پیر‬‮ ، 21 ستمبر‬‮ 2026 

پنجاب پر کتنا قرض ہے؟شہباز شریف عالمی اداروںسے کس شعبے میں سب سے زیادہ قرضہ لیتے رہے؟اس شعبے کی آج کیا حالت ہے؟جان کر آپ کو بھی یقین نہیں آئیگا

datetime 22  اکتوبر‬‮  2018 |

لاہور (نیوز ڈیسک)پنجاب پر ایک سال کے عرصہ میں قرضوں کے بوجھ میں ایک کھرب 34کروڑ60لاکھ روپے کااضافہ ہو گیا۔نجی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق پنجاب پر قرضوں کا بوجھ 81فیصد امریکی ڈالروں میں ہے۔قرضوں کاحجم جون 2017ء میں پانچ کھرب 58کروڑ 70لاکھ 80ہزار روپے تھا جو جون 2018ء میں بڑھ 6کھرب 92ارب 75لاکھ روپے تک پہنچ گیا ہے ۔

ایک سال کے عرصہ میں قرضوں کے بوجھ میں مجموعی طورپر 22.5فیصد اضافہ ہوا ۔رپورٹ کے مطابق روپے کی قدر میں کمی کیوجہ سے 15.8فیصد اضافہ ہوا ۔جون 2017ء سے جون 2018ء تک قرضوں پر سود اور اصل رقم کی مد میں 43ارب 46کروڑ روپے کی ادائیگی کی گئی۔جنوری 2018ء سے دسمبر2018ء تک مجموعی طورپر رواں سال 47ارب 28کروڑ 40لاکھ روپے کی ادائیگی کرنا ہے ،پنجاب میں ماضی کی حکومتوں نے سب سے زیادہ قرضہ آبپاشی ،گورنس ،ٹرانسپورٹ اور زراعت کے شعبہ میں حاصل کئے۔ رپورٹ کے مطابق پنجاب نے زراعت اورلائیوسٹاک کے شعبہ میں 55 ارب 33کروڑ 90لاکھ روپے کے قرضے واپس ادا کرناہیں ۔آبپاشی کے شعبہ میں ایک کھرب 49کروڑ 5لاکھ ،انرجی کے شعبہ میں 8ارب 87کروڑ جبکہ اربن اینڈ کمیونٹی ڈویلپمنٹ کی مد میں 67ارب 38کروڑ 60لاکھ روپے کے قرضے ادا کرنا ہیں ۔رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ صحت کیشعبہ میں 9ارب 9کروڑ 10لاکھ روپے کے قرضے واپس ادا کرنا ہیں ،ٹرانسپورٹ اور کمیونیکشن کے شعبہ میں 1کھرب 29ارب 78کروڑ 10لاکھ روپے کے قرضے ادا کرنا ہیں ۔انڈسٹری کے شعبہ میں 5ارب 86کروڑ 50لاکھ ،گورنس کی مد میں 44ارب 42کروڑ 20لاکھ روپے اورکیش ڈویلمپنٹ لونز کی مد میں 64ارب 69کروڑ 90لاکھ روپے کے قرضے واپس ادا کرنا ہیں

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…