منگل‬‮ ، 13 جنوری‬‮ 2026 

حکومت کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک ،اپوزیشن جماعتوں میں کیا طے پایا؟ حیرت انگیز انکشاف، پیپلزپارٹی نے دھماکہ خیز اعلان کردیا

datetime 26  اکتوبر‬‮  2018 |

اسلام آباد(آئی این پی ) پاکستان پیپلزپارٹی کے سیکرٹری جنرل نیئر بخاری نے کہا ہے کہ حکومت کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک لانے کا حتمی فیصلہ نہیں ہوا،تحریک عدم اعتماد کی بات ضرور کی ہے لیکن حتمی فیصلہ نہیں،آل پارٹیز کانفرنس میں مختلف معاملات پر غور بعد حکمت عملی طے ہوگی۔

جمعہ کو صحافیوں کے وفد سے غیر رسمی گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ملکی نظام کو ڈی ریل نہیں کرنا چاہتے، نظام کو ڈی ریل کرنا چاہتے تو 2014 میں آسانی سے کر سکتے تھے،این آر او نہ ہوتا تو ملک میں جمہوریت بھی نہ ہوتی۔ ایک صحافی نے سوال کیا کہ زرداری صاحب کو گرفتار کرنے کی باتیں ہو رہی ہیں جس کے جواب میں نیئر بخاری نے کہا کہ زرداری صاحب کو گرفتار کرنا چاہتے ہیں تو کرلیں ان پر کوئی برائے راست الزام نہیں،پہلے تو بینک عملے سے اکاونٹ کی تفصیلات لی جائیں، اکاونٹ ہولڈر سے پوچھا جائے کہ یہ پیسے آخر کہاں سے آئے، قانون سب کے لئے برابر ہونا چاہئے۔ ایک اور صحافی نے سوال کیا کہ نوازشریف کا مستقبل کیسے دیکھ رہے ہیں کہ جواب میں انہوں نے کہا کہ نواز شریف کا مستقبل برا نہیں،انہوں نے کچھ بے قائدگیاں کیں ہیں ان کا مقابلہ کرنا پڑے گا، نواز شریف ملک کی پولیٹیکل فگر ہیں،نیئر بخاری نے کہا کہ حکومت کے خلاف الائنس بنانا نئی بات نہیں، اپوزیشن کی جماعتیں الائنسز بنتے رہتے ہیں۔ پاکستان پیپلزپارٹی کے سیکرٹری جنرل نیئر بخاری نے کہا ہے کہ حکومت کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک لانے کا حتمی فیصلہ نہیں ہوا،تحریک عدم اعتماد کی بات ضرور کی ہے لیکن حتمی فیصلہ نہیں،آل پارٹیز کانفرنس میں مختلف معاملات پر غور بعد حکمت عملی طے ہوگی۔جمعہ کو صحافیوں کے وفد سے غیر رسمی گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ملکی نظام کو ڈی ریل نہیں کرنا چاہتے

موضوعات:

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



سہیل آفریدی کا آخری جلسہ


وہ جنرل کے سامنے بیٹھا‘ تھوڑی دیر دائیں بائیں…

ذورین نظامانی غلط نہیں کہہ رہا

والد صاحب نے مجھے پکڑ لیا‘ ان کے ہاتھ میں جوتا…

پرسی پولس

شیراز ریجن کا اصل کمال پرسی پولس (Persepolis) ہے‘ یہ…

سائرس یا ذوالقرنین

میرے سامنے پتھروں کی مستطیل عمارت تھی‘ فرش کے…

ایک دن ذوالقرنین کے مقبرے پر

میدان کی پچھلی جانب پہاڑ تھے‘ ان پر تازہ برف…

کام یابی کے دو فارمولے

کمرہ صحافیوں سے بھرا ہوا تھا‘ دنیا جہاں کا میڈیا…

وزیراعظم بھینسیں بھی رکھ لیں

جمشید رتن ٹاٹا بھارت کے سب سے بڑے کاروباری گروپ…

جہانگیری کی جعلی ڈگری

میرے پاس چند دن قبل ایک نوجوان آیا‘ وہ الیکٹریکل…

تاحیات

قیدی کی حالت خراب تھی‘ کپڑے گندے‘ بدبودار اور…

جو نہیں آتا اس کی قدر

’’آپ فائز کو نہیں لے کر آئے‘ میں نے کہا تھا آپ…

ویل ڈن شہباز شریف

بارہ دسمبر جمعہ کے دن ترکمانستان کے دارالحکومت…