پیر‬‮ ، 21 ستمبر‬‮ 2026 

پولیس نے صائمہ کے قتل میں ملوث اس کے شوہر اور دیور کو گرفتار کرلیا،شوہر نے بیوی کو قتل کیوں کیا،انتہائی افسوسناک وجہ سامنے آگئی

datetime 21  اکتوبر‬‮  2018 |

کراچی(آئی این پی) سکھن پولیس نے صائمہ کے قتل میں ملوث اس کے شوہر اور دیوار کو گرفتار کرلیا، ملزم شوہر نے اپنے بھائی کے ساتھ ملکر دو دن قبل بیوی کو تشدد کا نشانہ بنانے کے بعد قتل کردیا تھا۔سکھن تھانے کی حدود روڈ نمبر9 کے قریب رہائش پذیر عاشق علی نے اپنے حقیقی بھائی شوکت کی مدد سے بیوی صائمہ کو تشدد کا نشانہ بنانے کے بعد قتل کردیا تھا

پولیس واقعے کے مقدمہ درج کرنے سے گریز کر رہی تھی اہلخانہ نے جمعے کو لاش پریس کلب کے باہر رکھ کر احتجاج کیا پولیس کی یقین دہانی کے بعد مظاہرین پرامن طور پر منتشر ہوگئے تھے۔ سکھن پولیس نے مقتولہ کے بھائی ساجد علی مدعیت میں قتل اور تشدد کا مقدمہ درج کرکے ملزم شوہر عاشق علی اور اس کے بھائی شوکت کو گرفتار کرلیا، مقتولہ کے گھروالوں کو کہنا ہے صائمہ کی 4سال قبل رشتے دار عاشق علی سے شادی ہوئی تھی جس سے 3 بچے ہیں ان میں 2بیٹے اور ایک بیٹی شامل ہیں ملزم اپنا نومولود بچہ رشتے دار کو دینا چاہتا تھا جس پر بچے کی ماں کا اس سے جھگڑا ہوگیا ،ملزم نے اپنے بھائی کے ساتھ مل کر صائمہ کو قتل کردیا۔جناح اسپتال کی لیڈی ایم ایل او نے پوسٹ مارٹم کے بعد بتایا تھا مقتولہ کے جسم پر تشدد کا بظاہرکوئی کا نشان نہیں ہے۔  سکھن پولیس نے صائمہ کے قتل میں ملوث اس کے شوہر اور دیوار کو گرفتار کرلیا، ملزم شوہر نے اپنے بھائی کے ساتھ ملکر دو دن قبل بیوی کو تشدد کا نشانہ بنانے کے بعد قتل کردیا تھا۔سکھن تھانے کی حدود روڈ نمبر9 کے قریب رہائش پذیر عاشق علی نے اپنے حقیقی بھائی شوکت کی مدد سے بیوی صائمہ کو تشدد کا نشانہ بنانے کے بعد قتل کردیا تھا پولیس واقعے کے مقدمہ درج کرنے سے گریز کر رہی تھی اہلخانہ نے جمعے کو لاش پریس کلب کے باہر رکھ کر احتجاج کیا پولیس کی یقین دہانی کے بعد مظاہرین پرامن طور پر منتشر ہوگئے تھے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…