جمعہ‬‮ ، 14 اگست‬‮ 2026 

شہباز شریف کی عدالت میں پیشی پر ن لیگی ارکان کو حاضری اور نعری بازی مہنگی پڑ گئی، جیبیں خالی، ایسا کام ہو گیا کہ کسی کے وہم و گمان میں بھی نہ ہوگا

datetime 29  اکتوبر‬‮  2018 |

لاہور (نیوز ڈیسک) پاکستان مسلم لیگ (ن) کے صدر و قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر میاں شہباز شریف کو احتساب عدالت میں جب پیش کیا گیا تو اس موقع پر لیگی رہنماؤں اور کارکنوں کی ایک بڑی تعداد موجود تھی اور انتہائی دھکم پیل ہو رہی تھی، اس موقع پر کارکن نعرے بازی میں مصروف تھے تو دوسری جانب جیب کترے اپنا کام کر رہے تھے، اس طرح لیگی کارکنوں اور رہنماؤں کو احتساب عدالت میں آنا مہنگا پڑ گیا،

جیب کترے نے خواجہ عمران نذیر کی جیب سے 10ہزار روپے نکال لیے ، اس کے علاوہ چئیرمین علی مجید بھی اپنا قیمتی موبائل جیب کترے کو دے بیٹھے، واضح رہے کہ قائد حزب اختلاف میاں شہباز شریف کے ٹھوس دلائل بھی احتساب عدالت کو مطمئن نہ کرسکے عدالت نے سات نومبر تک ریمانڈ میں توسیع کردی۔ شہباز شریف نے صحت کی سہولیات نہ ملنے اور فیملی سے ملاقات نہ کرنے پر عدالت میں شکوہ بھی کیا، کینسر کا مریض ہوں ، درخواست کے باوجود ٹیسٹ نہیں کروائے۔عدالت کے باہر لیگی کارکنوں نے احتجاج کیا، پولیس اور کارکنوں کے درمیان تصادم پر لاٹھی چارج بھی ہوا۔ لاہور کی احتساب عدالت میں آشیانہ اقبال میں تیسری پیشی ہوئی سابق وزیراعلیٰ پنجاب کو سخت سکیورٹی میں عدالت پہنچایا گیا۔ عدالت لگی تو شہباز شریف روسٹرم پر آگئے اور نیب پر برس پڑے، انہوں نے کہا کینسر کا مریض ہوں درخواست کے باوجود ٹیسٹ نہیں کرائے۔نیب کہتا ہے کہ اوپر بتا دیا ہے لیکن ابھی تک اوپر سے جواب نہیں۔ شہباز شریف نے اپنے ٹھوس دلائل میں کہا کہ نیب نے مجھے پانچ اکتوبر کو گرفتار کیا۔ صاف پانی میں بلایا اور آشیانہ میں گرفتار کیا۔ شہباز شریف کا کہنا تھا کہ میں کچھ حقائق عدالت کے سامنے پیش کرنا چاہتا ہوں.مجھے آج پچیس دن نیب کی تحویل میں ہوچکے ہیں۔ نیب نے آج تک آشیانہ ہاؤسنگ. صاف پانی. لیپ ٹاپ سمیت دیگر پراجیکٹس میں پوچھ گچھ کی ہے۔ دوران تفتیش ایک تفتیشی نے کہا کہ نماز پڑھ کر قتل جائز نہیں ہوتا.

میں نے جواب دیا کہ آپ مجھے زبردستی قصور وار ٹھہرا رہے ہیں. شہباز شریف نے کہا کہ ان کا تعلق کسی بھی قسم کی نیلامی سے نہیں..میں نے کیا جرم کیا ہے صوبے کیلئے خدمت ہے. شہباز شریف نے نیب کے رویے پر عدالت میں شعر کا مصرہ بھی پڑھا یہ کون بول رہا تھا خدا کے لہجے میں. شہباز شریف کے دلائل کے دوران نیب وکیل کے ٹوکنے پر عدالت نے نیب وکیل کو جھاڑ پلا دی اور شہباز شریف سے کہا کہ اپ اپنی بات کریں کھل کریں.

شہباز شریف نے مزید بتایا کہ دسمبر دو ہزار چودہ میں دوبارہ نیلامی کا عمل شروع ہوا. میں نے عقوبت خانے میں سب بتا دیا. میجر کامران کیانی سے متعلق پارلیمنٹ میں راز کھول چکا ہوں. میں عدالت میں. ثبوت کے ساتھ بات کرونگا. شہباز شریف نے عدالت میں پہلی نیلامی کے لیے ہونے والی میٹنگ کے میٹنگ منٹس عدالت میں پیش کردیئے۔ پچھلی مرتبہ میرے ریمانڈ کیلئے جو ڈھگوسلا لے کر آئے تھے وہ عدالت میں پڑھنا چاہتا ہوں۔ نیب نے عدالت کے سامنے ڈنڈی ماری۔

یہ عدالت کو سچ بھی نہیں بتاتے، ۔ قوم سے جھوٹ بولا، عدالت سے حقائق چھپائے۔ سابق وزیراعلیٰ نے عدالت سے کہا اس مقدمے میں آج تک نیب کچھ نہیں ڈھونڈ سکا۔ نیب کی جانب سے عدالت سے 15روزہ جسمانی ریمانڈ کی استدعا کی گئی،جس کی شہبازشریف کے وکیل نے مخالفت بھی کی ، عدالت نے فریقین کے دلائل سننے کے بعد فیصلہ محفوظ کیااور پھر کچھ دیر بعد فیصلہ سنادیا عدالت نے سابق وزیراعلیٰ کو سات نومبر تک جسماتی ریمانڈ پر نیب کے حوالے کردیا،تین روز ہ راہداری ریمانڈ بھی منظور کرلیا گیا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)


1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…