پیر‬‮ ، 21 ستمبر‬‮ 2026 

کرپٹ مافیا اربوں کی کرپشن کرکے باہر اپنی جائیدادیں خرید رہا ہے ،این آر او دور کی بات،اب کرپٹ افراد کے ساتھ کیا سلوک ہونا چاہئے؟آئینی و قانونی ماہرین نے بڑا مطالبہ کردیا

datetime 24  اکتوبر‬‮  2018 |

اسلام آباد (آن لائن) آئینی و قانونی ماہرین نے وزیراعظم پاکستان سے مطالبہ کیا ہے کہ این آر او تو دور کی بات اب تک لیئے جانے والے تمام تر قرضوں کا بھی حساب کرپٹ افراد سے لیا جانا چاہیے‘ ملک کا بچہ بچہ مقروض ہوچکا اور کرپٹ مافیا اربوں روپے کی کرپشن کرکے باہر اپنی جائیدادیں خرید رہا ہے۔ وزیراعظم کی تقریر ہر غریب فرد کے دل کی آواز ہے۔

ان خیالات کا اظہار گزشتہ روز مایہ ناز آئینی ماہر ایڈووکیٹ اظہر صدیق اور ایڈووکیٹ اشرف گجر نے کیا۔ ایڈووکیٹ اظہر صدیق کا کہنا تھا کہ موجودہ وزیراعظم نے اپنے حلف کی عین پاسداری کی ہے کرپٹ لوگوں کو کٹہرے میں کھڑا کرکے پائی پائی کا حساب لینا چاہیے۔ اور احتسابی عمل کو مزید طاقتور بنانے کیلئے اس ادارے میں سہولیات دینا چاہیں۔ وزیراعظم نے کرپٹ لوگوں کو بے نقاب کرکے آئین کے آرٹیکل چار او رپانچ پر عملدرآمد کیلئے پہلا قدم اٹھایا ہے۔ ہماری تو خواہش ہے کہ یہ سیاسی جماعتیں اقتدار سے قبل جو نعرے لگا کر آتی ہیں اس آئین میں بھی ترمیم کی جائے تاکہ آرٹیکل 62(1)F کی تحت نااہل کیا جائے۔ دوسری جانب معروف آئینی ماہر ایڈووکیٹ اشرف گجر کا کہنا ہے کہ قیام پاکستان سے لے کر اب تک ملک کو دونوں ہاتھوں سے لوٹا جارہا تھا اور جرائم پیشہ افراد ہمیشہ این آر او کے ذریعے بچ نکلنے میں کامیاب ہوجاتے تھے۔ وزیراعظم عمران خان کی گفتگو نہ صرف خوش آئند ہے بلکہ میں یقین دلاتا ہوں کہ پاکستان کا ہر غریب فرد کے دل کی آواز ہے۔ اس ہر پیدا ہونے والا بچہ ایک لاکھ بیس ہزار کا مقروض پیدا ہورہا ہے۔ قرضوں کے بوجھ تلے پلا انسان کبھی بھی اپنا آپ کو سنبھال نہیں پاتا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…