منگل‬‮ ، 08 ستمبر‬‮ 2026 

احتساب ہوگا تو عدلیہ، انتظامیہ اور ملٹری بیورو کریسی کا بھی ہوگا،خارجہ پالیسی کو پنڈی سے پارلیمنٹ منتقل کیا جائے ٗ پیپلزپارٹی نے دھماکہ خیز اعلان کردیا

datetime 21  دسمبر‬‮  2018 |

اسلام آباد (این این آئی) پاکستان پیپلز پارٹی کے سینیٹر رضا ربانی نے وزیر خارجہ کے پالیسی بیان پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ خارجہ پالیسی کو پنڈی سے پارلیمنٹ منتقل کیا جائے ٗپارلیمنٹ کو ڈس فنکشنل کیا جارہا ہے ٗوزیر خارجہ نے کہا کہ کچھ ایسی چیزیں ہیں جو نہیں بتائی جا سکتیں، ایسی کون سی چیزیں ہیں جو پارلیمان کو نہیں بتائی جا سکتیں، اگر کچھ حساس معاملات ہیں تو ان کیمرا اجلاس بلا  لیں ٗ

قومی سلامتی سے متعلق پارلیمانی کمیٹی فوری تشکیل دی جائے ٗاحتساب ہوگا تو عدلیہ، انتظامیہ اور ملٹری بیورو کریسی کا بھی ہوگا، وفاقی احتساب کمیشن بنایا جائے ٗبدقسمتی سے تینوں اداروں کے درمیان ہم آہنگی اور اختیارات کا توازن اس وقت موجود نہیں، ہر ادارا دوسرے ادارے کے اختیارات میں مداخلت کر رہا ہے ٗتاحال این ایف سی ایوارڈ جاری نہیں کیا گیا، ریاست کس سمت جا رہی ہے؟ریاست خطرناک کھیل کھیل رہی ہے ہمیں اب یہ کھیل کھیلنا چھوڑدینا چاہیے، ریاست کو کچھ ہوا تو ہم میں سے کوئی نہیں بچے گا۔ جمعہ کو سینیٹ اجلاس میں خطاب کرتے ہوئے سابق چیئرمین سینیٹ رضا ربانی نے کہا کہ پارلیمنٹ کو ڈس فنکشنل کیا جارہا ہے، ہم چاہتے ہیں کہ پارلیمنٹ ہی خارجہ پالیسی بنائے۔انہوں نے کہا کہ وزیر خارجہ نے یہاں آکر کہا کہ کچھ ایسی چیزیں ہیں جو نہیں بتائی جا سکتیں، ایسی کون سی چیزیں ہیں جو پارلیمان کو نہیں بتائی جا سکتیں، اگر کچھ حساس معاملات ہیں تو ان کیمرا اجلاس بلا لیں۔انہوں نے مطالبہ کیا کہ قومی سلامتی سے متعلق پارلیمانی کمیٹی فوری تشکیل دی جائے۔انہوں نے کہا کہ بدقسمتی سے تینوں اداروں کے درمیان ہم آہنگی اور اختیارات کا توازن اس وقت موجود نہیں، ہر ادارا دوسرے ادارے کے اختیارات میں مداخلت کر رہا ہے۔انہوں نے کہاکہ پارلیمنٹ تمام ریاستی اداروں کی ماں ہے۔انہوں نے حکومت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ تاحال این ایف سی ایوارڈ جاری نہیں کیا گیا، ریاست کس سمت جا رہی ہے؟پیپلز پارٹی رہنما نے کہا کہ لاپتہ افراد کا معاملہ روز کا معمول بن گیا ہے،

جو صحافی پسند نہیں اسے قتل کردو، ریاست نے بنیادی حقوق کو نجی معاملہ بنادیا ہے، شہریوں کو اپنے نجی سکیورٹی گارڈز رکھنے پڑتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ آج قانون ایک ہے لیکن اطلاق چار ہیں ٗریاست خطرناک کھیل کھیل رہی ہے ہمیں اب یہ کھیل کھیلنا چھوڑدینا چاہیے، ریاست کو کچھ ہوا تو ہم میں سے کوئی نہیں بچے گا۔انہوں نے کہاکہ کوئی کرپٹ ہے تو اسے سزا دیں لیکن یہ سزا اس وقت ممکن ہے جب احتساب بلا تفریق ہو، گنے چنے لوگوں کا احتساب قابل قبول نہیں ہے۔انہوں نے مطالبہ کیا کہ وفاقی احتساب کمیشن اور عام شہریوں کے ساتھ زیادتیوں پر بھی کمیشن تشکیل دیا جانا چاہیے۔رضا ربانی نے کہا کہ سلیکٹو احتساب قابل قبول نہیں ہے، احتساب ہوگا تو عدلیہ، انتظامیہ اور ملٹری بیورو کریسی کا بھی ہوگا، وفاقی احتساب کمیشن بنایا جائے، سیاسی جماعتوں کو توڑنے سے اجتناب کرنا چاہئے، عام شہریوں کے ساتھ زیادتیوں پر کمیشن تشکیل دیا جائے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)


لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…