لاکھ پودے ریکارڈ میں ظاہر کیے لیکن حقیقت میں ہزار بھی نہیں لگے۔ذرائع کے مطابق فی پودے کی دیکھ بھال 50 روپے مقرر کی گئی تھی جب کہ اب 500 روپے دیے جا رہے ہیں، حکومت نے ایک ارب 20 کروڑ پودے لگانے کا دعوی کیا، مجموعی طور پر 10 کروڑ بھی نہیں ہیں۔دوسری جانب بنوں ڈویژنل فارسٹ آفیسر لطیف حسین نے بلین ٹری منصوبے میں بد عنوانی کا الزام مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ کمیٹی نے بنوں میں جن علاقوں کا دورہ کیا وہاں پہلے سے ہی کمی تھی۔ دوسری جانب وزیر اطلاعات کے پی کے شوکت یوسفزئی نے کمیٹی کے دورہ بنوں کی حیثیت کو ہی مسترد کر دیا ہے۔نجی ٹی وی سے گفتگو میں شوکت یوسفزئی نے کہا کہ اپوزیشن نے ایک دن پہلے تمام کمیٹیوں سے استعفی دینے کا اعلان کیا تھا، استعفے کے بعد اپوزیشن ارکان کا بنوں جانا کوئی حیثیت نہیں رکھتا۔انہوں نے کہا کہ بلین ٹری منصوبے کی تحقیقات کے لیے کمیٹی حکومت نے بنائی ہے تاکہ دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہوجائے، اپوزیشن کے پاس کوئی ایشو نہیں سب کچھ یک طرفہ طور پر کیا، اپوزیشن نے کمیٹی کو متنازع بنا دیا ہے۔ وزیراطلاعات کا کہنا تھا کہ سیکریٹری اسمبلی کو کہا تھا کہ اجلاس مت بلائیں کیونکہ اپوزیشن نے کمیٹیوں سے استعفی دیا ہے۔

موضوعات:

loading...