پیر‬‮ ، 24 اگست‬‮ 2026 

بی آر ٹی پشاور کا ٹوٹل خرچ اب بھی لاہور میٹرو سے کم اور کتنا ہے؟ خیبرپختونخوا حکومت کاحیرت انگیز انکشاف

datetime 21  اپریل‬‮  2019 |

پشاور(این این آئی)خیبر پختونخوا کے وزیر اطلاعات شوکت علی یوسفزئی نے کہا ہے کہ پشاور بی آر ٹی شفاف منصوبہ ہے اور اس اس سے عام آدمی کو فائدہ ہوگا ،لاہور میٹرو 31 ارب روپے میں بنی اور پشاور بی آر ٹی 29 ارب روپے میں بن رہی ہے کرپشن کے الزامات لگانے والوں کو چیلنج کرتا ہوں کہ پورے منصوبے میں ایک پائی کی کرپشن ثابت کریں۔

صوبائی کابینہ میں تبدیلی نا ممکن نہیں وزیر اعلیٰ محمود خان کو ٹاسک ملا ہوا ہے جو وزیر کام کرے گا کارکردگی دکھائے گا وہ وزیر رہے گا جو کارکردگی نہ دکھا سکا وہ گھر جائے گا وہ سوات مینگورہ میں صحافیوں سے گفتگو کر رہے تھے- ڈیڈک چیئرمین فضل حکیم خان بھی ان کے ساتھ موجود تھے۔ شوکت یوسفزئی نے کہا کہ بلاول زرداری اور مریم بی بی دونوں پاپا بچاؤ مھم میں لگے ہوئے ہیں۔ ملک میں پہلی بار احتساب ہو رہا ہے- احتساب سے بچنے کے لیے کوئی ٹرین مارچ کر رہا ہے کوئی کرپشن زدہ حکمرانوں کا اتحاد بنانے جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مولانا فضل الرحمن پہلی بار اسمبلی سے باہر رہ گئے ہیں اس لئے اسے لگتا ہے کہ پارلیمنٹ نہیں چل سکتی۔ شوکت یوسفزئی نے کہا کہ سابقہ فاٹا اور ملاکنڈ ڈویژن کی عوام نے کافی مشکلات دیکھی ہیں مگر پاک فوج اور عوام نے مل کر دہشت گردی کو شکست دے دی۔ پی ٹی ایم پختونوں کے مسائل کی بات تو کرتے ہیں لیکن حل نہیں بتاتے حل حکومت کے پاس ہے۔ وزیراعظم عمران خان نے قبائلی اضلاع کی ترقی کے لیے ہر سال سو ارب روپے خرچ کرنے کا اعلان کیا ہے جس سے ان علاقوں کی تقدیر بدل جائے گی ۔انہوں نے کہا کہ بی آر ٹی کو متنازعہ بنانا افسوس ناک ہے پرانی فوٹیجز میڈیا پر دکھائی جارہی ہیں جبکہ بی آر ٹی کاسول ورک مکمل ہو چکا ہے دونوں طرف سڑکیں پختہ ہو گئی ہوئی ہیں بسیں بھی آنا شروع ہو گئی ہیں آئی ٹی ایس نظام کی تنصیب ہو رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بی آر ٹی سے پشاور اٹھے گا تنقید وہ لوگ کر رہے ہیں جنہوں نے اپنی باریوں میں پشاور شہر کے لیے کچھ نہیں کیا۔شوکت یوسفزئی نے کہا کہ ملاکنڈ اور ہزارہ ڈویژن میں سیاحت کی ترقی کے لیے بہت کچھ ہو رہا ہے سوات میں امن کے قیام سے سیاحت کو فروغ ملا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)


ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…