جمعرات‬‮ ، 04 جون‬‮ 2026 

امیر تبلیغی جماعت مولانا عبدالوہاب نے شیخ رشید کو تھپڑ کیوں مارا؟ واقعہ کا علم ہونے کے بعد پرویز مشرف کس بات پر تیار ہو گئے؟ حیرت انگیز انکشافات

datetime 19  ‬‮نومبر‬‮  2018 |

اسلام آباد (نیوز ڈیسک) تبلیغی جماعت کے امیر حاجی عبدالوہاب لاہور کے نجی اسپتال میں دوران علاج گزشتہ روز انتقال کر گئے،زندگی بھر اسلام کی دعوت دینے والے تبلیغ کے داعی حاجی عبدالوہاب 1923 میں دہلی میں پیدا ہوئے، تقسیم ہند کے بعد ٹوپیاں والا بورے والا ضلع وہاڑی منتقل ہوئے، امیرتبلیغی جماعت حاجی عبدالوہاب1923 کو انڈیا کے شہر دہلی میں پیدا ہو ئے ہجرت کے بعد پاکستان آئے،

ان کا تعلق راجپوت را برادری سے تھا، اسلامیہ کالج لاہور سے گریجو یشن کیا، گریجویشن کے بعد تحصیلدار کی نو کری شروع کردی، انہوں نے تحریک ختم نبوت میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔ حاجی عبدالوہاب مسلم دنیا کے 500 سو بااثر شخصیات میں 10 ویں نمبر پر شامل تھے، ان کا شمار پاکستان کے ان پانچ لوگوں میں ہوتا ہے جنہوں نے اپنی پوری زندگی تبلیغ کے لئے وقف کی۔محمد شفیع قریشی تبلیغی جماعت کے پہلے امیر تھے ان کی وفات کے بعد حاجی محمد بشیر دوسرے امیر مقرر ہوئے جبکہ حاجی عبدالوہاب تیسرے امیر مقرر ہو ئے۔ مشرف دور میں تبلیغی اجتماع پر پابندی لگائی گئی، اس وقت وفاقی وزیر داخلہ آفتاب شیر پاؤ تھے، اس وقت صدر پرویزمشرف نے حاجی عبدالوہاب سے مذاکرات کے لیے شیخ رشید احمد کو بھیجا، جب شیخ رشید احمد نے حاجی عبدالوہاب سے کہا کہ سکیورٹی تھریٹس ہیں اس لیے آپ اجتماع نہ کریں، اس موقع پر حاجی عبدالوہاب نے محبت سے شیخ رشید احمد کے منہ پر ایک تھپڑ رسید کیا اور کہا کہ دہشت گردی سے تبلیغی جماعت کا کیا تعلق، ہم اسلام آباد میں اجتماع کریں گے، اس کے بعد شیخ رشید احمد نے صدر پرویز مشرف سے کہا کہ حاجی صاحب سے تھپڑ کھا چکا ہوں اور وہ مان نہیں رہے ہیں، اس موقع پر صدر پرویزمشرف نے کہا کہ مجھے ان کا تھپڑ بھی قبول ہے لیکن شرط یہ ہے کہ وہ اجتماع نہ کریں کیونکہ سکیورٹی تھریٹس ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



کوبا مایان


کوبا مایان (Coba Mayan) ہماری پہلی منزل تھا‘ کین کون…

کین کون میں چار دن

کین کون (Cancun) میکسیکو کا اہم ترین سیاحتی شہر ہے‘…

لکڑی کا تختہ

خوش قسمتی اور بدقسمتی میں لکڑی اور لوہے جیسا…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…