جمعہ‬‮ ، 25 ستمبر‬‮ 2026 

نواز شریف ٗمریم اور صفدر کی سزا معطلی کیخلاف نیب کی اپیل منظور،کیا پاکستان میں سزا معطلی میں 43 صفحات کے فیصلے کی کوئی مثال ہے؟چیف جسٹس ثاقب نثار نے بڑا حکم جاری کردیا

datetime 24  اکتوبر‬‮  2018 |

اسلام آباد(این این آئی)سپریم کورٹ آف پاکستان نے سابق وزیراعظم نواز شریف، ان کی صاحبزادی مریم نواز اور داماد کیپٹن ریٹائرڈ صفدر کی ایون فیلڈ ریفرنس میں سزائیں بحال کیے جانے سے متعلق قومی احتساب بیورو (نیب) کی اپیل سماعت کے لئے منظور کرلی ٗ فریقین کو نوٹسز جاری کردیئے گئے ٗمزید سماعت 6 نومبر کو ہوگی ۔ بدھ کو چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس ثاقب نثار کی سربراہی میں جسٹس مشیر عالم اور جسٹس مظہر عالم میاں خیل پر مشتمل سپریم کورٹ کے 3 رکنی خصوصی بینچ نے

نیب کی اپیل پر سماعت کی۔ نیب نے 22 اکتوبر کو دائر کی گئی اپنی اپیل میں عدالت عظمیٰ سے استدعا کی تھی کہ ایون فیلڈ ریفرنس میں نواز شریف، مریم نواز اور کیپٹن ریٹائرڈ محمد صفدر کی سزائیں معطل کرنے کا اسلام آباد ہائیکورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار دے کر ملزمان کی ضمانتیں منسوخ کی جائیں۔گزشتہ روز سپریم کورٹ نے نیب کی اپیل سماعت کیلئے مقرر کرتے ہوئے بینچ تشکیل دیدیا تھا۔ سماعت کے دور ان نیب کے وکیل جہانزیب بھروانہ نے موقف اختیار کیا کہ ایون فیلڈ ریفرنس میں احتساب عدالت نے 6 جولائی کو تینوں ملزمان کو سزا دی ٗسابق وزیر اعظم نواز شریف کو 10 سال، مریم نواز کو 7 اور کیپٹن صفدر کو ایک سال سزا سنائی گئی، حکم امتناع کی درخواستوں میں مرکزی مقدمہ کے شواہد پر دلائل نہیں دئیے جا سکتے بلکہ حکم امتناع کے مقدمے میں مخصوص حالات کا ذکر ہو سکتا ہے۔سپریم کورٹ نے نیب کی اپیل سماعت کے لیے منظور کرتے ہوئے نواز شریف اور مریم نواز کو چھ نومبر کیلئے نوٹس جاری کردئیے تاہم کیپٹن (ر) صفدر کو نوٹس جاری نہیں کیا۔چیف جسٹس نے نیب کے وکیل سے پوچھا کہ ملزمان کو کس ریفرنس نمبر میں سزائیں ہوئیں؟۔ وکیل نیب نے بتایا کہ ریفرنس نمبر دو ایون فیلڈ ریفرنس میں سزا سنائی گئی جو سترہ اکتوبر 2017 کو دائر کیا گیا تھا۔ سپریم کورٹ نے نیب کی درخواست پر کیپٹن صفدر کو نوٹس جاری نہیں کیا اور کہا کہ

ان کی سزا بہت کم ہے۔چیف جسٹس نے کہا کہ کیا نیب کیپٹن صفدر کیخلاف درخواست پر بھی دلائل دیگا ٗ انہیں تو صرف ایک سال کی سزا ہوئی ہے، کیپٹن صفدر سے متعلق فیصلے کو کیسے معطل کر دیں ٗ نواز شریف اور مریم نواز کو نوٹس جاری کر رہے ہیں۔ کیس کی سماعت چھ نومبر تک ملتوی کردی گئی۔چیف جسٹس نے کہا کہ اسلام آباد ہائی کورٹ نے کتنے صفحات پر فیصلہ دیا ہے ٗ وہ حصہ پڑیں جہاں مقدمہ کے شواہد کا تذکرہ ہو، کیا پاکستان میں سزا معطلی میں 43 صفحات کے فیصلے کی کوئی مثال ہے؟، کسی سیانے کو کہیں شاید سزا معطلی پر اتنا لمبا فیصلہ ڈھونڈ دے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…