پیر‬‮ ، 21 ستمبر‬‮ 2026 

میرے شوہر کی جائیداد قرق کرنی ہے تو کرو مگر میرا گھر۔۔ اسحاق ڈار کی اہلیہ نے نیب کو بڑا سرپرائز دیدیا

datetime 24  اکتوبر‬‮  2018 |

اسلام آباد(نیوز ڈیسک ) سابق وزیر خزانہ ا سحاق ڈار کی اہلیہ نے جائیداد صوبائی حکومت کی تحویل میں دینے کا فیصلہ احتساب عدالت میں چیلنج کر تے ہوئے کہا ہے کہ ملزم اسحاق ڈارہیں، میری ملکیت والا گھر ضبط نہیں کیا جاسکتا ، عدالت نے نیب پراسیکیوٹرعمران شفیق سے سات نومبرکودلائل طلب کر لئے۔تفصیلات کے مطابق آمدن سے زائد اثاثوں کے مقدمے میں مفروراسحاق ڈار کی

جائیداد صوبائی حکومت کی تحویل میں دینے کے معاملے پر ملزم اسحاق ڈار کی اہلیہ نے احتساب عدالت میں اعتراضات دائرکر دیے۔تبسم اسحاق ڈار نے موقف اختیار کیا ہے کہ ملزم اسحاق ڈارہیں، لاہوروالا گھر تو میری ملکیت ہے، میری ملکیت والا گھر ضبط نہیں کیاجاسکتا۔تبسم اسحاق نے کہا گھر چودہ فروری انیس سو نواسی کو اسحاق ڈار نے حق مہر کے عوض گفٹ کیا، لاہور والے گھر کی میں اکیلی مالک ہوں، گلبرگ لاہور والا گھر حکومتی تحویل میں جانے سے میرا نقصان ہوگا۔ہجویری فانڈیشن کی جانب سے بھی بینک اکانٹ سے متعلق اعتراضات بھی دائر کئے گئے، جس میں کہا گیا ہے کہ اسحاق ڈار کے نام کا ایک اکانٹ ہمارا ہے، فانڈیشن کو اکانٹس میں موجود فنڈز استعمال کرنے کی اجازت دی جائے۔عدالت نے اسحاق ڈار کی اہلیہ کی درخواست پر نیب کو نوٹس جاری کرتے ہوئے اعتراضات کی کاپی نیب پراسیکیوٹر عمران شفیق کو فراہم کرتے ہوئے سات نومبر کو دلائل طلب کرلئے۔ ملزم اسحاق ڈار کی اہلیہ نے احتساب عدالت میں اعتراضات دائرکر دیے۔تبسم اسحاق ڈار نے موقف اختیار کیا ہے کہ ملزم اسحاق ڈارہیں، لاہوروالا گھر تو میری ملکیت ہے، میری ملکیت والا گھر ضبط نہیں کیاجاسکتا۔تبسم اسحاق نے کہا گھر چودہ فروری انیس سو نواسی کو اسحاق ڈار نے حق مہر کے عوض گفٹ کیا، لاہور والے گھر کی میں اکیلی مالک ہوں، گلبرگ لاہور والا گھر حکومتی تحویل میں جانے سے میرا نقصان ہوگا۔ہجویری فانڈیشن کی جانب سے بھی بینک اکانٹ سے متعلق اعتراضات بھی دائر کئے گئے، جس میں کہا گیا ہے کہ اسحاق ڈار کے نام کا ایک اکانٹ ہمارا ہے، فانڈیشن کو اکانٹس میں موجود فنڈز استعمال کرنے کی اجازت دی جائے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…