پیر‬‮ ، 21 ستمبر‬‮ 2026 

منی لانڈرنگ کیس، بڑی سیاسی جماعت کے اہم رہنماؤں کے گرد گھیرا تنگ،50افراد نے اربوں روپے لندن بھیجے، ایسے نام سامنے آگئے کہ کسی کے وہم و گمان میں بھی نہ ہوگا

datetime 23  اکتوبر‬‮  2018 |

کراچی(آئی این پی)منی لانڈرنگ کیس میں متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) رہنماؤں کے کھاتے بھی کھل گئے ہیں۔ ذرائع کے مطابق ایف آئی اے نے منی لانڈرنگ کیس میں ایم کیو ایم کے چار رہنماؤں کے بیانات ریکارڈ کر لیے ہیں۔ بابر غوری، روف صدیقی، نسرین جلیل اور وسیم اختر سمیت پچاس افراد نے اربوں روپے لندن بھجوائے جبکہ سہیل منصور اور ارشد وہرا کے اکاونٹس سے بڑی ٹرانزیکشنز کا انکشاف ہوا ہے۔ایف اائی اے ذرائع کا کہنا ہے کہ مجموعی طور پر 14 سال میں 700 ٹرانزیکشنز کی گئیں

جن میں سے 500 کے قریب ٹرانزیکشنز بے نامی یا فرضی ناموں سے کی گئیں۔ اس کے علاوہ لندن رقم بھجوانے والے 200 افراد کے مکمل کوائف بھی مل چکے ہیں۔ دریں اثناء انسداد دہشت گردی کی عدالت نے اشتعال انگیز تقریر کے 21 مقدمات میں ایم کیو ایم رہنماؤں پر فرد جرم عائد کردی۔منگل کو انسداد دہشت گردی کی عدالت میں اشتعال انگیز تقریر کے 26مقدمات کی سماعت کے موقع پر21 مقدمات میں فارق ستار، خواجہ اظہار، رؤف صدیقی، قمر منصور اور ریحان ہاشمی سمیت ایم کیو ایم کے رہنماؤں پر فرد جرم عائد کی گئی جب کہ عامر خان پر فرد جرم عائد نہیں کی گئی اور ان کی ضمانت میں توثیق کردی گئی۔دوران سماعت عدالت نے استفسار کیا کہ جولائی 2015 میں اشتعال انگیز تقریر میں سہولت کاری کا الزام ہے، کیا آپ کو جرم قبول ہے جس پر فاروق ستار اور مئیر کراچی سمیت دیگر نے یک زبان ہوکر اپنے جرم سے انکار کردیا جس پر عدالت نے آئندہ سماعت پر گواہان کو طلب کرلیا۔وکیل صفائی نے موقف اختیار کیا کہ ایف آئی آر،گواہوں کے بیانات اور عدالتی ریکارڈ میں الگ الگ موقف ہے۔ عدالت کا آئندہ سماعت پر وکیل صفائی کو دلائل مکمل کرنے کا حکم دیتے ہوئے کیس کی سماعت 5 نومبر تک ملتوی کردی جب کہ ائندہ سماعت پر مزید 4 مقدمات میں فرد جرم عائد کی جائے گی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…