اتوار‬‮ ، 25 جنوری‬‮ 2026 

بڑھتا ہوا گردشی قرضہ معیشت کے لئے ایک سونامی بن گیا،خطرے کی گھنٹی بج گئی

datetime 6  جنوری‬‮  2019 |

کراچی(این این آئی) پاکستان اکانومی واچ کے صدر ڈاکٹر مرتضیٰ مغل نے کہا ہے کہ گردشی قرضہ میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے جسکا علاج نہ کیا گیا تومعیشت کے لئے ایک سونامی ثابت ہو سکتا ہے۔ایک طرف گردشی قرضہ پیش قدمی کرتے ہوئے چودہ سو ارب روپے کی تجاوز کر گیا ہے تو دوسری طرف اسکے حل کے لئے کوئی خاص اقدامات نظر نہیں آ رہے ہیں۔

یہ مسئلہ ٹالنے سے حل نہیں ہو گا بلکہ ناقابل حل ہو جائے گا جسکے مضمرات کو سمجھا جائے۔ ڈاکٹر مرتضیٰ مغل نے یہاں جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا کہ نومبر میں گردشی قرضہ کا حجم 922 ارب روپے تھا جس میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے جبکہ حکومتی سطح پر اسکی اصل وجوہات کا تعین نہیں کیا جا سکا ہے جو افسوسناک ہے۔گردشی قرضے کا اصل حجم چودہ سو ارب روپے سے زیادہ ہو سکتا ہے کیونکہ متعلقہ حکام بجلی کی چوری روکنے ، نقصانات کم کرنے اور ریکوری میں دلچسپی لینے کے بجائے حقائق دبانے کو ترجیح دیتے ہیں جبکہ انھیں بخوبی معلوم ہے کہ یہ مسئلہ کمزور ملکی معیشت کو لے کے ڈوب سکتا ہے۔حکام کے حقائق چھپانے کے سد باب کے لئے گردشی قرضے کی مانیٹرنگ کے لئے ایک فول پروف نظام وضع کرنے کی ضرورت ہے تاکہ حکومت اس سلسلہ میں اندھیرے میں نہ رہے۔انھوں نے کہا کہ بجلی کے بلوں میں مسلسل اضافہ کو گردشی قرضہ کے حل سمجھا جا رہا ہے جس سے نہ صرف غربت بڑھ رہی ہے بلکہ زرعی و صنعتی پیداوار اور برامدات بھی متاثر ہو رہی ہیں۔  پاکستان اکانومی واچ کے صدر ڈاکٹر مرتضیٰ مغل نے کہا ہے کہ گردشی قرضہ میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے جسکا علاج نہ کیا گیا تومعیشت کے لئے ایک سونامی ثابت ہو سکتا ہے۔ایک طرف گردشی قرضہ پیش قدمی کرتے ہوئے چودہ سو ارب روپے کی تجاوز کر گیا ہے تو دوسری طرف اسکے حل کے لئے کوئی خاص اقدامات نظر نہیں آ رہے ہیں۔

موضوعات:

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



تہران میں کیا دیکھا (سوم)


مجھے امام خمینی کے تین مرلے کے گھر کے بعد شاہ…

تہران میں کیا دیکھا(دوم)

مجھے2024ء میں تہران میں امام خمینی کا گھر اور ایران…

تہران میں کیا دیکھا

ہمارا گروپ 25 دسمبر 2025ء کو تہران پہنچا‘ اسلام…

چھوٹی چھوٹی نیکیاں اور بڑے معجزے

اسلام آباد کا بائیس سالہ طالب علم طلحہ ظہور…

ونڈر بوائے

یہ بنیادی طور پر تین پاشائوں کی کہانی ہے‘ طلعت…

سہیل آفریدی کا آخری جلسہ

وہ جنرل کے سامنے بیٹھا‘ تھوڑی دیر دائیں بائیں…

ذورین نظامانی غلط نہیں کہہ رہا

والد صاحب نے مجھے پکڑ لیا‘ ان کے ہاتھ میں جوتا…

پرسی پولس

شیراز ریجن کا اصل کمال پرسی پولس (Persepolis) ہے‘ یہ…

سائرس یا ذوالقرنین

میرے سامنے پتھروں کی مستطیل عمارت تھی‘ فرش کے…

ایک دن ذوالقرنین کے مقبرے پر

میدان کی پچھلی جانب پہاڑ تھے‘ ان پر تازہ برف…

کام یابی کے دو فارمولے

کمرہ صحافیوں سے بھرا ہوا تھا‘ دنیا جہاں کا میڈیا…