ہفتہ‬‮ ، 15 اگست‬‮ 2026 

پاکستانی سینیٹر دنیا کی 100 متاثر کن خواتین میں شامل،فہرست جاری

datetime 19  ‬‮نومبر‬‮  2018 |

اسلام آباد (این این آئی)پاکستانی سینیٹر اور انسانی حقوق کی کارکن کرشنا کماری کو بی بی سی 2018 کی 100 بااثر اور متاثر کن خواتین میں شامل کیا گیا ہے ۔برٹش براڈ کاسٹ کارپوریشن (بی بی سی) گزشتہ چند برسوں سے خواتین کو درپیش مسائل کے خلاف جدوجہد کرنے پر ان کی کوششوں کے اعزاز میں دنیا بھر کی 100 بااثر اور متاثر کن خواتین کی فہرست جاری کرتا ہے۔

دنیا کے 60 ممالک کے مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والی 15 سال سے 94 سال تک کی منتخب کردہ ان 100 خواتین نے حقوقِ نسواں سے متعلق خدمات سر انجام دی ہیں۔رواں برس اس فہرست میں شامل واحد پاکستانی 39 سالہ کرشنا کماری ہیں ، جن کا تعلق ننگرپارکر کے پسماندہ گاؤں دھانا گام کی کوہلی برادری سے ہے اور وہ رواں برس مارچ میں سینیٹر بنی تھیں۔انہوں نے کئی سال پاکستان میں جبری مشقت پر مامور مزدوروں کے حقوق کیلئے کام کیا ہے۔وہ پاکستانی سینیٹ میں منتخب ہونے والی پہلی تھری ہندو خاتون ہیں۔کرشنا کماری نے جبری مشقت کے خلاف آواز اس لیے اٹھائی کیونکہ بچپن میں اس تلخ حقیقت سے ان کاسامنا بھی ہوا تھا جب 3 سال تک انہیں اور ان کے خاندان کو عمر کوٹ میں ایک زمیندار کی جانب سے کام کرنے پر مجبور کیا گیا تھا۔بعد ازاں پولیس نے چھاپا مار کر انہیں اور ان کے خاندان کو بازیاب کروایا تھا۔جبری مشقت سے آزادی حاصل کرنے کے بعد ان کے والدین نے ان پر تعلیم کے حصول پر زور دیا جس کے بعد انہوں نے عمر کوٹ اور میرپورخاص میں ابتدائی تعلیم حاصل کی اور سندھ یونیورسٹی، جامشورو سے سوشیالوجی میں پوسٹ گریجویٹ ڈگری حاصل کی۔

انسانی حقوق سے متعلق دیگر ٹریننگ حاصل کرنے کے بعد کرشنا کماری نے یوتھ سول ایکشن پروگرام کے لیے کام کیا جہاں انہوں نے جبری مشقت اور اس کا شکار ہونے والی خواتین سے متعلق تحقیق کی ۔انہوں نے جبری مشقت، ملازمت کی جگہ پر جنسی ہراساں کیے جانے سمیت دیگر انسانی خصوصاً خواتین کے حقوق سے متعلق ورکشاپس اور سیمینار منعقد کیے ۔کرشنا کماری نے انسانی حقوق سے متعلق مختلف اخبارات کے لیے بھی لکھا۔رواں برس جب انہیں سینیٹ کے لیے منتخب کیا گیا تو انہوں نے ’مظلوم افراد کے حقوق ، خواتین کے حقوق ، ان کی صحت اور تعلیم کے لیے کام جاری رکھنے کے عزم کا اظہار کیا تھا‘۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)


1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…