ہفتہ‬‮ ، 05 اپریل‬‮ 2025 

’’داسو ڈیم بننے سے پہلے ہی بڑی مشکل کھڑی‘‘ مقامی لوگوں نے ایسا کام شروع کردیا جو کسی کے وہم و گمان میں بھی نہ تھا،راتوں رات لکھ پتی بننے کیلئے کیا کچھ ہونے لگا؟

datetime 24  اکتوبر‬‮  2018
ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

اسلام آباد ( آن لائن )خیبرپختونخوا کے ضلع کوہستان میں داسو ہائیڈرو پاور پروجیکٹ کیلئے جگہ کا حصول حکومت کیلئے ایک مشکل عمل بن گیا۔ حکومت سے بڑی رقم بٹورنے کیلئے مقامی لوگوں نے داسو کے علاقے میں سرمایہ کاری شروع کردی، جیسا کہ دیامر بھاشا ڈیم کی جگہ پر لوگوں کی املاک موجود تھیں اور انہوں نے حکومت سے اپنی املاک چھوڑنے کے لیے بھاری معاوضہ وصول کیا تھا۔

لوگوں کی املاک کی وجہ سے واپڈا کے لیے داسو کے علاقے میں تعمیراتی کام کرنا مشکل ہوگیا، تاہم انہوں نے وفاقی حکومت سے اس کو فوری حاصل کرنے کیلئے درخواست کی ہے، کیونکہ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اس کی لاگت میں بھی اضافہ ہوتا جائے گا۔اس وقت واپڈا کو سگلو، کاس اور شیخ آباد کے علاقے میں فوری طور پر 500 ایکڑ زمین درکار ہے جہاں تعمیراتی کام کا آغاز کیا جائے گا، لیکن ان علاقوں میں جیسے ہی زمین حاصل کرنے کے لیے لوگوں سے رابطہ کرنے کی کوشش کی جاتی ہے تو وہ مارو یا مر جاؤ کی صورتحال پیدا کردیتے ہیں۔اس صورتحال کو بد سے بدتر بنانے میں ایک اور عنصر یہ بھی شامل ہے کہ جن لوگوں کو دیامر بھاشا ڈیم کے لیے اپنی جگہ دینے کے لیے حکومت سے معاوضہ حاصل کیا تھا اب داسو ڈیم میں بھی حکومت سے معاوضہ لینے کے لیے داسو کے علاقے میں بھی ان لوگوں نے سرمایہ کاری شروع کردی۔سرکاری ذرائع نے میڈیاکو بتایا کہ لوگوں نے سگلو، کاس اور شیخ آباد کے علاقے میں عمارتیں اور دیگر انفرا انسٹرکچر بنانا شروع کردیا، تاکہ حکومت سے داسو ڈیم کے سلسلے میں بھاری معاوضہ وصول کیا جائے۔واپڈا حکام کے مطابق حالیہ ملاقات کے دوران وزیراعظم عمران خان کے سامنے یہ معاملہ اٹھایا گیا تھا اور درخواست کی گئی تھی کہ زمین حاصل کرنے کو یقینی بنایا جائے۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ لوگ حکومت سے ان کی زمین اور اس کے معاوضے کی قیمت کو تبدیل کرنے کے لیے مطالبے کر رہے ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ وزیراعظم عمران خان نے واپڈا حکام کو یقین دہانی کروائی تھی کہ وہ اس معاملے کو بہت جلد حل کر لیں گے۔ذرائع کے مطابق واپڈا کو پورے منصوبے کے لیے 9 ہزار 8 سو 75 ایکڑ کی ضرورت ہے، جس میں ابتدائی طور پر 2 ہزار ایکڑکی ضرورت ہے جہاں سول ورک اور کالونی کی تعمیرات شروع کی جائیں گی، جبکہ اس کے بعد 7 ہزار 8 سو 88 ایکڑ کی ضرورت ہوگی جہاں ریزروائر اور دیگر تعمیرات کی جائیں گی۔

موضوعات:



کالم



چانس


آپ مورگن فری مین کی کہانی بھی سنیے‘ یہ ہالی ووڈ…

جنرل عاصم منیر کی ہارڈ سٹیٹ

میں جوں ہی سڑک کی دوسری سائیڈ پر پہنچا‘ مجھے…

فنگر پرنٹس کی کہانی۔۔ محسن نقوی کے لیے

میرے والد انتقال سے قبل اپنے گائوں میں 17 کنال…

نارمل معاشرے کا متلاشی پاکستان

’’اوئے پنڈی وال‘ کدھر جل سیں‘‘ میں نے گھبرا…

آپ کی امداد کے مستحق دو مزید ادارے

یہ2006ء کی انگلینڈ کی ایک سرد شام تھی‘پارک میںایک…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے (دوسرا حصہ)

بلوچستان کے موجودہ حالات سمجھنے کے لیے ہمیں 1971ء…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے؟ (پہلا حصہ)

قیام پاکستان کے وقت بلوچستان پانچ آزاد ریاستوں…

اچھی زندگی

’’چلیں آپ بیڈ پر لیٹ جائیں‘ انجیکشن کا وقت ہو…

سنبھلنے کے علاوہ

’’میں خانہ کعبہ کے سامنے کھڑا تھا اور وہ مجھے…

ہم سیاحت کیسے بڑھا سکتے ہیں؟

میرے پاس چند دن قبل ازبکستان کے سفیر اپنے سٹاف…

تیسری عالمی جنگ تیار(دوسرا حصہ)

ولادی میر زیلنسکی کی بدتمیزی کی دوسری وجہ اس…