جمعرات‬‮ ، 06 اگست‬‮ 2026 

’’داسو ڈیم بننے سے پہلے ہی بڑی مشکل کھڑی‘‘ مقامی لوگوں نے ایسا کام شروع کردیا جو کسی کے وہم و گمان میں بھی نہ تھا،راتوں رات لکھ پتی بننے کیلئے کیا کچھ ہونے لگا؟

datetime 24  اکتوبر‬‮  2018 |

اسلام آباد ( آن لائن )خیبرپختونخوا کے ضلع کوہستان میں داسو ہائیڈرو پاور پروجیکٹ کیلئے جگہ کا حصول حکومت کیلئے ایک مشکل عمل بن گیا۔ حکومت سے بڑی رقم بٹورنے کیلئے مقامی لوگوں نے داسو کے علاقے میں سرمایہ کاری شروع کردی، جیسا کہ دیامر بھاشا ڈیم کی جگہ پر لوگوں کی املاک موجود تھیں اور انہوں نے حکومت سے اپنی املاک چھوڑنے کے لیے بھاری معاوضہ وصول کیا تھا۔

لوگوں کی املاک کی وجہ سے واپڈا کے لیے داسو کے علاقے میں تعمیراتی کام کرنا مشکل ہوگیا، تاہم انہوں نے وفاقی حکومت سے اس کو فوری حاصل کرنے کیلئے درخواست کی ہے، کیونکہ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اس کی لاگت میں بھی اضافہ ہوتا جائے گا۔اس وقت واپڈا کو سگلو، کاس اور شیخ آباد کے علاقے میں فوری طور پر 500 ایکڑ زمین درکار ہے جہاں تعمیراتی کام کا آغاز کیا جائے گا، لیکن ان علاقوں میں جیسے ہی زمین حاصل کرنے کے لیے لوگوں سے رابطہ کرنے کی کوشش کی جاتی ہے تو وہ مارو یا مر جاؤ کی صورتحال پیدا کردیتے ہیں۔اس صورتحال کو بد سے بدتر بنانے میں ایک اور عنصر یہ بھی شامل ہے کہ جن لوگوں کو دیامر بھاشا ڈیم کے لیے اپنی جگہ دینے کے لیے حکومت سے معاوضہ حاصل کیا تھا اب داسو ڈیم میں بھی حکومت سے معاوضہ لینے کے لیے داسو کے علاقے میں بھی ان لوگوں نے سرمایہ کاری شروع کردی۔سرکاری ذرائع نے میڈیاکو بتایا کہ لوگوں نے سگلو، کاس اور شیخ آباد کے علاقے میں عمارتیں اور دیگر انفرا انسٹرکچر بنانا شروع کردیا، تاکہ حکومت سے داسو ڈیم کے سلسلے میں بھاری معاوضہ وصول کیا جائے۔واپڈا حکام کے مطابق حالیہ ملاقات کے دوران وزیراعظم عمران خان کے سامنے یہ معاملہ اٹھایا گیا تھا اور درخواست کی گئی تھی کہ زمین حاصل کرنے کو یقینی بنایا جائے۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ لوگ حکومت سے ان کی زمین اور اس کے معاوضے کی قیمت کو تبدیل کرنے کے لیے مطالبے کر رہے ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ وزیراعظم عمران خان نے واپڈا حکام کو یقین دہانی کروائی تھی کہ وہ اس معاملے کو بہت جلد حل کر لیں گے۔ذرائع کے مطابق واپڈا کو پورے منصوبے کے لیے 9 ہزار 8 سو 75 ایکڑ کی ضرورت ہے، جس میں ابتدائی طور پر 2 ہزار ایکڑکی ضرورت ہے جہاں سول ورک اور کالونی کی تعمیرات شروع کی جائیں گی، جبکہ اس کے بعد 7 ہزار 8 سو 88 ایکڑ کی ضرورت ہوگی جہاں ریزروائر اور دیگر تعمیرات کی جائیں گی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)


میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…

پاکستان کا المیہ

شاہ جہاں 1626ء میں اپنے والد جہانگیر کے خلاف آخری…