جمعہ‬‮ ، 04 اپریل‬‮ 2025 

مسلمانوں کی ذلت کیسے ختم ہوگی؟ تبلیغی جماعت کے امیر مولانا عبدالوہاب اپنے آخری خطاب میں کن باتوں کی تلقین کرتے رہے؟ ایمان افروز انکشافات

datetime 19  ‬‮نومبر‬‮  2018
ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

لاہور (نیوز ڈیسک) تبلیغی جماعت کے امیر حاجی عبدالوہاب لاہور کے نجی ہسپتال میں دوران علاج گزشتہ روز انتقال کر گئے، تبلیغی جماعت کے امیر حاجی عبدالوہاب گزشتہ کئی روز سے ڈاکٹرز اسپتال میں زیر علاج تھے، انہیں ڈینگی بخار کے باعث اسپتال منتقل کیا گیا تھا، حاجی عبدالوہاب کو سانس لینے میں دشواری کاسامنا تھا اور سینے کی تکلیف بھی تھی جس کے باعث وہ رواں سال کے تبلیغی اجتماع میں شرکت بھی نہیں کرسکے تھے۔

گزشتہ رات حاجی عبدالوہاب کی طبیعت کافی خراب ہو گئی جس کی وجہ سے وہ اس جہاں فانی سے رحلت فرما گئے، ان کے انتقال پر مذہبی، سیاسی اور مختلف مکاتب فکر سے تعلق رکھنے والے افراد اور علما کرام نے افسوس کا اظہار کیا۔امیرتبلیغی جماعت حاجی عبدالوہاب1923 کو انڈیا کے شہر دہلی میں پیدا ہو ئے ہجرت کے بعد پاکستان آئے، ان کا تعلق راجپوت را برادری سے تھا، اسلامیہ کالج لاہور سے گریجو یشن کیا، گریجویشن کے بعد تحصیلدار کی نو کری شروع کردی، انہوں نے تحریک ختم نبوت میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔ حاجی عبدالوہاب مسلم دنیا کے 500 سو بااثر شخصیات میں 10 ویں نمبر پر شامل تھے، ان کا شمار پاکستان کے ان پانچ لوگوں میں ہوتا ہے جنہوں نے اپنی پوری زندگی تبلیغ کے لئے وقف کی۔محمد شفیع قریشی تبلیغی جماعت کے پہلے امیر تھے ان کی وفات کے بعد حاجی محمد بشیر دوسرے امیر مقرر ہوئے جبکہ حاجی عبدالوہاب تیسرے امیر مقرر ہو ئے۔ حاجی عبدالوہاب نے اپنے آخری خطاب میں کہا تھا کہ انسان ماں کے پیٹ سے آیا اور قبر کے پیٹ کی طرف دوڑ رہا ہے، مسلمان کے لیے بہترین عمل توبہ ہے، رات سوتے وقت موت سرہانے رکھو اور صبح اٹھو تو موت کو سامنے رکھو، اس اجتماع کا مقصد امت مسلمہ کو دین کے راستے میں ڈالنا اور سچے مسلمان بنانا ہے، حاجی عبدالوہاب نے کہا کہ آپ سب بھی اس کار خیر کا حصہ بنیں اور اللہ کے دین کو دوسروں تک پہنچائیں، تبلیغی اجتماع دین سکھانے کی تربیت گاہ ہے،

انہوں نے اپنے خطاب میں کہا تھا کہ مسلمانوں کی ذلت توبہ سے ختم ہو گی، امت پر آفتیں دین سے دوری کی وجہ سے نازل ہو رہی ہیں، پریشانیوں سے نجات اللہ کی راہ میں نکلنے میں ہے، اللہ تعالیٰ اور اس کے نبی کریمؐ کا پیغام دوسروں تک پہنچانا ہم سب کا فرض ہے، حضور اکرمؐ کا ارشاد ہے کہ بہت سے لوگ ایسے ہیں جو نرم بستروں پر اللہ کا ذکر کرتے ہیں جس کہ وجہ سے اللہ تعالیٰ ان کو جنت کے اعلیٰ درجے میں پہنچا دیتے ہیں، حاجی عبدالوہاب نے اپنے خطاب میں کہا تھا کہ دنیا میں مشقتیں برداشت کرنا آخرت کی رفع درجات کا سبب ہے، اگر تم ہر وقت ذکر میں مشغول رہو گے تو فرشتے تمہارے بستروں اور تمہارے راستوں میں تم سے مصافحہ کرنے لگیں گے اور جو اللہ کا ذکر نہیں کرتا ہے زندہ ہو کر بھی مردہ ہے اور اس کی زندگی بے کار ہے، انہوں نے کہا کہ اللہ تعالیٰ کا ذکر جنت میں داخل ہونے کا ٹکٹ ہے۔

موضوعات:



کالم



چانس


آپ مورگن فری مین کی کہانی بھی سنیے‘ یہ ہالی ووڈ…

جنرل عاصم منیر کی ہارڈ سٹیٹ

میں جوں ہی سڑک کی دوسری سائیڈ پر پہنچا‘ مجھے…

فنگر پرنٹس کی کہانی۔۔ محسن نقوی کے لیے

میرے والد انتقال سے قبل اپنے گائوں میں 17 کنال…

نارمل معاشرے کا متلاشی پاکستان

’’اوئے پنڈی وال‘ کدھر جل سیں‘‘ میں نے گھبرا…

آپ کی امداد کے مستحق دو مزید ادارے

یہ2006ء کی انگلینڈ کی ایک سرد شام تھی‘پارک میںایک…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے (دوسرا حصہ)

بلوچستان کے موجودہ حالات سمجھنے کے لیے ہمیں 1971ء…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے؟ (پہلا حصہ)

قیام پاکستان کے وقت بلوچستان پانچ آزاد ریاستوں…

اچھی زندگی

’’چلیں آپ بیڈ پر لیٹ جائیں‘ انجیکشن کا وقت ہو…

سنبھلنے کے علاوہ

’’میں خانہ کعبہ کے سامنے کھڑا تھا اور وہ مجھے…

ہم سیاحت کیسے بڑھا سکتے ہیں؟

میرے پاس چند دن قبل ازبکستان کے سفیر اپنے سٹاف…

تیسری عالمی جنگ تیار(دوسرا حصہ)

ولادی میر زیلنسکی کی بدتمیزی کی دوسری وجہ اس…