پیر‬‮ ، 17 اگست‬‮ 2026 

بڑھتا ہوا گردشی قرضہ معیشت کے لئے ایک سونامی بن گیا،خطرے کی گھنٹی بج گئی

datetime 6  جنوری‬‮  2019 |

کراچی(این این آئی) پاکستان اکانومی واچ کے صدر ڈاکٹر مرتضیٰ مغل نے کہا ہے کہ گردشی قرضہ میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے جسکا علاج نہ کیا گیا تومعیشت کے لئے ایک سونامی ثابت ہو سکتا ہے۔ایک طرف گردشی قرضہ پیش قدمی کرتے ہوئے چودہ سو ارب روپے کی تجاوز کر گیا ہے تو دوسری طرف اسکے حل کے لئے کوئی خاص اقدامات نظر نہیں آ رہے ہیں۔

یہ مسئلہ ٹالنے سے حل نہیں ہو گا بلکہ ناقابل حل ہو جائے گا جسکے مضمرات کو سمجھا جائے۔ ڈاکٹر مرتضیٰ مغل نے یہاں جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا کہ نومبر میں گردشی قرضہ کا حجم 922 ارب روپے تھا جس میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے جبکہ حکومتی سطح پر اسکی اصل وجوہات کا تعین نہیں کیا جا سکا ہے جو افسوسناک ہے۔گردشی قرضے کا اصل حجم چودہ سو ارب روپے سے زیادہ ہو سکتا ہے کیونکہ متعلقہ حکام بجلی کی چوری روکنے ، نقصانات کم کرنے اور ریکوری میں دلچسپی لینے کے بجائے حقائق دبانے کو ترجیح دیتے ہیں جبکہ انھیں بخوبی معلوم ہے کہ یہ مسئلہ کمزور ملکی معیشت کو لے کے ڈوب سکتا ہے۔حکام کے حقائق چھپانے کے سد باب کے لئے گردشی قرضے کی مانیٹرنگ کے لئے ایک فول پروف نظام وضع کرنے کی ضرورت ہے تاکہ حکومت اس سلسلہ میں اندھیرے میں نہ رہے۔انھوں نے کہا کہ بجلی کے بلوں میں مسلسل اضافہ کو گردشی قرضہ کے حل سمجھا جا رہا ہے جس سے نہ صرف غربت بڑھ رہی ہے بلکہ زرعی و صنعتی پیداوار اور برامدات بھی متاثر ہو رہی ہیں۔  پاکستان اکانومی واچ کے صدر ڈاکٹر مرتضیٰ مغل نے کہا ہے کہ گردشی قرضہ میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے جسکا علاج نہ کیا گیا تومعیشت کے لئے ایک سونامی ثابت ہو سکتا ہے۔ایک طرف گردشی قرضہ پیش قدمی کرتے ہوئے چودہ سو ارب روپے کی تجاوز کر گیا ہے تو دوسری طرف اسکے حل کے لئے کوئی خاص اقدامات نظر نہیں آ رہے ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)


جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…