جمعرات‬‮ ، 04 جون‬‮ 2026 

وزیراعظم عمران خان کواپنے ’’یوٹرن‘‘ کے حوالے سے ہٹلر کی مثال دینا بھاری پڑ گیا، مشرف ٗضیاء الحق اور یحییٰ نے بھی وہ نہیں کہاجو وزیراعظم کہہ گئے 

datetime 17  ‬‮نومبر‬‮  2018 |

سکھر(این این آئی) پاکستان پیپلزپارٹی کے سینئر رہنما خورشید شاہ نے ایک بار پھر کہا ہے کہ ایک ڈیموکریٹ ہٹلر کے روپ میں سامنے آگیا ٗاب اس سے بڑی تبدیلی کیا ہوگی ٗجمہوری سوچ رکھنے والے ہر پاکستانی کو وزیراعظم کے بیان پر حیرانی ضرور ہوئی گی۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے پیپلزپارٹی کے رہنما خورشید شاہ نے وزیراعظم کے یوٹرن سے متعلق بیان کو ایک بار پھر تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہاکہ جمہوری سوچ رکھنے والے ہر پاکستانی کو وزیراعظم کے بیان پر حیرانی ضرور ہوئی گی،

منتخب وزیراعظم کا بیان سن کر سب حیران ہوئے، ضیاء الحق اور یحییٰ نے بھی اپنے آپ کو ہٹلر سے مشابہت نہیں دی ٗ پرویز مشرف نے بھی خود کو ہٹلر سے مشابہت نہیں دی۔خورشید شاہ نے کہا کہ ایک ڈیموکریٹ ہٹلر کے روپ میں سامنے آگیا، اس سے بڑی تبدیلی کیا ہوگی، ایسی سوچ رکھنے والا ملک کا وزیراعظم بن گیا، لوگوں کی سوچ اور ووٹ کی توہین کی گئی، اس کی جتنی مذمت کی جائے کم ہے۔پی پی رہنما نے کہا کہ ملک میں 40 سال ڈکٹیٹر رہے اور آج بھی مجرم سیاستدان ہے جس نے آئین دیا، ادارے بنائے اس کے احتساب کی باتیں ہورہی ہیں۔انہوں نے کہاکہ آج پارلیمنٹ میں ایسی زبان استعمال کی جاتی ہے جو سن کر شرم آتی ہے، ہم نے کبھی پارلیمنٹ میں ایسی گفتگو نہیں سنی، آپ حکومت چلائیں اپوزیشن آپ کے معاملات میں مداخلت نہیں کریگی، موجودہ پارلیمنٹ ابھی تک کوئی قانون سازی نہیں کرسکی۔ انہوں نے کہا کہ تنقید کرنا اپوزیشن کا کام ہے، اپوزیشن تنقید نہیں کرے گی تو حکومت کیسے صحیح کام کریگی ۔انہوں نے کہا کہ وزیراعظم ہاؤس میں رہنا یا نہ رہنا، دال کھانا یا سبزی کھانا، اس سے پیسے نہیں بچیں گے۔سید خورشید شاہ نے کہاکہ ہم نے چاروں صوبوں کی منظوری سے این ایف سی ایوارڈ بنایا، آج ہٹلر کی سربرایہ میں اٹھارہویں ترمیم اور این ایف سی ایوارڈ کو ختم کرنے کی کوشش کی جارہی ہے، 18 ویں ترمیم صوبوں کے حقوق کی حفاظت کرتی ہے، وقت کی ضرورت ہے کہ ملک کی فیڈریشن مضبوط ہو،

فیڈریشن جب مضبوط ہوگی جب صوبوں کو حقوق ملیں گے۔انہوں نے کہا کہ ہم اٹھارہویں ترمیم کا تحفظ کریں گے پاکستان ایک ایٹمی قوت ہے اور اس کی فیڈریشن کو مضبوط ہونا چاہیے، پاکستان کا کوئی شخص برداشت نہیں کرے گا کہ اٹھارہویں ترمیم ختم ہو۔سید خورشید شاہ نے کہا کہ پارلیمنٹ مدر آف آل انسٹیٹیوشنز ہوا کرتی ہے مگر 40 سال تک قابض آمروں نے اس کا حلیہ بگاڑدیا تھا انہوں نے دعویٰ کیا کہ ہم نے اقتدار میں آکر اس کا حلیہ درست کیا مگر آج اس پارلیمنٹ میں جوزبان استعمال کی جارہی ہے اس پر شرم آتی ہے، ہم نے کبھی ایسی گفتگو نہیں کی۔

پی پی پی کے رہنما کا کہنا تھا کہ ہم نے نیشنل فنانس کمیشن( این ایف سی )ایوارڈ دیا اور صوبوں کو ان کے حقوق دئیے۔انہوں نے کہاکہ یہ اس ملک کی بدقسمتی ہے کہ یہاں پر آج تک حقیقی جمہوریت نہیں آئی جن سیاستدانوں نے ادارے بنائے ان کا احتساب ہورہاہے باقی آمروں کا نہیں ہورہا۔خورشید شاہ نے کہا کہ بھٹو اس ملک کو مضبوط بنانا چاہتے تھے اس لیے انہیں قتل کیا گیا ٗ بھٹو نے وفاق کو مضبوط کیا اور بینظیر اور نوازشریف نے اس کو تقویت دی تھی لیکن یہ تبدیلی آئی کہ ہٹلر سامنے آگیا ہے۔خورشید شاہ نے کہا کہ جان بوجھ کر ملک کے سسٹم کو خراب کیا جارہا ہے، ملک میں 1952سے احتساب کیا جانا چاہئے جب ایک آمر کو گورنر بنایا گیا تھا اس کے ساتھ بھٹو کے مقدمے کو ری اوپن کیا جائے؟۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



کوبا مایان


کوبا مایان (Coba Mayan) ہماری پہلی منزل تھا‘ کین کون…

کین کون میں چار دن

کین کون (Cancun) میکسیکو کا اہم ترین سیاحتی شہر ہے‘…

لکڑی کا تختہ

خوش قسمتی اور بدقسمتی میں لکڑی اور لوہے جیسا…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…