ہفتہ‬‮ ، 15 اگست‬‮ 2026 

مسلمانوں کی ذلت کیسے ختم ہوگی؟ تبلیغی جماعت کے امیر مولانا عبدالوہاب اپنے آخری خطاب میں کن باتوں کی تلقین کرتے رہے؟ ایمان افروز انکشافات

datetime 19  ‬‮نومبر‬‮  2018 |

لاہور (نیوز ڈیسک) تبلیغی جماعت کے امیر حاجی عبدالوہاب لاہور کے نجی ہسپتال میں دوران علاج گزشتہ روز انتقال کر گئے، تبلیغی جماعت کے امیر حاجی عبدالوہاب گزشتہ کئی روز سے ڈاکٹرز اسپتال میں زیر علاج تھے، انہیں ڈینگی بخار کے باعث اسپتال منتقل کیا گیا تھا، حاجی عبدالوہاب کو سانس لینے میں دشواری کاسامنا تھا اور سینے کی تکلیف بھی تھی جس کے باعث وہ رواں سال کے تبلیغی اجتماع میں شرکت بھی نہیں کرسکے تھے۔

گزشتہ رات حاجی عبدالوہاب کی طبیعت کافی خراب ہو گئی جس کی وجہ سے وہ اس جہاں فانی سے رحلت فرما گئے، ان کے انتقال پر مذہبی، سیاسی اور مختلف مکاتب فکر سے تعلق رکھنے والے افراد اور علما کرام نے افسوس کا اظہار کیا۔امیرتبلیغی جماعت حاجی عبدالوہاب1923 کو انڈیا کے شہر دہلی میں پیدا ہو ئے ہجرت کے بعد پاکستان آئے، ان کا تعلق راجپوت را برادری سے تھا، اسلامیہ کالج لاہور سے گریجو یشن کیا، گریجویشن کے بعد تحصیلدار کی نو کری شروع کردی، انہوں نے تحریک ختم نبوت میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔ حاجی عبدالوہاب مسلم دنیا کے 500 سو بااثر شخصیات میں 10 ویں نمبر پر شامل تھے، ان کا شمار پاکستان کے ان پانچ لوگوں میں ہوتا ہے جنہوں نے اپنی پوری زندگی تبلیغ کے لئے وقف کی۔محمد شفیع قریشی تبلیغی جماعت کے پہلے امیر تھے ان کی وفات کے بعد حاجی محمد بشیر دوسرے امیر مقرر ہوئے جبکہ حاجی عبدالوہاب تیسرے امیر مقرر ہو ئے۔ حاجی عبدالوہاب نے اپنے آخری خطاب میں کہا تھا کہ انسان ماں کے پیٹ سے آیا اور قبر کے پیٹ کی طرف دوڑ رہا ہے، مسلمان کے لیے بہترین عمل توبہ ہے، رات سوتے وقت موت سرہانے رکھو اور صبح اٹھو تو موت کو سامنے رکھو، اس اجتماع کا مقصد امت مسلمہ کو دین کے راستے میں ڈالنا اور سچے مسلمان بنانا ہے، حاجی عبدالوہاب نے کہا کہ آپ سب بھی اس کار خیر کا حصہ بنیں اور اللہ کے دین کو دوسروں تک پہنچائیں، تبلیغی اجتماع دین سکھانے کی تربیت گاہ ہے،

انہوں نے اپنے خطاب میں کہا تھا کہ مسلمانوں کی ذلت توبہ سے ختم ہو گی، امت پر آفتیں دین سے دوری کی وجہ سے نازل ہو رہی ہیں، پریشانیوں سے نجات اللہ کی راہ میں نکلنے میں ہے، اللہ تعالیٰ اور اس کے نبی کریمؐ کا پیغام دوسروں تک پہنچانا ہم سب کا فرض ہے، حضور اکرمؐ کا ارشاد ہے کہ بہت سے لوگ ایسے ہیں جو نرم بستروں پر اللہ کا ذکر کرتے ہیں جس کہ وجہ سے اللہ تعالیٰ ان کو جنت کے اعلیٰ درجے میں پہنچا دیتے ہیں، حاجی عبدالوہاب نے اپنے خطاب میں کہا تھا کہ دنیا میں مشقتیں برداشت کرنا آخرت کی رفع درجات کا سبب ہے، اگر تم ہر وقت ذکر میں مشغول رہو گے تو فرشتے تمہارے بستروں اور تمہارے راستوں میں تم سے مصافحہ کرنے لگیں گے اور جو اللہ کا ذکر نہیں کرتا ہے زندہ ہو کر بھی مردہ ہے اور اس کی زندگی بے کار ہے، انہوں نے کہا کہ اللہ تعالیٰ کا ذکر جنت میں داخل ہونے کا ٹکٹ ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)


1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…