جمعہ‬‮ ، 06 فروری‬‮ 2026 

بھارت کو تجارت کے لئے پسندیدہ ترین قوم کا درجہ دیاجائے گا یا نہیں؟وزیراعظم کے مشیر نے بڑا اعلا ن کردیا

datetime 13  ‬‮نومبر‬‮  2018 |

لاہور(این این آئی) وزیراعظم کے مشیر برائے تجارت ، ٹیکسٹائل اور انڈسٹری عبدالرزاق داؤد نے کہا ہے کہ بھارت کو تجارت کے لئے پسندیدہ ترین قوم کا درجہ دینے کا کوئی پروگرام نہیں ہے ، ملکی معیشت کی بہتری میں وقت لگے گا اس کے لئے کوئی شارٹ کٹ نہیں ہے ، چین کے ساتھ آزادنہ تجارت کے دوسرے معاہدے کا معاملہ جون تک طے کرلیں گے ۔ ان خیالات کااظہارانہوں نے گزشتہ روز مقامی ہوٹل میں

انٹر نیشنل سیمنٹ کانفرنس 2018ء سے خطاب اور میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کیا ۔کانفرنس میں بھارت ، امریکہ ، فرانس ،برطانیہ ، سوئززلینڈسمیت 20ملکوں کے 250ڈیلگیٹس شرکت کررہے ہیں ۔ وزیراعظم کے مشیر برائے تجارت ، ٹیکسٹائل اور انڈسٹری عبدالرزاق داؤد نے کہاکہ آئی ایم ایف سے معاملات بہتر انداز میں طے کرلیں گے امید ہے کہ نئی حکومت جلد مالی مشکلات پر قابو پالے گی ۔انہوں نے میڈ ان پاکستان کلچر کو فروغ دینے کی ضرورت پر زوردیا ۔انہوں نے کہاکہ مشترکہ مفادات کی کونسل کے آئندہ اجلاس میں اہم فیصلے ہونگے تاکہ برآمدات میں اضافہ ہوسکے ۔ انہوں نے کہاکہ برآمدات بڑھا کرہی پائیدار معاشی ترقی ممکن ہوسکتی ہے ۔ انہوں نے کہاکہ حکومت ملک میں صنعتی شعبے کی حوصلہ افزائی کر ے گی ، برآمدی شعبے کو گیس او ربجلی سستے ٹیرف پر دینے کی کوشش کررہے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ بیرونی دنیا سے بہتر اشارے مل رہے ہیں جس کے ملکی معیشت پر مثبت اثرات مرتب ہونگے ۔ حکومتی اقدامات سے برآمدی آرڈرز میں بتدریج اضافہ ہورہا ہے ۔ا نہوں نے کہاکہ جب تحریک انصاف کی حکومت وجود میں آئی تو اس وقت برآمدی انڈسٹری مسائل کا شکار تھی جس کی بنیادی وجہ گیس اور

بجلی کی عدم فراہمی تھی ۔ موجود حکومت نے برسرا قتدار آتے ہی پانچ برآمدی صنعتوں کو گیس اور بجلی بحال کی جس سے نہ صرف برآمدات میں بہتری آرہی ہے بلکہ ڈی انڈسٹری لائزیشن کا پراسس بھی ریورس ہورہا ہے ۔ پاکستان کو برآمدی کلچر لانے کیلئے بہت سے چیلنجز درپیش ہیں جن میں کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ ، تجاری خسارہ ، برآمدات کی گرتی ہوئی شرح سمیت دیگر چینلجز شامل ہیں ۔پاکستان اس وقت تک ترقی نہیں کرسکتا

جب تک برآمدی کلچر کو فروغ نہ دیں اورا س کیلئے ہم مشترکہ مفادات کی کونسل کے اجلاس میں برآمدات کو فروغ دینے کے لئے بات کریں گے ،پھر ہم ایسا نظام لائیں گے جس کا تمام طبقات کا فائدہ پہنچے گا ۔ انہوں نے کہاکہ پاکستان کی معیشت میں بہتری دیکھ رہا ہوں جس سے پاکستان کی برآمدات کو بڑھانے میں مدد ملے گی اور

پاکستان میں بہت سے برآمدی آرڈرز آئیں گے اور ڈی انڈسٹلائزیشن ختم ہوجائے گی ۔ انہوں نے کہاکہ ملک میں موجودہ انڈسٹری کی تعداد کم ہے اس کو بڑھانے کیلئے اقداما ت کی ضرورت ہے ۔ حکومت سیمنٹ سیکٹر کو فروغ دینے کیلئے توجہ دے رہی ہے حکومت کی جانب سے پچا س لاکھوں گھروں کی تعمیر کے اعلان میں سیمنٹ انڈسٹری کا نہایت اہم کردار ہے جس سے نہ صرف معیشت مضبوط ہوگی بلکہ روزگار کے وسیع مواقعے پیدا ہونگے ۔



کالم



آئل اینڈ سپیس وار


مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…

تہران میں کیا دیکھا (سوم)

مجھے امام خمینی کے تین مرلے کے گھر کے بعد شاہ…

تہران میں کیا دیکھا(دوم)

مجھے2024ء میں تہران میں امام خمینی کا گھر اور ایران…

تہران میں کیا دیکھا

ہمارا گروپ 25 دسمبر 2025ء کو تہران پہنچا‘ اسلام…

چھوٹی چھوٹی نیکیاں اور بڑے معجزے

اسلام آباد کا بائیس سالہ طالب علم طلحہ ظہور…

ونڈر بوائے

یہ بنیادی طور پر تین پاشائوں کی کہانی ہے‘ طلعت…

سہیل آفریدی کا آخری جلسہ

وہ جنرل کے سامنے بیٹھا‘ تھوڑی دیر دائیں بائیں…