جمعہ‬‮ ، 14 اگست‬‮ 2026 

افغانستان کے مسئلے کو کیسے حل کیا جا سکتا ہے؟ پاکستان نے ایسی تجویز دیدی جس پر سب ہی اتفاق کریں گے

datetime 9  ‬‮نومبر‬‮  2018 |

ماسکو (این این آئی) پاکستان نے روسی دارالحکومت ماسکو میں افغانستان بارے منعقدہ مشاورتی اجلاس کو بتایا ہے کہ افغانستان کے مسئلے کا کوئی فوجی حل نہیں ہے یہ مسئلہ صرف سیاسی طریقے سے حل ہونا چاہئے سخت گیر سماجی ثقافتی سیاسی اور معاشی حقائق کو مد نظر رکھ کر حل نکالنے سے افغانستان میں امن قائم ہو سکتا ہے،تمام فریقین براہ راست اور واضح طو رپر ایک دوسرے کے موقف اور تحفظات کو سمجھنے کی کوشش کریں

تاکہ ایسے مذاکرات بامقصد ثابت ہو سکیں ۔ تین رکنی پاکستانی وفد کے سربراہ ایڈیشنل سیکرٹری وزارت خارجہ محمد اعجاز نے جمعہ کواجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں یہ تسلیم کرنا چاہئے کہ یہ معاملہ ایک مشکل ہدف ہے کیونکہ یہ تمام فریقین کی جانب سے لچک بالخصوص اپنے سخت موقف کو چھوڑ کر بات چیت کیلئے آمدگی کا تقاضا کرتا ہے جس کیلئے کوئی پیشگی شرائط نہیں ہونی چاہئے تاکہ نئے تصورات اور امن کی کوششوں کو موقع میسر آ سکے۔ انہوں نے کہا کہ اس مشکل ہدف کے حصول کیلئے اعتماد اور خلوص کے ساتھ آگے بڑھنے سے راستہ آسان ہو جائیگا جو بامقصد اور باہم فائدہ مند ہو گا۔ انہوں نے کہا کہ وقت آن پہنچا ہے کہ تمام فریقین براہ راست اور واضح طو رپر ایک دوسرے کے موقف اور تحفظات کو سمجھنے کی کوشش کریں تاکہ ایسے مذاکرات بامقصد ثابت ہو سکیں ۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں یقین ہے کہ ذہن میں ان مقاصد کے ساتھ آج کا اجلاس ہمیں مستقبل کی راہ متعین کرنے کی جانب ایک اہم قدم ثابت ہو گا تاکہ تنازع کو ختم کرتے ہوئے طویل مدتی امن قائم کیا جا سکے اور افغانستان اور خطے کے لوگوں کیلئے خوشحالی ممکن ہو سکے ۔محمد اعجاز نے کہا کہ اجلاس کے شرکاء کو تجویز پیش کرتا ہوں کہ دیگر امور زیر غور لانے کے ساتھ ساتھ اس بنیادی سوال پر پر بھی توجہ مرکوز کریں کہ

افغانستان میں امن کا حصول کس طرح کیا جا رہا ہے،تنازع کے حل کیلئے ایک بین الافغان معاہدہ اور ایک بامقصد مفاہمتی امن عمل کی بنیاد فراہم کر سکتا ہے تاکہ امن عمل حقیقی شکل میں ڈھل سکے اور جس کیلئے علاقائی اور بین الاقوامی ضمانتیں اور حمایت ایک طویل مدتی اور پائیدار حل فراہم کرسکتی ہیں۔ پاکستانی وفد کے سربراہ نے اپنے خطاب میں کہا کہ پاکستان افغان مسئلے کے حل کی مسلسل حمایت کرتا رہا ہے اور

اس حوالے سے تمام کوششوں میں شامل رہا ہے تاکہ مسئلے کا پر امن حل تلاش کیا جا سکے ۔ انہوں نے کہا کہ اس حوالے سے ماسکو مشاورتی عمل چار فریقی رابطہ گروپ ہارٹ آف ایشیاء ۔استبول عمل ، ایس سی او رابطہ گروپ ، کابل عمل اور پاکستان افغانستان چین اور پاکستان افغانستان ترکی جیسے متعدد سہ فریقی اقدامات قابل ذکر ہیں ۔



کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)


1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…