جمعرات‬‮ ، 04 جون‬‮ 2026 

مجھ پر تو یہ قانون لاگو ہی نہیں ہوتا کیونکہ۔۔ دوہری شہریت کیس میں برطانوی شہریت رکھنے والےزلفی بخاری کاسپریم کورٹ میں حیران کن جواب ، ایساقانونی نکتہ پیش کر دیا کہ سب دیکھتے ہی رہ گئے

datetime 5  دسمبر‬‮  2018 |

اسلام آباد(نیوز ڈیسک ) وزیراعظم کے معاون خصوصی زلفی بخاری نے اپنا جواب سپریم کورٹ میں جمع کراتے ہوئے سپریم کورٹ میں دہری شہریت کیس میں دائر درخواست خارج کرنے کی استدعا کردی ہے اور کہا ہے کہ آرٹیکل 62 اور 63 کا اطلاق صرف اراکین پارلیمنٹ پر ہوتاہے ۔ تفصیلات کے مطابق زلفی بخاری کے جواب میں کہا گیا ہے کہ وہ برطانیہ میں پیدا ہوئے،

شہریت بعد میں حاصل نہیں کی، انھوں نے برطانوی شہری ہوتے ہوئے بھی پاکستانی شہریت حاصل کی۔پی ٹی آئی رہنما نے بتایا کہ 13 سے 18 سال کی عمر تک انھوں نے اسلام آباد کے اسکول سے تعلیم حاصل کی، جب کہ اعلی تعلیم برطانوی یونی ورسٹی برونیل سے حاصل کی۔جواب میں مزید کہا گیا ہے کہ زلفی بخاری کے خاندان کا تعلق پنجاب کے ضلع اٹک سے ہے، وہ رکن پارلیمنٹ نہیں، جبکہ آرٹیکل 62 اور 63 کا اطلاق صرف اراکین پارلیمنٹ پر ہوتاہے۔جواب میں کہا گیا ہے کہ زلفی بخاری رکن پارلیمنٹ نہیں، وزیراعظم کو معاون خصوصی تعینات کرنے کا مکمل اختیار ہے، اس کے علاوہ سمندر پار پاکستانیوں کو ووٹ کا حق عدالت نے دیا، ووٹ کا حق دیکر قومی ترقی میں انہیں شامل نہ کرنا سوالیہ نشان ہے۔زلفی بخاری کی جانب سے جمع کرائے گئے جواب میں کہا گیا ہے کہ پاکستانی آئی ایم ایف سمیت کئی اداروں سے معاونت حاصل کرتا ہے،جبکہ آرٹیکل 62 اور 63 کا اطلاق صرف اراکین پارلیمنٹ پر ہوتاہے۔جواب میں کہا گیا ہے کہ زلفی بخاری رکن پارلیمنٹ نہیں، وزیراعظم کو معاون خصوصی تعینات کرنے کا مکمل اختیار ہے، اس کے علاوہ سمندر پار پاکستانیوں کو ووٹ کا حق عدالت نے دیا، ووٹ کا حق دیکر قومی ترقی میں انہیں شامل نہ کرنا سوالیہ نشان ہے۔زلفی بخاری کی جانب سے جمع کرائے گئے جواب میں کہا گیا ہے کہ پاکستانی آئی ایم ایف سمیت کئی اداروں سے معاونت حاصل کرتا ہے، عالمی اداروں کے غیر ملکی سربراہان سے معاونت لی جاسکتی ہے تو دہری شہریت والے پاکستانی سے کیوں نہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



کوبا مایان


کوبا مایان (Coba Mayan) ہماری پہلی منزل تھا‘ کین کون…

کین کون میں چار دن

کین کون (Cancun) میکسیکو کا اہم ترین سیاحتی شہر ہے‘…

لکڑی کا تختہ

خوش قسمتی اور بدقسمتی میں لکڑی اور لوہے جیسا…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…