پیر‬‮ ، 21 ستمبر‬‮ 2026 

ہم آپ کے لئے یہ کام نہیں کرسکتے،سعودی حکومت نے پاکستان کوصاف انکارکردیا،سعودی سفارت خانہ نے وضاحت جاری کردی

datetime 23  اکتوبر‬‮  2018 |

فیصل آباد(آن لائن )سعودی حکومت نے دو ہزار ریال عمرہ فیس کے خاتمے کی مکہ ایوانِ صنعت وتجارت کی تجویزکومسترد کردیا جبکہ اکتوبر 2016کے بعدعمرہ کی سعادت حاصل کرنے والوں اور اس کے بعد ہر دو سال بعد دو ہزار ریال فیس ادا کرنا ہو گا۔سعودی حکومت کا فیصلہ برقرار ہے خبریں بے بنیاد ہیں آن لائن سے گفتگو کرتے ہوئے حج آرگنائزرز ایسوسی ایشن آف پاکستان کے سابق چیئرمین حافظ شفیق کاشف نے

دورہ سعودی عرب سے واپسی پر بتایا کہ دو ہزار ریال عمرہ فیس کے خاتمے کے سلسلہ میں پاکستان میں سعودی سفارت خانہ نے وضاحت جاری کردی ہے۔ کہ مکہ ایوانِ صنعت وتجارت نے بھی عمرہ فیس ختم کرنے کی سفارش کی تھی جسے مسترد کردیا گیاتھااور اب سعودی حکومت کی طرف سے یہ واضح کردیا گیا ہے کہ دو ہزار ریال فیس کے خاتمے کی کوئی تجویز زیر غور نہیں ہے اکتوبر 2016کے بعدعمرہ کی سعادت حاصل کرنے والوں اور اس کے بعد ہر دو سال بعد دو ہزار ریال فیس ادا کرنا ہو گا۔ حافظ شفیق کاشف نے کہا کہ انہوں نے اپنے دورہ سعودی عرب میں اعلیٰ سرکاری و غیر سرکاری شخصیات کے سامنے اپنا موقف پیش کیا کہ پاکستان کی عمرہ انڈسٹری دو ہزار ریال فیس سے شدید متاثر ہوئی ہے لہٰذا اس پر نظر ثانی کی جائے تاہم سعودی حکام نے اس بات کی سختی سے تردیدکی کہ سعودی حکومت نے کسی بھی مرحلہ پر اس میں نظر ثانی کی یقین دہانی کروائی ہے لہٰذا سوشل میڈیا میں آنے والی ایسی سب خبریں اور اطلا عات بے بنیاد ہیں۔ حافظ شفیق کاشف نے سعودی عرب کے نجی شعبے کے ساتھ مل کر موجودہ صورت حال پر مشترکہ لائحہ عمل اختیار کرنے اور عمرہ زائرین کو اضافی بوجھ سے بچانے کے لیئے حکمتِ عملی تیار کرنے پر زور دیا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…