جمعرات‬‮ ، 10 ستمبر‬‮ 2026 

اسد عمر کہیں نہیں جارہے ، ایک وفاقی وزیر سے قلمدان واپس لینے کی تیاریاں ہو رہی ہیں ،یہ وفاقی وزیر کون ہے ؟ حامد میر نے اندر کی خبردیدی

datetime 15  اپریل‬‮  2019 |

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک)وفاقی کابینہ میں تبدیلی کی خبروں پر سینئر صحافی و اینکر پرسن حامد میر نے کہا ہے کہ اسد عمر کہیں نہیں جارہے بلکہ ایک وزارت میں تبدیلی کا امکان ہے ۔ حامد میر نے کہا ہے کہ میرے پاس صرف وزارت پیٹرولیم میں بڑی تبدیلی خبریں ہیں کہ وزارت پیٹرولیم غلام سرور سے قلمدان واپس لیا جا سکتا ہے ۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ وزارت داخلہ تو پہلے سے وزیراعظم عمران خان کے پاس ہیں اور وفاقی وزیر مملکت برائے داخلہ شہریار آفرید تو پہلے ہی ان کے ماتحت ہیں ۔

ایسا ہوسکتا ہے کہ وزارت داخلہ کا قلمدان کسی اور کو سونپ دیا جائے ۔ جبکہ شہریار آفریدی کو تبدیل کرنے کا فی الوقت کوئی ٹھوس امکان نہیں ہے ۔ معروف صحافی حامد میر نے مزید کہا ہے کہ جہاں تک وزارت خزانہ میں تبدیلی کی خبریں آرہی ہیں تو ان میں کوئی صداقت نہیں ہے ۔ وزارت خزانہ کے ماتحت بہت سے ادارے ہیں ۔ یہ ہو سکتا ہے کہ ایف بی آر میں تبدیلی کر دی جائے۔ اسد عمر تو امریکہ میں آئی ایم ایف کے ساتھ مذاکرات کر رہے ہیں، ان کی واپسی پر ایف بی آر اور دیگر اداروں میں تبدیلی کی جا سکتی ہے۔قبل ازیںو فاقی وزرا کی کارکردگی پر نظر ثانی کے بعد وزیراعظم عمران خان نے پانچ وفاقی وزیروں کے قلمدان تبدیلی کی خبریں آرہی تھیں۔ ذرائع کے مطابق ان وزارتوں میں وفاقی وزیر خزانہ اسد عمر سے وزارت لے کر انہیں وزارت پیٹرولیم دی جائے گی ،جبکہ کہا جارہا ہے کہ وزارت خزانہ کا قلمدان عمران خان اپنے پاس رکھیں گے۔ وزارت داخلہ برائے مملکت کا قلمدان شہریار آفریدی سے لے کر اعجاز شاہ کو سونپ دیا جائے گا۔ جبکہ وزارت پیٹرولیم کا قلمدان غلام سرور سے واپس لے لیا جائے گا اور انہیں کاآگے کابینہ میں شامل کیا جاتا ہے یا نہیں اس کا فیصلہ ابھی آنا باقی ہے ۔ جبکہ وزیراعظم عمران خان نے وزارت ریلوے ، توانائی اور مواصلات کی کارکردگی پر اطمینان کا اظہار کیا ہے ۔ سینئر تجزیہ نگار صابر شاکر نے کہا ہے کہ وفاقی کابینہ میں تبدیلی کچھ ماہ قبل ہی ہو جانی تھی لیکن پلوامہ حملے کے بعد اس فیصلہ کو موخر کرنا پڑا ہے ۔ تازہ ترین اطلاعات کے مطابق وزیراعظم عمران خان نے 5وزرا کے قلمدان تبدیل کرنے کا فیصلہ کیا جن میں تین نام سامنے آگئے ہیں ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)


ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…